TRANSLATION OF QURAN
BY:
DR. QAMAR ZAMAN
Arabic Font: Ayyat No: 
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اس خواہش کے بعد جو ایک انسان کے دل میں پیدا ہوئی کہ اگر تمام جہان میں نظام ربوبیت موجود ہے تو انسانوں کے درمیان اس نظام کا فقدان کیوں؟ انسانوں کو بھی تو ایک ایسا نظام ملنا چاہئے جسے الصراط المستقیم کہا جا سکے!۔۔چنانچہ اس کے لیے ایک ایسے قانون کی نشان دہی کی گئی جو اس کی خواہش کے عین مطابق ہے۔
1
الم
الم
قرآن میں  ا ل م  اور ایسے ہی دیگر حروف کے متعلق جو مختلف سورۃکے شروع میں وارد ہوئے ہیں، ابھی کوئی حتمی رائے دینا ممکن نہیں ہے۔ وہ اس لیے کہ ان کا مفہوم بھی دشمنان اسلام کی سازشوں کی نذر ہو گیا ہے، تاہم ایک بات یقینی ہے کہ ان کو صرف حروف نہیں کہنا چاہئے، اس لیے کہ اکثر مقامات پر ان کے بعدآیت کا نشان ملتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان مقامات پر یہ صرف حروف نہیں بلکہ آیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہم پر لازم ہے کہ ان آیات کو سمجھنے کی لگاتار کوشش جاری رکھیں، یقیناً یہ عقدہ بھی حل ہو جائے گا۔
 
2
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ
وہ کتاب ہے ۔۔۔۔کہ جس میں کوئی شک نہیں، متقی بننے کے لیے ہدایت ہے۔
مباحث:۔  
لفظ  متقی  کا مادہ " و ق ی"  ہے جس کے بنیادی معنی ہیں "بچنا"۔ قرآن کی اصطلاح میں  "و ق ی"  کے معنی ہیں.... "اُ س برے انجام سے بچنا جو احکام الٰہی کی معصیت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتے ہیں"۔... اسی بات کو دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’’ مملکت الہیہ کےاحکامات کے تابع ہونا یا ہم آہنگ ہونا تاکہ انسان برائی سے بچتے ہوئے اس کے برے انجام سے بھی بچ سکے‘‘۔  
اس مقام پر لفظ  للمتقین  کا ترجمہ "متقی بننے کے لیے" کیا گیا ہے۔ وہ اس لیے کہ  للمتقین  میں"لام" بطور "لام غایت" ہے۔ متقی کی صفات کے لیے دیکھئے، اسی سورۃ کی آیت ۱۷۷ اور سورۃ المائدہ کی آیت ۲۔  
آئندہ ترجمہ میں لفظ  متقی  کا ترجمہ بطور لفظ نہیں کیا جا ئے گا بلکہ اصطلاح کے طور پر متقی ہی کیا جائے گا۔
 
3
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
متقی وہ لوگ ہیں جو قدرت کے پیمانوں کے ذریعے امن قائم کرتے ہیں یعنی قرآنی احکامات کے تحت نظام قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں ضروریات زندگی عطا کی ہیں اس کو بھلائی کے لیے خرچ کرتے ہیں۔
مباحث :۔  
 يُؤْمِنُونَ : باب افعال سے جمع مذکر غائب مضارع کا صیغہ ہے۔ مادہ " ا م ن " معنی ’’امن، سلامتی‘‘۔ اس لیے  يُؤْمِنُونَ  کے معنی ہوئے "وہ لوگ جو امن میں رہتے ہوئے دوسروں کو امن دیتے ہیں"۔  
ایمان لانا ایک عجیب چیز ہے۔ اگر کہا جائے وہ لوگ یقین رکھتے ہیں تو سوال ہوگا کہ "یقین" کا لفظ کیوں نہیں استعمال کیا گیا؟ جبکہ مادہ " و ق ن " سے بننے والے دیگر الفاظ قرآن میں موجود ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ مفسرین یہ چاہتے ہی نہ تھے کہ اسلام کو ایک امن اور سلامتی کے طریقۂ زندگی کے طور پر پیش کیا جاتا۔  
سب سے بڑا سوال ہو گا کہ کسی کے ماننے کا پتہ کیسے چلے گا؟ کس کو منواناہے ۔۔۔۔؟ خدا کو ۔۔۔۔یا خدا کی مخلوق کو ۔۔!!  
خدا کو تو ضرورت نہیں کہ اس کو بتایا جائے، اس کو تو ویسے ہی معلوم ہونا چاہئے کیونکہ وہ خدا ہے ۔۔  
اور اگر انسانوں کو یقین دلانے کے لیے ہے تو انسانوں کے پاس کوئی طریقہ نہیں کہ کسی کے دل کی سچی یا جھوٹی بات کی تصدیق کی جا سکے۔  
آئیے سورہ  الحشر   مطالع کرتے ہیں ۔ جس کی آیت نمبر ۲۳ کے مختلف مترجمین کے تراجم حاضر ہیں ۔  
 هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ    
وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ نہایت پاک سلامتی دینے والا امان بخشنے والا حفاظت فرمانے والا عزت والا عظمت والا تکبر والا اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے،( احمد رضا خان صاحب )  
وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سراسر سلامتی، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا، اور بڑا ہی ہو کر رہنے والا پاک ہے اللہ اُس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں (ابو الا علی مودودی )  
وہی الله ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ پاک ذات سلامتی دینے والا امن دینے والا نگہبان زبردست خرابی کا درست کرنے والا بڑی عظمت والا ہے الله پاک ہے اس سے جو اس کے شریک ٹھیراتے ہیں( مولانا احمد علی )  
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ بلا استثنیٰ تمام مترجمین نے مومن کے معنی امن دینے والا کیا ہے ۔پھر کیا وجہ ہے کہ مومن کے غلط معنی کرکے لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے ۔
 
4
وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
اور وہ لوگ ان احکام کے ذریعے جو تم کو دیئے گئے یعنی وہی جو تم سے پہلے بھی دیئے گئے، امن قائم کرتے ہیں اور مکافات عمل پر یقین رکھتے ہیں۔
مباحث:۔  
وحی الٰہی جو قوانین قدرت کی عکاس ہے ہمیشہ ایک ہی رہی ہے اور ایک ہی رہے گی۔،قدرت کے قوانین نہ بدلے ہیں نہ بدلیں گے ۔ دیکھئے سورۃشوریٰ کی آیت ۱۳۔ اس لیے جو احکام قرآنی ہم کو ملے ہیں وہ ہوبہو وہی ہیں جو پہلے انبیاء کو ملے تھے۔  
 شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّـهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ (تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا نوح کو حکم دیا تھا اور اسی راستہ کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اور اسی کا ہم نے ابراھیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا کہ اسی دین پر قائم رہو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا ۔)  
یہ ہے ہمارے مجوسی مفسرین کی قرآن میں تحری کی ایک مثال جسکی وجہ سے ایک ہی شریعت کو کبھی محمدی شریعت کہا جاتا ہے کبھی موسوی شریعت اور کبھی پہلوں کی شریعت ۔
 
5
أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پالنہار کی نظر میں ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔
 
6
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اس نظام ربوبیت کا انکار کیا ان کے لیے برابر ہے کہ تم ان کو برے انجام سے پیش آگاہ کرو یا نہ کرو، وہ امن قائم کرنے والے نہیں۔
 
7
خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
ان کے اذہان اورسوچ پر قوانین قدرت نے مہر لگا دی ہے، اور ان کی بصیرت پر پردہ ہے اور ان کے لیے ایک عظیم عذاب ہے۔
مباحث:۔  
دل سے مراد سینے میں موجود دل نہیں ہے بلکہ انسان کی سوچ بچار کی صلاحیت ہے، کان سے مراد دوسرے کی بات سننا اور دیکھنے سے مراد مشاہدہ ہے۔  
 
8
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ
اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اقدار الٰہی کے ذریعے امن میں رہتے ہیں اور مکافات عمل کے ظہور کے وقت بھی امن میں رہنے والے ہوں گےلیکن یہ لوگ امن والے نہیں۔
 
9
يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
یہ مملکت خداداد اور اہل امن کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن یہ توصرف اپنے ہی لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور یہ بے شعور ہیں۔
 
10
فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ
ان کے اذہان میں مرض ہے، بس قدرت نے ان کے مرض کو بڑھا رہنے دیا اور ان کےجھٹلانے کے سبب ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
 
11
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
مباحث:۔  
اذا  " کا لفظ جب ماضی کے صیغے سے پہلے آئے تو معانی مضارع کے ہوتے ہیں اور استمراریت کا فائدہ بھی دیتے ہیں ۔
 
12
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ
آگاہ رہو یہی لوگ تو فسادی ہیں لیکن شعور نہیں رکھتے ۔
 
13
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ امن قائم کرو جس طرح دوسرے لوگوں نے امن کو قائم کیا ہے تو کہتے ہیں کیا ہم ویسے ہی امن کو قبول کریں جیسے بیوقوفوں نے قبول کیا ہے؟ آگاہ رہو کہ یہی لوگ بیوقوف ہیں لیکن ان کو معلوم نہیں ۔
 
14
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ
اور جب یہ لوگ امن قائم کرنے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے امن قبول کیا اور جب اکیلےمیں مملکت خداداد کے خلاف اپنے سرکش سرداروں کے ساتھ ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو صرف مذاق کرنے والے ہیں۔
مباحث:۔  
اس آیت میں شیطان کی تعریف بھی سامنے آ گئی ہے یعنی مملکت خداداد کے خلاف سرکش لوگوں کو شیطان کہا گیا ہے جس کی مزید وضاحت آیت ۳۴ سے ۳۶ میں بیان ہوئی ہے۔
 
15
اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
قدرت نے ان کے مذاق کی تدبیر کی ہے اور اندھوں کی طرح ان کو سرکشی میں چھوڑ دیا ہے۔
مباحث:۔  
کسی کی سازش یا چال کو بے ضرر بنانے کے عمل کو مشاکلہ کہتے ہیں ۔لفظ مشاکلہ باب مفاعلہ سے ہے ۔اس باب سے بنے الفاظ میں دو اشخاص یا دو گروہوں کے درمیان ایک دوسرے سے نبرد آزما ہونے کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔مثلاّ مجاہدہ ،مقابلہ ۔  
جہاں جہاں ایسی عبارت نظر آئے گی جہاں کسی شخص کے عمل کے مقابلے میں اس جیسے عمل کے ذریعےاس عمل کو ناکارہ بنایا جائے تو اصلاّ اس کے غلط عمل کی اصلاح اور اس کے غلط اثرات کو ختم کرنا مقصود ہوتا ہے ۔
 
16
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے پس ان کی تجارت نے ان کو کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور نہ ہی یہ ہدایت یافتہ ہوئے۔
 
17
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ
ان لوگوں کی مثال اس شخص کی ہے جس نے آگ روشن کی، پس جب اُس کا ماحول روشن ہوگیا تو قدرت کے قانون نے اِن کا نور سلب کر لیا ۔، اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ اب وہ کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔
مباحث:۔  
قرآن میں آگ دو طرح کی بیان ہوئی ہے ۔ایک تو وہ جو نور کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ۔جیسے اس آیت میں ذکر ہے ۔  
دوسری وہ جو لوگوں کے درمیان دشمنی کی آ گ ہوتی ہے ( سورہ آل عمرانآیت نمبر ۱۰۳ )
 
18
صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
یہ لوگ بہرے گونگے اور اندھے ہیں پس یہ واپس آنے والےنہیں۔
ما حصل  
یہ ان لوگوں کی مثال ہے کہ جن کے لیے کسی شخص نے تعلیمات کا انتظام کیا اور جب اس کی روشنی پھوٹی تو ان لوگوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ، ان لوگوں کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو چکی تھی، اور یہ ایسے لوگ ہو گئے تھے کہ نہ تو دوسرے کی بات سنتے تھے اور نہ ہی خود اپنی دلیل دیتے تھے، بلکہ اندھوں کی طرح ہو گئے اور اپنی ہی بات پر یوں اڑے رہے کہ واپسی کا کوئی امکان نہ تھا۔  
قرآن نے اس مقام پر جس آگ کا ذکر کیا ہے وہ احکام الہی کی وہی روشنی پھیلاتی ہے جو انبیاء اور صالحین کا خاصہ ہے ۔
 
19
أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ۚ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ
یا جیسے کہ مثال ہو آسمانی مصیبت کی کہ جس میں اندھیرے بھی ہیں بجلی بھی ہے اور کڑک بھی۔ وہ مدہوشی سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں موت کے خوف سے ڈال لیتے ہیں حالانکہ قدرت نے انکار کرنے والوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔
مباحث:۔  
یہ اس شخص کی مثال ہے جس کو اس کے اعمال کے سبب قدرت کا عذاب آ پکڑتا ہے ،اس کی وجہ سے اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس عذاب کی کیفیت اس طوفان کی سی ہوتی ہے جس کی مثال بجلی اور طوفانی کڑک سے دی گئی ہے، اور انسان اس طوفان کی شدت کے احساس کو کم کرنے کے لیے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتا ہے۔  
یہی مثالیں قرآن میں بار بار دہرائی گئیں ہیں ۔
 
آپ نے غور کیا ہوگا کہ جہاں جہاں  اللہ  کا لفظ آ رہا ہے وہاں ترجمہ "قدرت" کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی ذات کا ادراک تو ہم نہیں کر سکتے۔ یہ اس کے  اسمآء الحسنیٰ  ہی ہیں جن کے ذریعے ہم نے اسے پہچاننا ہے۔  
اس کی پہچان کائنات میں پھیلے ہوئے قوانین ہی ہیں جنہیں ہم  اسمآء الحسنیٰ  یا قوانین قدرت کہتے ہیں، اور ان  اسمآء الحسنیٰ  یعنی قوانین قدرت اور ان پر مبنی متشکل "مملکت الٰہیہ" یا "مملکت خداداد" اور ایسی مملکت کے سربراہان اور ان کے ادارے مراد ہوتے ہیں۔  
مثال کے طور پر جب یہ کہا جاتا ہے  وَأَقْرِضُوا اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا  اللہ کو قرض حسن دو، تو آپ کس اللہ کو جا کر قرض حسن دیتے ہیں؟؟۔ آپ تو جا کر کسی مستحق اور حاجت مند کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔!!۔ آخر کیوں؟۔۔کیا آپ نے اس حاجت مند کو  اللہ  سمجھا تھا جو اسے قرض حسن دیا؟؟۔۔۔۔ جی نہیں !!۔۔ اصلاً جو اللہ کی ذمہ داری اس کی مملکت نے پوری کرنا تھی، وہ مملکت کی غیر موجودگی میں آپ نے کی۔  
یہ بات بہت اہم ہے، اس لیے کہ جب تک آپ "اللہ" کا صحیح مفہوم نہیں سمجھیں گے، اسلامی مملکت کا تصور اوجھل ہی رہے گا۔ یاد رکھیے...  
جو  اسمآء الحسنیٰ  قرآن میں بیان ہوئے ہیں وہی "اسلامی نظام" کا خاکہ ہیں۔
20
يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ ۖ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم مَّشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
بجلی ان کی بصیرت لے جانے کے درپے ہو، جب بھی ماحول روشن ہو وہ اس میں چل پڑتے ہوں اور جب ان پر اندھیرے چھاتے ہوں تو کھڑے ہو جاتے ہوں۔ اگر قدرت کا پیمانہ نہ ہوتا تو یقیناً ان کی سماعت اور بصیرت ختم ہو جاتی۔ یقیناً قدرت ہر شے کے پیمانےمقرر کر تی ہے۔
ماحصل:۔  
اس مثال میں ان لوگوں کے متعلق بتایا گیا ہے جو موقع پرست لوگ ہوتے ہیں۔ جب بھی کسی اہم کام میں جدوجہد کی وجہ سے کوئی پریشانی یا مصیبت لاحق ہوتی ہے تو فوراً ساتھ چھوڑجاتے ہیں لیکن اگر کچھ فائدےکا امکان ہوتا ہے تو ساتھ چل بھی پڑتے ہیں۔
 
21
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اے انسانو ! اپنے نظام ربوبیت کے ذمہ دار کی فرمانبرداری اختیار کرو جس نے تم کو اور تم کو تخلیق کیا اور تم سے پہلوں کو بھی تخلیق کیا ۔۔، تاکہ تم مملکت الہیہ کے مطابق زندگی بسر کرو۔
مباحث:۔  
 خَلَقَكُمْ   ۔۔مادہ  خ ل ق  ۔۔۔معنی بنانا ۔۔تخلیق کے دو معنی ہیں ایک تو کسی مادی چیز کی تخلیق کی جاتی ہے ۔۔،اور دوسری تخلیق وہ ہے جو ماں باپ سے لیکر استاد اور مملکت کے قوانین اور قوانین نافذ کرنے والے ادارے جو ایک شخص کو مفید اور کارآمد بناتے ہیں ۔
 
22
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
وہ کہ جس نے تمہارے لیے اعلیٰ اقدار کو وجہ استحکام، اور عوام کو بنیاد بنایا اورقوانین قدرت کو بصیرت کی بلندیوں سے پیش کیا۔ پس اس کے ذریعے تمہارے لیے نتائج کو ظہور میں لایا تاکہ تمہاری ضروریات بہم پہنچائے، تو تم مملکت خداداد کا جانتے بو جھتے ہمسر نہ ٹھہراؤ۔
 
23
وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اور اگر تم کو اس کتاب میں جو ہم نے اپنے بندے پر پیش کی ہے، کوئی شک ہے تو اپنے ساتھیوں کو بلاؤ اور قوانین قدرت کے علاوہ کسی ایک حکم کے مثل لے آؤ اگر کہ تم سچ کر دکھانے والے ہو۔
مباحث :۔  
 مما نزّلنا من السماء  کا ذکر ماقبل آیت میں  ماءَ من السماء  کہہ کر کیا گیا۔ قرآن میں جہاں بھی  ماءّ من السماء  کا ذکر ہو گا وہاں پر مفہوم میں وحی الٰہی کا تصور ضرور پنہاں ہو گا۔  
اس آیت میں ایک لفظ  بسورۃ  آیا ہے جس کے معنی کو قرآن کی مختلف سورتوں سے ما خوذ کیا گیا ہے۔ اس لفظ کا مادہ  س و ر  ہے جس کے معنی میں گولائی ہوتی ہے۔  
 اسور  جو  سور  کی جمع ہے۔ شہر کی فصیل کو بھی  سور  کہا جاتا ہے جس کے معنی احاطہ کرنے کے بھی ہیں۔ اس لحاظ سے قرآن کا ہر حکم ایک  سور  ہے۔
 
24
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
پس اگر تم نہ کرسکو اور تم ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جو انکار کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے جس کا ایندھن انسان (اندھے مقلد) اور الحجارہ (پتھر دل سردار) ہوں گے۔
مباحث:۔  
یہ آگ اینٹ پتھر کی آگ نہیں ہے، یہ آپس کی دشمنی کی آگ ہے جس کا ذکر سورہ آل عمران کی آیت ۱۰۳ میں وارد ہوا ہے اور ایک آگ وہ ہوتی ہے جو انبیاء روشن کرتے ہیں اورجس کا ذکر آیت نمبر۱۷ میں آئے گا ۔۔۔۔ سورہ آل عمران میں ارشاد ہے  
 إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا  جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو قدرت نے تم کو اس سے بچا لیا۔  
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی آگ کا گڑھا تیار تھا جس میں لوگ گرنے والے تھے؟ اور پھر اس آگ کے گڑھے سے بچتے ہی بھائی بھائی ہو گئے جبکہ پہلے باہم دشمن تھے !!  
یہ آگ کا گڑھا آپس کی دشمنی کی آگ ہوتی ہے ۔
 
25
وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوا هَٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
ان لوگوں کو خوش خبری سنائیں جو اہل امن ہوئے اور جنہوں نے صلاحیت بخش اعمال کیے، یہ کہ انہیں ایسی مملکتیں ملیں گی جن کی ماتحتی میں خوشحالیاں رواں دواں ہوں گی۔ جب کبھی ماضی میں بھی ان مملکتوں سےان کو ان کے اعمال کے سبب انعام سے نوازا گیا تو انہوں نے ہمیشہ یہ ہی کہا کہ یہ تو وہی نعمت ہے یا اس جیسی ہے جو اس سے پہلے بھی ہم جیسوں کو دی گئی اور ان کے لیے ان مملکتوں میں پاکیزہ ذہن ساتھی ہوں گے۔ وہ اس میں اس وقت تک رہیں گے جب تک امن و صلاحیت بخش اعمال کرتے رہیں گے۔
مباحث:۔  
یہاں نوٹ فرما لیجئے کہ ا لفاظ  رزقوا ،قالوا ،رزقنا، اتوا  تمام کے تمام ماضی کے صیغے ہیں ،ان کا ترجمہ مستقبل میں کرنا قرآن کی تحریف ہے اور انسانوں کو اس دنیا کے اعمال سے غافل کرنے کا باعث بنتا ہے۔ یہ  الجنت  اسی دنیا میں ہےاور ہمارے اعمال کے سبب ملتی ہے ۔اس لیے  جنت   کا ترجمہ مملکت کیا گیا ہے ،جو اسی دنیا میں ملتی ہے۔
 
26
إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ
یقینی طور پر احکام الٰہی کسی چھوٹی بڑی مثالوں کے بیان کرنے سے حیات آفرینی نہیں بخشتے۔ پس وہ لوگ جو اہل ایمان ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب ان کے پالنہار کے پاس سےبرحق ہے لیکن وہ لوگ جو کہ انکار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ قدرت نے اس مثالی کتاب کی بات کر کے کیا ارادہ کیا۔ اس کتاب کے ذریعے ہی وہ اکثر کو گمراہ یا ہدایت یافتہ قرا ر دیتا ہے، لیکن یہ کہ گمراہ صرف قانون شکن لوگوں کو ہی قرار دیتا ہے۔
مباحث:۔  
 مَثَلًا  :مادہ "م ث ل" معنی "مشابہ ہونا ،برابر ٹھہرانا ، مانند،نظیر،روایت"  المثل  : ’’اقدار،آئیڈیل‘‘۔  
قران کسی مثال کی بات نہیں کر رہا بلکہ ان روایات کی بات کر رہا ہے جو معاشرہ میں پھیل جاتی ہیں۔ اس کے برعکس قرآن ایک ایسی قدر  مَثَلًا  کی بات کر رہا ہے جس پر کفّار کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس قدر کے بیان کرنے سے اللہ کا کیا ارادہ ہے۔ جواب دیا گیا کہ اس پیمانے کی بنیادپر ہی ہدایت یا فتہ، حیات آفرینی یا گمراہی پر ہونے یعنی قانون شکنی کا فیصلہ ہو گا۔
 
27
الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
یہ قانون شکن لوگ وہ ہیں جو مملکت خداداد کے ساتھ کیے گئے پختہ عہدکو توڑتے ہیں اور ان احکام سے قطع تعلق کرتے ہیں جن سے جڑنے کا حکم دیا گیا تھا، اورمملکت میں فساد پھیلاتے ہیں۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔
 
28
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
کیونکر تم قوانین قدرت کا انکار کر سکتے ہو؟ جب تم محکوم تھے توتم کو آزادی دی۔ مزید یہ کہ تم محکوم بھی ہوتے ہو اور آزاد بھی رہو گے، اور اسی کے قوانین کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔  
 
29
هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
وہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ تخلیق کیا جو عوام کے بارے میں ہے۔ مزید وہ بلنداقدار کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بہت سارے اعلیٰ پیمانے عطا کیے کیونکہ وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے۔
مباحث :۔  
’بلند قدر‘ سے مراد وحی الٰہی ہے جو  السماء  ہے اور اس  سماء  سے اور بہت سارے احکام کی تشکیل یعنی  سبع سماوات  کیے گئے۔  
 ماء من السماء  یعنی وحی الٰہی کے ذکر کے بعدقرآن میں  السماء  کا ذکر وحی الٰہی اوراحکام الٰہی کے حوالے سے ہی آئیگا۔  
 سبع  کے معنی نہ صرف سات (تعداد) ہوتے ہیں بلکہ یہ لفظ بہتات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ سورہ البقرۃ کی آیت ۲۶۱ میں لفظ  سبع  اور  ما ئتہ  آئے ہیں جو بہتات کے معنی میں استعمال ہو ئے ہیں۔
 
30
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
جب ملائکہ (با اثر افراد) سے ربوبیت کا تقاضا ہوا کہ زمین میں پالنہاری کا نظام قائم کیا جائے، تو ملائکہ نے قدرت سے تقاضا کیا کہ کیا قدرت ان لوگوں کو مقرر کرے گی جو اس زمین میں فساد کرتے ہیں اور خون بہاتے ہیں؟ اور کہا کہ ہم بھی تو قدرت کے قوانین کے مطابق بے عیب جدو جہد کرتے ہیں۔ قدرت نے کہا، اے بشر قدرت کو خوب معلوم ہے جس کا تم کو علم نہیں۔
مباحث :۔  
 اذ  اور  اذا  کا استعمال بھی کسی دعوے کی دلیل دینے سے پہلے ہوتا ہے۔ اس مقام سے پہلے بھی کوئی دعوی کیا گیا ہے جس کی دلیل میں قصۂ آدم و ابلیس پیش کیا جا رہا ہے اور وہ دعویٰ وحی الٰہی کے نفاذ اور اس کے ذریعے ایک مثالی معاشرے کے قیام کا حصول ہے، اس لیے ذہن میں رکھیے کہ یہاں کوئی دیو مالائی داستان نہیں بلکہ ایک استحصالی معاشرے کی ایک فلاحی معاشرے میں تبدیلی کی داستان ہے اور جہاں جہاں رب سے مکالمہ بیان کیا گیا ہے، اصلاً وہ انسان کی سوچ اور اس سوچ کے نتیجے میں اٹھنے والے سوالات کا بیان ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر انسان کسی عمل سے پہلے خود اپنے آپ سے کرتا ہے۔  
لفظ  ملک  کا مادہ  م ل ک  ہے جس کے معنی میں قوت و طاقت کا ہونا پایا جاتا ہے۔  
کہتے ہیں کہ یہ ایک عجوبہ یا دیو مالائی مخلوق ہے جس کے بہت سارے پر ہوتے ہیں، جو اپنی خلقت بھی بدل سکتے ہیں، ایک ساعت میں اِدھر سے اُدھر ہزاروں میل کا سفر کر لیتے ہیں، جو نظر بھی نہیں آتے، دشمنوں کے سر قلم کر سکتے ہیں، ان کی انگلیوں کے پورے پورے کاٹ ڈالتے ہیں، لیکن عجیب بات ہےکہ پھر بھی جنگ کے دوران دشمن کے مقابلے کے لیے ایک نہیں ہزاروں کی تعداد میں بھیجے جاتے ہیں..!  
درحقیقت قرآن اس قسم کی دیو مالائی کہانیوں سے پاک ہے۔ سورۃ  الانفال  کی آیت نمبر ۹ ملاحظہ فر مایئے جس میں ایک ہزار ملائکہ کے آنے کا ذکر ہے۔سورۃ  آل عمران  کی آیت نمبر ۱۲۴ میں تین ہزار اور آیت نمبر ۱۲۵ میں مزید پانچ ہزار کی نوید ہے۔ کفار کی یہ کون سی فوج تھی جس کے لیے اتنے ملائکہ کی ضرورت پڑ گئی؟ دیکھا جائے تو جن صفات کو ملائکہ سے منسوب کیا جاتا ہے ان سے متصف تو صرف ایک ہی  ملک  ہزاروں انسانوں پر بھاری ہے، پھر ہزاروں کیوں؟۔ دراصل یہ کوئی دیو مالائی مخلوق نہیں تھی، بلکہ یہ مملکت کی فوجی نفری تھی جس نے اس مملکت کا دفاع کیا۔ قرآن میں کسی جگہ بھی کسی دیو مالائی مخلوق کا ذکر نہیں ہے۔
 
31
وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اور آدم کو تمام ضابطوں کی تعلیم دی پھر ان کو صاحب اختیار لوگوں کے سامنے پیش کیا اور کہا مجھ کو ان لوگوں کے ضابطے بتاؤ اگر کہ تم سچے ہو۔
مباحث:۔  
اس آیت میں آدم کو ضابطوں کی تعلیم کے بعد ملائکہ پر کس کو پیش کیا؟ مفسرین اور مترجمین نے  عرضھم  میں  ھم  کا مرجع  الاسماء  بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ آدم کو تعلیمات کے بعد ملائکہ کو حکم ہوا کہ ان  اسماء  کو بتاؤ۔  اسماء  مونث ہے اس لیے  اسماء  کے لیے  ھم  کی ضمیر جو کہ مذکّر کی ضمیر ہے، نہیں آئے گی بلکہ  ھنّ  کی ضمیر آئیگی جو کہ مؤنث کی ضمیر ہے۔ کچھ لوگوں نے بلا جواز ملائکہ کو مرجع قرار دیا حالانکہ ملائکہ پر تو پیش کیا گیا تھا۔  
لامحالہ  ھم  کا مرجع صرف اور صرف آدم ہی رہ جاتا ہے اور آدم کے لیے جمع کی ضمیر کا مطلب ہے کہ اس آیت میں جس آدم کا ذکر ہے وہ اکیلا نہیں تھا، بلکہ آدم بمع ذریت موجود تھا۔ ہمارے دیو مالائیت کے شوقین مفسّرین نے یہ کہانی بھی دوسروں سے مستعار لی ہے۔ مزید آگے لفظ  ھٰولاء  تو قطعیت کے ساتھ بتا رہا ہے کہ یہ لوگ بہت تعداد میں تھے کیونکہ  ھٰولاء  بھی جمع کے لیے اسم اشارہ ہے۔
 
32
قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
ان صاحب اختیار لوگوں نے جواب دیا کہ ساری جدوجہد تیرے لیے ہے ہمیں تو صرف وہی معلوم ہے جس کا علم تو نے ہمیں دیا۔ یقینی طور پر تو بربنائے حکمت سب کچھ جاننے والا ہے۔
 
33
قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ ۖ فَلَمَّا أَنبَأَهُم بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ
اس نے کہا اے آدم ! ان صاحب اختیار لوگوں کو ان کا ضابطۂ حیات بتاؤ، پس جب ان کو ان کے ضوابط حیات بتائے تو اس نے کہا، کیا میں نے تم کو نہیں بتایا تھا کہ مجھے خوب علم ہے کائنات کے واقعات و نتائج کے اصولوں کا، اور مجھے خوب علم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔
 
34
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ
وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے صاحب اختیار لوگوں کوحکم دیا کہ آدم کے لیے سرنگوں ہو جاؤ تو سب سرنگوں ہوئے سوائے ابلیس کے، اس نے نافرمانی کی اور تکبر کیا اور انکار کرنے والوں میں ہو گیا۔
مباحث:۔  
جیسا کہ آیت نمبر ۳۴ کے تحت عرض کیا، ابلیس و آدم کا ۡقصہ انسان کے اس ارتقاء کی داستان ہے جو ہر معاشرے میں تبدیلی سے پہلے اور تبدیلی کے وقت انسانوں کے اذہان میں سوالات کی صورت میں اٹھتے ہیں۔
 
35
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ
اور ہم نے کہا اے آدم تو اور تیرے ساتھی اس خوشحال ریاست میں سکونت اخیتار کرو اور تم اس سے بافراغت قانون مشیت کے مطابق جو چاہو حاصل کرو، لیکن اس شیطانی نافرمانی اور تکبر کے شجر کے قریب نہ جانا کہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ۔
مباحث:۔  
اس آیت میں  ھذہ الشجرۃ  کا مرکب اشاری آیا ہے۔ اس مرکب میں  ھذہٖ  ’’اشارہ‘‘ اور  الشجرۃ  "مشارالیہ" ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ  ھٰذہٖ  کا اشارہ کس طرف ہے۔اس سے پہلے کسی درخت کی بات نہیں ہوئی، پھر یہ کون سا شجر ہے جس کے پاس جانے سے روکا جا رہا ہے؟ ہمارے مفسّرین نے بھی دوسروں کی دیکھا دیکھی گیہوں کے درخت کو اگا دیا۔  
 شجر  کے بنیادی حروف  ش ج ر  ہیں جس کے معنی پھٹ جانے کے ہوتے ہیں۔  ھٰذہٖ  کا اشارہ اسی پھٹن کی طرف ہے جس کا اظہار پچھلی آیت میں ابلیس کے حوالے سے استکبار اور کفر یعنی انکار اور معصیت کی شکل میں ہو چکا ہے اور آدم کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اس (کفر) نافرمانی اور تکبّر کےدرخت کے قریب بھی نہ جائے۔
 
36
فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
پس شیطانی تصورات و خیالات نے بہکایا اور ان دونوں کو اس حیثیت سے نکلوا دیا جس میں وہ تھے، اور ہم نے کہا "جاؤ اب تم اس پستی کی زندگی میں،بعض بعض کے دشمن بن کے رہو، اور تمہارے لیے اس مملکت میں ایک مدت تک رہنا اور فائدہ اٹھانا ہو گا"
مباحث:۔  
قرآن کے فہم میں متکلم کے صیغوں کی وجہ سے کافی دشواری کا سامنا رہا ہے، لیکن اگر آیت کے سیاق و سباق میں جا کر دیکھیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ کون بات کر رہا ہے، کس سے بات ہو رہی ہے، اور کس کے متعلق بات ہو رہی ہے۔  
دوسری اہم بات یہ کہ " اللہ " کا لفظ جہاں جہاں آیا ہے وہاں وہاں۔۔۔۔ قدرت۔۔ قوانین قدرت ۔۔ مملکت خداداد۔۔ یا اس کے ذیلی ادارے مراد ہیں۔
 
37
فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
پس آدم نے اپنے پالنہار سے احکام حاصل کیے اور وہ اس کی طرف رجوع ہوا، یقینی طور پر وہ رجوع کرنے والا بارحمت ہے۔
 
38
قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
ہم نے کہا سب کے سب پستی میں رہو، ہاں جب بھی تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی، تو نہ تو اس کو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ کسی بات کا ملال کرے گا۔
 
39
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
البتہ وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، یہ لوگ آگ والے لوگ ہیں اور یہ اس حالت میں ہمیشہ رہیں گے۔
مباحث :۔  
آگ کے لیے دیکھئے سورۃ   اٰل عمران   کی آیت نمبر ۱۰۳
 
40
يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ
اے بنی اسرائیل یاد کرو میری نعمت کو جو میں نے انعام کی تم لوگوں پر۔ اورپورا کرو میرا عہد، میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔ اور مجھ سے ہی لو لگاؤ۔
بنی اسرائیل بھی اہل امن لوگ تھے لیکن وہ مذہبی تفریق میں پڑ کر الگ الگ ہو گئے۔
 
41
وَآمِنُوا بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ ۖ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ
اور امن قائم کرو ان احکام کے ذریعے جو میں نے پیش کیے اور جو مصدق ہیں ان احکام کے جو تمہارے پاس تھے اور تم اس کا فوراً انکار کرنے والے نہ ہو جاؤ اورتھوڑی قیمت کے بدلے میری آیات کی تجارت مت کرو اور میرے احکام کے ساتھ ہی ہم آہنگ رہو۔
 
42
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
اور نہ تو تم حق کو باطل کا لبادہ پہناؤ اور نہ ہی حق کو چھپاؤ، باوجود اس کے کہ تم کو اس بات کا علم ہے۔
 
43
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ
اور احکام الٰہی کے تحت نظام قائم کرو اورمعاشرے کے تزکیہ کی ذمہ داری اٹھاؤ اور ہمیشہ تیار رہنے والوں کے ساتھ تیار رہو۔
 
44
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
کیا تم لوگوں کو اطاعت کا حکم دیتے ہو اور اپنے ہی لوگوں کوبھول جاتے ہو، حالانکہ تم وحی الٰہی (قوانین قدرت) کی تعلیم بھی دیتے ہو، پھر تم عقل کیوں نہیں استعمال کرتے؟
بر :۔ مادہ ب ر ر  بمعنی ’’حسن سلوک، اصلاح کرنا، کشادگی پیدا کرنا اور اطاعت کرنا‘‘ ۔  البر  کے لیے دیکھیے البقرہ آیت ۱۷۷
 
45
وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ
مدد چاہو ثابت قدم رہتے ہوئے احکام الٰہی کے نظام (مملکت خداداد) سے اور یقیناً خشیت اختیار کرنے والوں کے لیے یہ بڑی بات نہیں۔
 
46
الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
یہ وہ لوگ ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے نظام کو قائم کرنے والے ہیں اور اسی کے احکام کی طرف رجوع رہنے والے ہیں۔
رب سے ملاقات کے معنی ہیں متشکّل نظام ربوبیت۔
 
47
يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ
اے بنی اسرائیل میری نعمت "وحی الٰہی" کو یاد کرو جو میں نے تم لوگوں پر انعام کی تھی اور میں نے تم کو تمام غیر از وحی علوم پر فضیلت میں پایا۔
مباحث:۔  
اس آیت میں ایک لفظ  العالمین  ہے جس کا ترجمہ "تمام عالم"یا "تمام جہان" وغیرہ کیا جاتا ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ کیا واقعی بنی اسرائیل کو تمام کائنات پر فضیلت دی گئی تھی؟ جبکہ اُس زمانے میں بنی اسرائیل کواسرائیل کے علاوہ دوسرےعلاقوں کا پتہ ہی نہ تھا۔ ان سے بڑی اور طاقتور حکومتیں اسرائیل کے ایک طرف نوشیرواں پرویز سائرس کا ایران اوردوسری طرف سکندر کا یونان و روم کی موجود تھیں۔ وسیع و عریض چین کی بادشاہت کی تاریخ بھی جس میں دیوار چین کی تعمیر کا تذکرہ ہے، بہت قدیم ہے، یوں اگر دیکھا جائے تو اُس وقت بھی دنیا کے نقشے پر اسرائیل سے بڑی مملکتوں کے آثار ملتے ہیں۔ اگر مصر اور فلسطین اور عرب کے علاقوں کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی اس دنیا کا بہت ہی معمولی رقبہ بنے گا جو کہا جا سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کی ماتحتی میں تھا۔ اس کا مطلب ہے  العالمین  کا لفظ تمام جہان یا تمام عالم پر محیط نہیں ہے۔  
 عالَم  کا مادہ  ع ل م  ہے ۔ عالِم  کے معنی ہیں علم کی تعلیم دینے والا جبکہ  عالَم  کے معنی ہیں وہ علم جس کے ذریعے کسی چیز کی پہچان کی جائے۔ اسی لیے  عالَم  غیر از وحی وہ تعلیمات ہیں جن کو خدا کی پہچان کا ذریعہ سمجھا گیا، لیکن وحی الٰہی کو ان سب پر فضیلت دی گئی۔  
 علّم آدم الاسمآء کلھا  کے بعد علم کی ہی بات ہو رہی ہے۔  
 فضلتکم  کا ترجمہ عموماً ’فضیلت دی‘ کیا جاتا ہے۔ لیکن ہر وہ لفظ جس کے مادہ کے درمیانی حرف پر تشدید ہو گی وہ اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ لفظ باب تفعیل سے ہے، اور باب تفعیل سے بنے الفاظ میں وجدان یعنی اس مادہ کی خصوصیت کا پایا جانا لازمی ہے اسی لیے  فضلتکم  کا ترجمہ ’فضیلت میں پایا‘ کیا گیا ہے۔
 
48
وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
اور اس دن کی بربادی سے بچوکہ جس دن کوئی نفس کسی نفس کو نہ تو جزا دے سکے گا اور نہ ہی اس سے شفاعت قبول کی جائے گی اور نہ ہی اس سے کوئی بدل لیا جائے گااور نہ وہ مدد دیئے جائیں گے۔
 
49
وَإِذْ نَجَّيْنَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ
اور جب ہم نے تم کو قومِ فرعون سے نجات بخشی کہ وہ لوگ تم کوانتہائی تکلیف میں مبتلا کرتےتھےکہ تمہارے ابناء قوم کو علیحدہ رکھتے تھے اور کمزور افراد کی پشت پناہی کرتے تھے اور اس نجات میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔
مباحث:۔  
ماضی کے صیغے سے پہلے اگر  اذا  آئے تو حال اورمستقبل کے معنی دیتا ہے۔ البتہ ماضی کے صیغے سے پہلے اگر  اذ  آئے تو معنی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ دونوں الفاظ کسی نہ کسی دلیل سے پہلے بطور یاد دہانی آتے ہیں۔ اسی لیے تراجم میں "یاد رکھو" یا "اور جب" وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں۔  
اس آیت سے پہلے چند دعوے کیے گئے ہیں جن کی دلیل میں قصہ موسیٰ و فرعون پیش کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے اس آیت کے شروع میں  "اذ"  کا لفظ آیا ہے۔  
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، متکلم کا معلوم ہونا بہت ضروری ہے ورنہ کلام میں بے ربطگی ہو جاتی ہے۔ قرآن میں زیادہ تر مقامات پر انسان خود اپنی بصیرت سے کلام کرتا ہے اور سوال جس حوالے سے کرتا ہے اسی حوالے سے جواب حاصل کرتا ہے۔
 
50
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
اور جب ہم نے تمہارے ذریعے بحران پر غلبہ دیا، پس تم کو نجات دی اور فرعون کی قوم کو تباہ کر دیا اور تم خود دیکھ رہے تھے۔  
 
51
وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَىٰ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِهِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ
اور جب ہم نے موسیٰ سےوعدہ کیا دورہ ظلمات کو خوشحال بنانے کا، تو تم نے اس وعدے کے بعدغیر از وحی تعلیمات کو پکڑ لیا اور تم ظالم تھے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں دو باتوں پر غور کرنا ہے۔  
۱۔  اربعین لیلہ  چالیس راتیں ہیں یا راتوں کو اربعین بنانے کی بات ہے۔  اربعین  کا مادہ  ر ب ع   ہے جس کے معنی خوشحالی کے ہیں۔   اربعین   کے معنی چالیس بھی ہیں اور مادہ کے معنی کی مناسبت سے انتہائی خوشحالی کے بھی ہونگے۔  
 لیل   قرآن کا موضوع ہی لیلیت کو ختم کرکے خوشحالی میں بدلنا ہے۔  لیل  یعنی رات ہر زبان میں ان ایام کیلئے بولا جاتا ہے جب پریشانی کا دور دورہ ہوتا ہے۔  
دوسری قابل غور بات ہے۔  
 العجل  کیا ہے؟ سورہ الاعراف کے آیت ۱۵۲ میں ارشاد ہے۔  
 إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ   
یقیناً جن لوگوں نے العجل کو پکڑا ان پر لازماً ان کے رب کی طرف سے غضب پہنچےگااور دنیاوی زندگی میں ذلّت۔ اس طرح سے ہم جھوٹ گھڑنے والوں کو سزا دیتے ہیں۔ دیکھ لیجئے کہ بچھڑےکے پکڑنے والوں کو  مفتری  کہا گیا ہے۔  العجلہ  کو پکڑنا  افتراء علی اللہ الکذب  ہے۔
 
52
ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اس کے بعد بھی ہم نے تم کو معاف کر دیا، تاکہ تم شکر کرو۔
 
53
وَإِذْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
اور یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب یعنی صحیح اور غلط میں تمیز کرنے والی کتاب عنایت کی تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔
 
54
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
اور یادکرو جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا "اے میری قوم کے لوگو، تم نے غیر الٰہی تعلیمات (بچھڑے) کو اپنا کر اپنے لوگوں پر ظلم کیا ہے، تو تم اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اپنی خواہشات کو ترک کر دو۔ تمہارے پروردگار کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پس وہ تمہاری طرف متوجہ ہوا، بے شک وہ مہربان صاحب رحمت ہے۔
 
55
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
اور جب تم نے کہاکہ اے موسیٰ، جب تک ہم مملکت خداداد کو اپنے سامنےمتشکًل نہ دیکھ لیں گے، تمہارے ساتھ امن میں نہیں آئیں گے، بایں وجہ تم دیکھ رہے تھےکہ تم کو مدہوشی نے آ گھیرا۔
مباحث:۔  
  حتّی نری اللہ جھرہ  کا ترجمہ عموماً "جب تک ہم اللہ کو خود نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لا ئیں گے" کیا جاتا ہے۔ دراصل یہ مطالبہ خالق کائنات کے متعلق نہیں ہے۔ اس لیے کہ انسان کو جب سے شعور آیا ہے وہ اسی جستجو میں لگا ہوا ہے کہ خالق سے کسی نہ کسی طرح ملاقات ہو جائے۔ تمام مذاہب نے جنم ہی اس وجہ سے لیا ہے کہ خدا کا ادراک انسان کی سمجھ سے وراء الورا ہے۔ کسی بھی قوم کا مذہب اس بنیاد پر نہیں بنا کہ اس مذہب کے پیروکاروں کی ملاقات خالق سے ہو جاتی ہے۔ ہر مذہب کا دعوی یہی ہے کہ اس کا پیروکار خالق کی نظر میں محبوب ہوتا ہے۔  
اس لیے   حتّی نری اللہ جھرہ  کا ترجمہ "جب تک ہم اللہ کو خود نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لا ئیں گے" ہو نہیں سکتا۔ یہاں بھی اللہ سے مراد مملکت خداداد ہے اور یہ ہمارا عام مشاہدہ ہے کہ لوگ کسی بات کو ماننے سے پہلے اس کو متشکل دیکھنا چاہتے ہیں۔ احکام الٰہی کی بنیاد پر ایک مملکت خداداد کا قیام لوگوں کوہمیشہ نا قابل قبول رہا ہے۔ آج بھی جب خالص قرآن کی بنیاد پر ایک مملکت کے قیام کی دعوت دی جاتی ہے توقرآن کے پیروکار بھی کچھ نہ کچھ مشکوک نظر آتے ہیں۔
 
56
ثُمَّ بَعَثْنَاكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
تمہاری ناکامی کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو اٹھایا ، تاکہ شکر کرو۔
یہ قانون قدرت ہے کہ کوئی شخص بھی جسمانی موت کے بعد زندہ نہیں ہوا کرتا۔ اس لیے قرآن میں اکثر مقامات پرجہاں موت کا ذکرآیا ہے وہ قوموں کی اخلاقی موت یا ان کی ناکامی کے حوالے سے ہے۔ مردہ قوم میں جب اخلاقیات کی روح پھونکی جاتی ہے تو پھر سے وہی مرد ہ اور ناکارہ قوم زندہ ہو جاتی ہے جبکہ اخلاقی اعتبار سے مردہ قومیں جسمانی لحاظ سے زندہ ہوکر بھی مردہ ہوتی ہیں۔
 
57
وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
اورہم نے تم پر غمو ں کو سایہ فگن پایا اور تم پراحسان ( من ) اورتسلی (سلوی) نازل کرتے رہے اس لیےجو موزوں چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان سے استفادہ کرو۔ تمہارے اسلاف ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنے لوگوں پر ہی ظلم کرتے تھے۔
 
58
وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ
اور جب ہم نے کہا کہ داخل ہو جاؤ اس قریہ میں اور اس میں سے قانون مشیت کے مطابق، با فراغت استفادہ کرو اور زندگی کے اس باب میں احکام الٰہی کے آگے سجدہ ریز رہتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور یہ اعلان کرو "ہم تمہارے بوجھ اتاریں گے، تمہاری غلطیا ں معاف کر کے تم کو حفاظت فراہم کریں گے اور احسان کرنے والوں کو مزید زیادہ دیں گے"
مباحث:۔  
 ھذہ القریہ  مرکب اشاری ہے  ھذہ  اسم اشارہ ہے اور القریہ مشار الیہ ہے۔  
اس قریہ سے کون سا قریہ مراد ہے ؟  
اس آیت سے پہلے کسی بستی کا ذکر نہیں نظر آتا ہے۔اگر کوئی بستی نظر آتی ہے تو وہ احکام الہٰی کی بنیاد پر بنی بستی نظر آتی ہے اور یہ کوئی پڑوسی ملک پر یلغار کر کے غلبہ حاصل کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ اپنی ہی قوم کو بدلنے کی بات ہے۔  
 ھذہ القریہ  سے مراد وہ بستی ہے جو وحی الٰہی کی بنیاد پر بنائی گئی ہو اور   فکلوا منھا حیث شٔتم رغداّ  بتا رہا ہے کہ یہ وہی جنّت ہے جو آدم اور ابلیس کے قصّے میں بیان کی گئی ہے۔  
 حطّہ : مادہ (ح ط ط)معنی ’’احاطہ کرنا، بوجھ اتارنا‘‘۔  حطط و محططہ : اسٹیشن جہاں سواریاں اترتی ہیں۔ ایک مسلم کیلئے یہ سب سے پہلا حکم ہےکہ اسے دوسروں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چا ہئے۔  
۱۔۔دوسروں کے بوجھ اتارے گا۔  
۲۔۔دوسروں کو حفاظت فراہم کریگا۔  
۳۔۔غلطیاں معاف کریگا۔  
۴۔۔احسان کرنے والوں کو مزید عنایت کریگا۔
 
59
فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس اعلان کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا، بدل کر اس کی جگہ دوسرا اعلان جاری کر دیا، پس ان کی نافرمانیوں کے سبب ظا لموں پر قوانین قدرت کے تحت عذاب نازل ہوا۔
جہاں بھی کوئی عمل اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے، وہ بھی لاقانونیت کے تحت نہیں ہوتا ہے۔ اصلاّ اس کو بھی قدرت نے کسی نہ کسی قانون کے تحت وقوع پذیر کیا ہوتا ہے۔
 
60
وَإِذِ اسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کی پیاس بجھانی چاہی تو ہم نے کہا کہ اپنے عصا (احکام الٰہی) کو الحجر (سنگ دل افراد) پر بیان کرو، تو اس سے مثالی معاشرہ پھوٹا اور تمام لوگوں نے اپنی اپنی پیاس بجھانے کا مقام جان لیا۔ احکام الٰہی کا علم حاصل کرو اور اس کو نافذ کرکے استفادہ کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔
مباحث:۔  
سیدنا موسیٰ کے زمانے میں قاہرہ میں پانی کی کمی کیونکر ہوئی؟ جبکہ قاہرہ کے درمیان سے دریائے نیل گزرتا ہے اور چا روں اطراف میں زراعت تھی؟ وہ کون سے پہاڑ تھے جو آج قاہرہ کے اطراف میں نظر نہیں آتے ہیں جہاں لاٹھی کو پتھر پر مارنے کا حکم ہوا تھا؟  
یاد رکھیے انبیاء پانی کی پیاس بجھانے نہیں آتے بلکہ یہ علمی اور نظر یاتی پیاس ہوتی ہے جسے وہ بجھاتے ہیں۔ پانی کیلئے کنواں کھودنا یا پہاڑوں میں جا کر پتھروں کو کھود کر پانی نکالنا انبیاء کا منصب نہیں۔ اس کام کیلئے سیدنا موسیٰ مبعوث نہیں ہوئے تھے، ان کے لیے تو حکم تھا۔  اخرج قومک من الظلمات الی النور   
جیسے آپ ایک تاریخ کے استاد سے یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ آپ کومیز کرسی بنانا سکھائے گا، اسی طرح انبیاء کرام اپنی قوم کی اصلاح کرنے آتے ہیں نہ کہ نہریں یا دریا بہانے۔ وہ تو قوم کو ظالموں کے جبر و استبداد سے نکالنے کیلئے آتے ہیں۔  
رزق اللہ ،نعمت اللہ ،رحمت اللہ اور ایسے تمام الفاظ خالق کی سب سے بڑی نعمت یعنی وحی الٰہی کے لیے استعمال ہوئے ہیں ۔
 
61
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ ۚ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ ۗ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ
اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم شریعت واحد پر عمل پیرا نہیں ہو سکتے۔ سو اپنے پروردگار سے استدعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے ایسی زمینی شریعت نکالے جس میں ذخیرہ اندوزی (بقل)، بکثرت مال کے جمع کرنے (قثث)، غلّہ اندوزی (فُوم)، خدمت گزاری (عدس)، اور لوگوں کو لوٹنے (بصل)، کی اجازت ہو۔ اس نے کہا کہ کیا تم اعلیٰ کو چھوڑ کر ایک ادنیٰ چیز کی خواہش کرتے ہو؟۔ جاؤ پھر پستی کی زندگی گزارو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا.... اور نتیجتاً ذلت اور محتاجی ان سے چمٹا دی گئی اور وہ قدرت کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ قوانین قدرت کا انکار کرتے تھے اور نبیوں سے ناحق لڑائی کرتے تھے۔ یہ بسبب اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھ گئے تھے۔
مباحث :۔  
عمومی تراجم میں آپ  طعام واحد  کا ترجمہ "ایک کھانا" دیکھتے ہیں، لیکن  
۔۔۔۔۔ یہ کونسا گناہ ہے کہ قدرت کی نعمتوں کا سوال کیا جائے؟  
۔۔۔۔۔قرآن میں کس جگہ ایک کھانے کا ذکر ہے؟ اگر ایک ہی کھانے کا حکم تھا تو باقی کھانوں کو پیدا کرنے کی حکمت کیا ہے؟  
۔۔۔۔۔ان سب نعمتوں کو حرام کیوں نہ قرار دیا گیا؟  
۔۔۔۔۔وہ کون سا انسان ہے جو چند دن بعد ایک ہی کھانے سے بیزارگی کا اظہار نہ کرے؟  
۔۔۔۔۔ان کے مطالبے کی پاداش میں ان پر ذلّت اور محتاجی کیوں تھوپی گئی؟  
۔۔۔۔۔اللہ کے غضب میں کیوں گرفتار ہوئے؟  
جواب خود قرآن دے رہا ہے۔ لیکن جواب کسی کھانے سے متعلّق نہیں ہے ،بلکہ وہ قدرت کے غضب کے حقدار اس لیے ہوئے ۔۔۔۔ کہ وہ قوانین قدرت کا انکار کرتے تھے اور نبیوں سے ناحق لڑائی جھگڑے کرتے تھے، یعنی یہ کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے بڑھ گئے تھے۔  
اصلاً یہ خالص وحی الٰہی کا انکار کرتے تھے اور اپنی اپنی من مانی شریعت اور فقہ چا ہتے تھے اور آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔  طعام واحد  اصل میں وحی الٰہی ہے جو ہمیشہ سے ایک ہے اور ایک ہی رہےگی۔ آئیے اب چند الفاظ پر بھی غور کر لیا جائے۔  
بقل :۔۔مادہ   ب ق ل   معنی ’’دکان ،سبزی‘‘۔مفہوم: ’’بنیے کی ذہنیت ، ذخیرہ اندوزی‘‘۔  
قثث:۔۔مادہ  ق ث ث  معنی ’’ بکثرت مال و دولت جمع کرنے کی ذہنیت‘‘۔  
فوم:۔۔مادہ  ف و م   معنی ’’غلّہ اندوزی‘‘۔  
عدس :۔۔مادہ   ع د س   ’’معنی خدمت‘‘۔  
بصل :۔ ۔ مادہ   ب ص ل   معنی ننگا کرنا۔  
یہ تمام وہ ہتھکنڈے ہیں جن سے عوام کو قابو میں رکھا جاتا ہے لیکن ان سب کی قوانین قدرت میں اجازت نہیں ہوتی۔  
اس آیت میں ایک لفظ  " مصر "  آیا ہے ۔ مادہ  م ص ر   معنی کے لحاظ سے ۔۔۔۔۔ مصرت الحلوب  ’’اونٹنی کا دودھ کم ہونا‘‘،   مصرت العطیہ  عطیہ کم کرنا۔  تمصر الشیٔ   کم ہو جانا،  
  المصر  ’’دو چیزوں کے درمیان آڑ، برتن ،بڑا شہر‘‘ ،  مصر   افریقہ کا ایک ملک (egypt)اور  مصیر جمع مصارین  ’’انتڑیاں‘‘ (جسم سے غلاظت اور پیشاب خارج کرنے کے اعضاء)  
اسی لیے آیت کے ترجمہ میں  مصراً  کا ترجمہ پست زندگی کیا گیا ہے۔
 
62
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَىٰ وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
جو لوگ امن کے داعی (مومن) ہیں یا ہدایت یافتہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں (یہود)، یا مدد کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں (نصاریٰ)، یا تبدیلی قبول کرنے والے (صابئین) جس نے بھی قوانین قدرت کے تحت امن قائم کیا اور مکافاتِ عمل تک امن قائم کرتے رہے اور جنہوں نے اصلاحی عمل کیے، ایسے لوگوں کے اعمال کا صلہ قدرت کے ذمّہ ہے اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے۔
مباحث:۔  
یہ بہت ہی اہم حکم ہے جس کے ذریعے مذہب کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔ اگر عمومی تراجم کو ہی دیکھیں تو بھی اجر کا انحصار مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے اس لیے کہ جو شخص بھی اصلاحی عمل کرے گا خواہ وہ مسلمان ہو یا یہودی یا عیسائی یا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو، اس کا اجر اس کے اصلاحی اعمال کی بنیاد پرہوگا نہ کہ مذہب کی بنیاد پر۔ اس لیے جو شخص بھی امن کا پیغامبر ہے خواہ وہ کسی مذہب سے تعلّق رکھتا ہو، وہ قدرت کی نگاہ میں کامیاب ہے، اسے نہ تو ماضی کا ملال ہو گا اور نہ ہی مستقبل کا خوف ہو گا۔
 
63
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اور جب ہم نے تمہارے اوپر الطور کوفوقیت دے کر تم کو بلندی پر پایا، اور ہم نے تم سے عہد لیا کہ جوکچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو، اور جو اس میں ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ تم تقوی اختیار کرو۔
مباحث:۔  
 الطور  کو رفعت دے کر کہنا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رہنا، یہ صاف بتا رہا ہے کہ  الطور  وہ احکام تھے جو انتہائی بلند مقصد تھے اور بنی اسرائیل پر لازم قرار دیئے گئے تھے۔  
 الطور  مادہ (ط ور) معنی: ’’طریقہ، روش‘‘ جمع  اطوار ۔....  الطور  کوئی پہاڑ نہیں بلکہ وہ کتاب ہے جس میں اہل کتاب کو اطوار یعنی وحی الٰہی کی تعلیم دی گئی تھی اور حکم تھا کہ جو تم کو دیا گیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو اور جو اس میں ہے اسے یاد رکھو اور متقی بنو۔ یہ خصوصیات کسی صورت بھی کسی پہاڑ کے اٹھانے سے نہیں پیدا ہو سکتیں۔  
دراصل  رفعنا  سے مفہوم ’’اوپر اٹھانے‘‘ کا لیا گیا اور پھر الطور کو پہاڑ بنانا آسان ہو گیا۔  رفع  کے معنی مختلف ہیں  رفع صوتہ  کے معنی ہیں ’’آواز بلند کرنا‘‘،  رفع فلانا الی الحاکم  ’’ کسی کو حاکم کے سامنے پیش کرنا‘‘،  رفع الخب  ’’ کسی خبر کو مشہور کرنا، رتبہ دینا، فوقیت دینا، حیثیت دینا، عظمت دینا‘‘۔ قرآن میں ارشاد ہے  ورفعنا بعضھم فوق بعض درجت  ’’اور ہم نے ان میں سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں پر فوقیت دی‘‘۔
 
64
ثُمَّ تَوَلَّيْتُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۖ فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ
اس کے بعد پھرتم لوٹ گئے اور اگر تم پر قدرت کا پھر فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑ گئے ہوتے۔
مباحث:۔  
قدرت کا سب سے بڑا فضل اور رحمت اس کے کائنات میں جاری و ساری احکام ہیں جن کے ذریعے خود بخود جزاوسزا ملتی رہتی ہے، اور جو غیر متبدل ہیں۔ جو قوم زوال پذیر ہوتی ہے، خود اپنے کیے کی سزا بھگتتی ہے اور جو قوم ترقّی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے وہ خود اپنے اعمال صالحہ کی وجہ سے گامزن ہوتی ہے۔  
کسی بھی دعا سے قوم کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔
 
65
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ
اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہو جو تم میں سےالسبت کےمعاملے میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر بنے رہو۔
مباحث:۔  
اسی جگہ جان لیجیے کہ  السبت  کوئی ’دِن‘ کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اہل کتاب کی وہ روش ہے جو انہوں نے  الطور  یعنی وحی الٰہی کے ساتھ اختیار کی ہوئی تھی۔  سبت  کے بنیادی معنی کاہلی،سستی، لاپرواہی کے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے سورۃ ۱۶ کی آیت نمبر ۱۲۴  
 إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ   
’’ السبت  تو انہی لوگوں پر تھو پا گیا تھا جنہوں نے وحی الٰہی کے معاملے میں اختلاف کیا تھا، اور تمہارا پالنہار روزِ قیامت ان کے درمیان ان باتوں میں فیصلہ کر دے گا جن میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے۔‘‘  
دیکھ لیجیے کہ  السبت  تو تھو پا گیا تھا۔ اگر یہ کوئی ’’کسی دن‘‘ کا نام ہوتا تو اس کو کیونکر تھوپا جا سکتا ہے۔ دوسری بات یہ ۔۔۔۔ کہ یہ لوگ مادی لحا ظ سے بندروں میں تبدیل نہیں ہوئےتھے بلکہ یہ لوگ اپنی صفات اور خصلت کی وجہ سے بندروں سے مشابہ تھے، اسی لیے ان کو بندر کہا گیا ہے۔سورۃ الما ئدہ کی آیت ۶۰ اور ۶۱ میں بھی ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے جو بندر اور سور ہونے کے باوجود رسول اللہ کی محفل میں کفر کی حالت میں آ کر ویسے ہی لوٹ جاتے تھے۔ یقیناً یہ انسان ہی تھے لیکن اخلاقی لحاظ سے بندر اور سور سے تشبیہ دیئے گئے تھے۔ انہیں اسی آیت میں طاغوت کے پیروکار کہا گہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے ۔  
 هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ   
’’کیا میں تم کو ان سے بھی بدتر جزا پانے والے شرّی لوگوں کے متعلّق بتاؤں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا، اور ان میں سے بندر اور خنازیر یعنی شیطان کے پیروکار بنا رہنے دیا۔ یہ لوگ اپنی جگہ پر انتہائی شرّی اور خد ا کے راستے سے دور ہیں۔‘‘  
 وَإِذَا جَاءُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَد دَّخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ ۚ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ   
’’اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے امن قبول کیا، حالانکہ یہ لوگ داخل بھی کفر کے ساتھ ہوئے اور کفر کے ساتھ نکل بھی گئے، اور خدا کو اس کا خوب علم تھا جو وہ چھپاتے تھے‘‘۔  
دیکھ لیجئے کہ یہ بندر اور خنازیر کفر کے ساتھ آتے ہیں اور کفر کے ساتھ لوٹ بھی جاتے ہیں۔ یقیناّ یہ بندر جسمانی لحاظ سے بندر نہ تھے بلکہ عادات و اطوار کے لحاظ سے بندر تھے۔  
بندر کی خاصیت ہے بے ہنگم آوازیں نکالنا اور دوسروں کی نقّالی کرنا۔ یہ وحی الٰہی کے برخلاف چلنے والوں کا خاصہ ہے جبکہ سور کی خاصیت خود غرضی ہوتی ہے۔ اس لیےوہ معیشت جو خود غرضی پر مبنی ہو (Pig Economy) یا (economy based on Pig philosophy) کہلاتی ہے۔
 
66
فَجَعَلْنَاهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
پس اس کو اس وقت کے لوگوں کے لیے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے، عبرت اور متقیوں کے لیے نصیحت بنا دیا۔
 
67
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا بَقَرَةً ۖ قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ۖ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ قدرت تم سے تقاضا کرتی ہے کہ مذہبی عقائد کو ترک کر دو، تو وہ بولے، کیا تم ہم سےمذاق کرتے ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میں احکام الٰہی کے تحت آتا ہوں تاکہ میں جاہلوں میں سے نہ ہو جاؤں۔
مباحث:۔  
جیسا کہ تفاسیر میں ملتا ہے کہ ایک گائے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔  
غور کرنے کی بات ہے کہ ایک گائے ذبح کرنے سے لوگ کیوں پریشان ہوئے۔ روزانہ ہمیشہ سے ہزاروں گائیں ذبح ہوتی رہی ہیں۔۔ اور یہ کہنا کہ "کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو"۔۔۔ بہت عجیب لگتا ہے۔ یقیناّ یہ کوئی گائے نہیں تھی بلکہ کوئی بہت ہی مقدّس چیز یا مذہب یا عقیدہ تھا جسے چھوڑنے کے لیے وہ راضی نہ تھے اور جس کے متعلّق بات کرنے سے انسان جاہل یا عاقل ہو سکتا ہے۔ یہ وہی گائے ہے جسے انگریزی میں (sacred COW ) کہا جاتا ہے۔
 
68
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ ۚ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَٰلِكَ ۖ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ
انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ اس عقیدہ کی ماہیت کیا ہے۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ ایسا عقیدہ ہے جو کسی حکم کو نہ تو فرض کرنے والا ہے اور نہ ہی صبح نو کی نوید ہے، بلکہ ان کے درمیان میں ہے۔ پس جیسا تم کو حکم دیا جا رہا ہے ویسا کرو۔
مباحث:۔  
اس آیت میں دو الفاظ قابل غور ہیں  فارض  اور  بکر ۔  
 فارض  مادہ ( ف ر ض) معنی ’’لازم قرار دینا، بوڑھا ہونا، لکڑی میں چھید کرنا۔  فارض  اسم الفاعل معنی فرض قرار دینے والا۔  
 بکر  مادہ (ب ک ر) معنی ’’صبح سویرے آنا جانا یا اٹھنا، اول وقت کوئی کام کرنا، عجلت کرنا‘‘۔  
اب غور کیجئے کہ کیا یہ کوئی گائے ہو سکتی ہے؟ کیا کبھی گائے کوئی حکم دے سکتی ہے؟ یہ وہی مقدس گائے ہے جس کو مذہب کہا جاتا ہے، اور جو کہانی قصوں اور روایات پر مبنی ہوتا ہے۔ ان آیات میں قوانین الٰہی پر مبنی دین کےبرعکس روایات یعنی  العجلہ  پر مبنی مذہب کو چھوڑنے کو کہا جا رہا ہے۔
 
69
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۚ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ
انہوں نے کہا کہ پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو بتائے کہ اس کا چلن کیسا ہے۔ موسیٰ نے کہا، پروردگار فرماتا ہے کہ اس عقیدہ کا چلن بے بنیاد پسندیدہ جھوٹ ہے کہ دیکھنے والوں کوبھلا لگتا ہے۔
مباحث:۔  
 لون  مادہ: (ل و ن) معنی ’’رنگ‘‘،..... استعمال: چال چلن پوچھنے کیلئے مستعمل ہے۔آج بھی جب کسی کا حال پوچھنا ہو تو کہتے ہیں  ایش لونک ۔۔۔  ای شیئی  کی بگڑی شکل  ایش  ہے۔  ایش لونک  یعنی آپ کا حال کیسا ہے؟ اردو میں بھی کسی کا چال چلن پوچھنے کیلئے کہا جاتا ہے "فلاں کے کیا رنگ ڈھنگ ہیں۔"  
 صفرأ : مادہ: (ص ف ر)معنی ’’ہونٹوں سے سیٹی بجانا، بھوکا ہونا، خالی ہو جانا، غریب و مفلس، اعداد میں صفر خالی عدد، پیلا رنگ۔۔۔‘‘  
استعمال: زرد صحا فت (yellow journalism ) یعنی جھوٹی صحافت، جھوٹی بے بنیاد دھمکی کیلئے کہا جاتا ہے "خالی پیلی دھمکی" نہ دو۔  صفراء  کے معنی ہوئے بے بنیاد۔  
ان آیات میں اس مذہب کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے جو بنی اسرائیل نے گھڑ لیا تھا۔
 
70
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّا إِن شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ
انہوں نے کہا کہ پروردگار سے درخواست کیجئے کہ وہ ہم کو اس کی مزید ماہیت بتائے، کیونکہ یقیناً ایسا عقیدہ ہم پر متشابہ ہو گیا ہے اور قدرت کی مشیت کے مطابق ہم ہدایت یافتہ ہو جائیں گے۔
 
71
قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا الْآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ
موسیٰ نے کہا کہ قوانین قدرت یہ بتاتے ہیں کہ وہ عقیدہ و مذہب نرمی سے عاری، زمین میں بھڑکا کر فسادپھیلانے والا ہے۔ یہ کسی کی پیاس نہیں بجھاتا۔ یہ مسلّم ہے کہ اس میں حقیقت کچھ نہیں۔ بولے اب تم حق کو لائے ہو۔ تب انہوں نے اس مذہب کو چھوڑا، اور وہ اسے چھوڑنے والے نہ تھے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں اس مذہب کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔  
۱۔۔ لا ذلول ۔ ذلولٌ  : مادہ : (ذ ل ل) معنی: ’’نرمی، تا بعداری‘‘۔ یعنی اس مذہب میں دوسروں کیلئے کوئی نرمی نہیں ہے۔  
۲۔۔ تثیر الارض ۔ تثیر  :مادہ: (ث ی ر) معنی : ’’بھڑکانا، ابھارنا‘‘... یعنی اس مذہب میں لوگوں کو بھڑکا کراور ابھار کر فساد پھیلایا جاتا ہے۔  
۳۔۔ لا تسقی الحرث  جیسے پہلے بھی عرض کیا، قرآن میں پیاس کا مطلب علمی اورنظریاتی پیاس ہے۔ پانی کی پیاس قرآن کا موضوع ہے ہی نہیں۔ (پانی کی پیاس بجھانے کیلئے کنواں اور نہریں کھودنے والے ہر زمانے میں موجود رہے ہیں) یہ مذہب کسی کی علمی پیاس نہیں بجھاتا۔ قرآن میں  حرث  بمعنی قوم آیا ہے۔
 
آیت نمبر ۷۲ میں ایک نفس کے قتل کا ذکر ہے۔ اس نفس کے متعلق عجیب عجیب کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ عام انسان تھا، تو کوئی کہتا ہے یہ سیدنا مسیح کی بات ہے۔۔ لیکن اسی آیت میں کہا جا رہا ہے کہ اللہ اس بات کو جو تم چھپانا چاہتے تھے، ظاہر کرنے والا تھا۔ قرآن شاہد ہے کہ بنی اسرائیل کی اگر کو ئی دشمنی تھی تو وہ احکام الہٰی کے ساتھ تھی۔ وہ وحی الہٰی کو چھپاتے تھے اور وحی الہٰی کو ہی ماننے سے انکار کرتے تھے۔ اس آیت میں قتل بمعنی ضائع کرنا، پس پشت ڈالنا، جھگڑا کرنا اورنفس بمعنی وہ نفس مطمئنہ ہے جو سلیم الفطرت انسان کا ہونا چاہئے۔
72
وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا ۖ وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ
اور جب تم نے ایک نفس کا قتل کیا، پھر تم اس کے بارے میں روایتوں اور کہانیوں میں پڑ گئے لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے، وحی الہٰی اس کو ظاہر کرنے والی تھی۔
مباحث :۔  
اس آیت میں ایک لفظ نفس آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت نمبر ۵۴ میں آیا ہے  فاقتلوا انفسکم  ’’اپنی خواہشات کو چھوڑو‘‘.. یعنی نفس بمعنی خواہش۔ اس آیت میں جس نفس کو قتل کیا گیا یعنی چھپایا گیا، اسے قرآن نے خود بیان کر دیا ہے اور وہ ہے ایک مومن کی خواہش۔۔۔۔ وحی الہٰی۔۔۔۔۔! وحی الہٰی کو کس طرح چھپایا جاتا ہے۔۔؟ جواب ہے  فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا  تم اس کے معا ملے میں کہانیوں قصّوں میں پڑ گئے، تم نے احادیث گھڑ لیں۔  
اس آیت میں ایک لفظ آیا ہے  فَادَّارَأْتُمْ  جس کے معنی کیے جاتے ہیں ’ایک دوسرے پر الزام ڈالنا‘، حالانکہ اس کا مادہ "درء" ہے جس کے معنی ہوتے ہیں وہ روایت جو بیان کی گئی ہو، یعنی احادیث۔ حدیث کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک ہوتا ہے روایت یعنی بیان کرنے والے کے حوالے سے، اور دوسرا ہوتا ہے درایت یعنی جو بھی حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔  
 فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا  کے معنی ہوئے ’’پھر تم اس کے معاملے میں بیان بازی میں پڑ گئے‘‘۔ اگر ذرا غور کیا جائے تو ہم کو اپنی ہی داستان دکھائی دے گی، ہم بھی قرآن کو چھوڑ کر احادیث کی درایت میں پڑ گئے ہیں۔
 
73
فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
تو ہم نے کہا کہ ان احکام کو نفس مضمون کے بعض حصوں کے ذریعے بیان کرو۔ اس طرح وحی الٰہی مردہ (قوم) کو زندہ کرتی ہے اور تم کو اپنے احکام سمجھاتی ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔
مباحث:۔  
یہ قانون قدرت ہے کہ انسان مرنے کے بعد کبھی زندہ نہیں ہوا ہے، البتّہ وحی الہٰی کے مقابلے پر اگرروایات کا سہارا لیا جائے تو قوم مردہ ہو جاتی ہے،لیکن اگر واپس وحی کی طرف پلٹ جائے تو وہی قوم زندہ ہو جاتی ہے۔ اس آیت میں  اضربو ہ  کے معنی مارنا نہیں ہیں بلکہ بیان کرنا ہیں اور "ہ" کا مرجع وہ کتاب ہے جس کو چھپایا جا رہا تھا۔  ببعضھا  میں  ھا  کا مرجع وہ نفس ہے جسے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
 
74
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
پھر اس کےباوجود تمہارے دل اتنے سخت ہو گئے گویا کہ وہ پتھرہوں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ یقیناّ پتھردں کے پھٹنے پر کبھی خوشحالی کے چشمے نہیں پھوٹتے، اور نہ ہی وہ پھٹتے ہیں کہ ان میں سے وحی الہٰی کا اخراج ہو، اور یقیناّ پتھرایسےنہیں ہوتے کہ احکام الہٰی کے خوف سے گر پڑیں اورقدرت تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں ایک لفظ" لما " آیا ہے جو مرکب ہے ۔ ایک حصہ "ل" (لام تاکید) اور دوسرا حصہ "ما " ہے جو ما نافیہ ہے۔ یہ(  لمّا ) نہیں ہے کہ جس کے معنی "جب کبھی بھی" کیے جا ئیں۔ اس آیت میں "م" پر تشدید نہیں ہے اس لیے اس کا ترجمہ نفی میں ("یقیناّ نہیں") ہونا چا ہئے۔  
دوسری بات یہ کہ یہ عام پتھر کی بات نہیں ہو رہی، کیونکہ لفظ " حجارہ  " بطور نکرہ نہیں بلکہ " الحجارہ " بطور معرفہ آیا ہے جس کا مطلب ہے کہ لفظ "پتھر" بطور تشبیہ ان لوگوں کیلئے استعمال ہوا ہے جو پتھر دل ہو جاتے ہیں۔  
ایک لفظ " المآء " آیا ہے جو ہم متعدد مقامات پر واضح کر چکے ہیں کہ یہ لفظ قرآن میں وحی الہٰی کیلئےآتا ہے۔ " ماء " اگر نکرہ آئے گا تو عام پانی کیلئے ہو گا لیکن اگر " المآء " یعنی معرفہ آئے تو اس کو سیاق و سباق سے دیکھا جائے گا کہ اس لفظ کو کس معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ عموماّ " المآء " کا اطلاق وحی الہٰی پر ہوتا ہے۔
 
75
أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِن بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے ساتھ امن قائم کریں گے۔ یقیناّ ان میں سے کچھ لوگ احکام الہٰی کو سنتے ہیں، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے ہیں۔
اس آیت میں " فریق منھم " آیا ہےجس میں " منھم " مرکّب جاٰری ہے۔ اس میں " ھم " کا مرجع وہی پتھر دل لوگ ہیں جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں گزرا ہے۔
 
76
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُم بِهِ عِندَ رَبِّكُمْ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو اقرار کرتے ہیں کہ ہم اہل امن ہوئے، اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جو بات وحی الہٰی نے تم پر کھولی ہے، تو تم ان کو کیا اس لیے بتائے دیتے ہو کہ وہ تمہارے پروردگار کے سامنے تم پر الزام دیں، پس تم عقل کیوں نہیں استعمال کرتے؟
مباحث:۔  
اس آیت میں بنی اسرائیل کے کچھ لوگ اپنے ساتھیوں کو سمجھا رہے ہیں کہ وہ بات جو صحیح ہے اس کا اقرار کر کے تم موقع فراہم کر رہے ہو کہ مومنین تم پر پروردگار کے سامنے حجّت قائم کریں۔ کیا آسمانوں میں موجود پروردگار کو نہیں معلوم کہ ان کی روش کیا ہے۔ ان کفّار پر کیا حجّت اسی وقت قائم ہو گی جب مومنین ان کے خلاف استغاثہ دائر کریں گے؟ جی نہیں ۔۔۔ مذہبی داستانوں میں بیان کردہ آسمانوں میں موجود پروردگار کو کسی قسم کی گواہی نہیں چاہئے۔ یہ تو درحقیقت انسانوں کی دنیا میں موجود مملکت خداداد کے سامنے حجّت قائم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔
 
77
أَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، مملکت خداداد کو سب معلوم ہے۔
 
78
وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إِلَّا أَمَانِيَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ
اور بعض ان میں سے لاعلم لوگ ہیں جو قوانین قدرت سے واقف ہی نہیں سوائے اپنے خیالات کے، اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں۔
مباحث:۔  
بغور دیکھ لیجئے کہ ان آیات میں لفظ " اُمی " کی وضاحت بھی آ گئی ہے۔"  اُمی " وہ شخص ہے جو قوانین قدرت یعنی الکتاب سے واقف نہیں ہوتا۔ "  امی " کا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں کہ وہ اَن پڑھ ہوتا ہے۔
 
79
فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ
تو ان لوگوں کی تباہی ہے جو اپنے ہاتھ سے کتاب قوانین لکھتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ یہ قدرت کے پاس سے آئی ہے، تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کر لیں۔ ان کے لیے اس میں بھی بربادی ہے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لیے اس میں سے بھی خرابی ہے جو وہ کماتے ہیں۔
 
80
وَقَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً ۚ قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ ۖ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
اور انہوں نے کہا کہ آگ ہمیں "ایّاماً معدودات" کے سوا نہیں چھوئے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ وہ اپنے اقرار کی خلاف ورزی نہیں کرے گا، یا تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں خودعلم نہیں۔
مباحث:۔  
 ایاماً معدودات  قرآن کی اصطلاح ہے۔ یہ وہ دور ہے جب مومنین کو کامیابی نصیب ہو گی اور کفّار کو ناکامی دیکھنا ہو گی۔ اسی کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے۔ اسی دور کو مومنین کے لیے " ایام اللہ " کہا گیا ہے۔ اس آیت میں  ایاما معدودات  کا مرکب آیا ہے جس کےمعنی ’’گنتی کے چند دن‘‘ کیے جاتے ہیں ۔  
اول تواس کو چند دن سمجھ کر روزوں پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا ۔اس لیے کہ چند دن کا مطلب ہوگا دو چار دن، نہ کہ پورا مہینہ۔  
دوسری بات کہ یہ قرآن کی اصطلاح ہے جس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔ آئیے قرآن میں وہ تمام مقامات جو ایام کے حوالے سے آئے ہیں، دیکھتے ہیں۔  
ایام اللہ :۔ ۱۴:۵ ۴۵:۱۴،  
ایام معدودۃ:۔ ۲:۸۰  
ایاما معدودات:۔ ۲:۲۰۳ ،۲:۱۸۴، ۳:۲۴  
ان ایام کے علاوہ بھی ایام الخالیہ، ایام معلومات اور ایام نحسات کا ذکر ہے۔ ان ایام کے متعلق مناسب موقع پر بات کی جائے گی، اورہو سکتا ہے ہمارے پڑھنے والےقرآن کے اتنے مزاج شناس اور مزاج آشنا ہو جائیں کہ اس مقام پر اتنی وضاحت کی ضرورت ہی نہ رہے۔  
عجیب بات ہے کہ بھوک پیاس کا روزہ رکھنے والوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ ابن عباس ان ایام سے مراد ہر ماہ کے تین دن لیتے تھے، لیکن پھر بعد کے آنے والوں نے ان کی جگہ ایک ماہ کے روزے فرض کر دیئے۔ خدا ہی جانے وہ کیوں کبھی کوئی حکم نازل کرتا ہے اور کبھی کوئی ۔۔۔۔۔۔۔؟  
  وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُور  سورہ ابراہیم آیت (۵)  
اس آیت میں موسیٰ کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے موسیٰ کواپنی آیات کے ساتھ اس لیے بھیجا تھا کہ وہ اپنی قوم کو جبر و استبداد کے پنجوں سےآزاد کرائے اور ان کو اللہ کے ایام یعنی اُس دَور کی یاد دہانی کرائے جس میں آزادی و خوشحالی اور ترقی و کشاد ہوتی ہے۔  
اس میں ان لوگوں کیلئے دلائل ہیں جو ثابت قدم رہنے والے ہوتے ہیں اور نعمت کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔  
لیکن یہی ایام اللہ اگر ایک طرف مومنین کی آزادی کا باعث ہیں تو دوسری طرف استحصالی طبقے کے لیے مصیبت کا باعث ہوتے ہیں، یعنی ایک ہی دور میں صالح لوگوں کو جزا ملتی ہے اور استحصالی طبقے کو سزا۔  
قرآن کی تاریخ گواہ ہے کہ جب سیدنا موسی کامیاب ہوئے تو آل موسی ٰ کو آزادی ملی جو ان کے لیے ایام اللہ تھے لیکن آل فرعون کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور ان کے لیے ایام المعدودات اور النحسات تھے جس کے لیے نام نہاد یہود یہی کہتے رہے کہ اگر ہماری پکڑ ہوئی بھی تو ایام المعدودات یعنی ایام النحسات کے دوران ہی ہو گی۔  
المعدودات :۔ مادہ: ع د د ۔۔معنی: ۔۔’عدد‘ کے لحاظ سے گنتی اور ’استعداد‘ کے لحاظ سے تیاری۔
 
81
بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
نہیں، بلکہ جس نے بھی غلط کام کیے، اور اس کی خطاؤں نے اسے گھیر لیا تو ایسے لوگ آگ والے ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
مباحث:۔  
آگ بطور سزا سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۱۰۳ میں بیان ہوئی ہے۔ یہ آگ آپس کی دشمنی کی آگ ہوتی ہے۔
 
82
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اور جو اہل امن ہوئے اورجنہوں نے صلاحیت بخش کام کیے، وہ اصحاب جنت ہوں گےاور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
 
83
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنكُمْ وَأَنتُم مُّعْرِضُونَ
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ احکام الہٰی کے سوا کسی کی فرمانبرداری نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ حسن سلوک سے کام لینا یعنی تمام انسانیت سےحسن سلوک اختیارکرنا، اور وحی کا نظام قائم کرنا، اور فریضہ نشو و نما اداکرتے رہنا ۔۔۔ تو تم میں سے چند لوگوں کے سوا سب اس عہد سے پھر گئے اور بے رخی اختیار کر بیٹھے۔
مباحث:۔  
بنی اسرائیل کی اصطلاح ہر اس شخص کیلئے استعمال کی جاتی ہے جو وحی الہٰی کے تابع ہو۔ اس لیے  وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ  کا ترجمہ "اور جب ہم نے وحی الہٰی کے تابع ہونے کا عہد لیا" زیادہ موزوں ہے کیونکہ اس طرح بنی اسرائیل بطور ایک قوم نہیں بلکہ بطور ’ایک نظریہ کے حامل افراد‘ تصور ہوں گے، جس طرح ابن السبیل قرآن میں ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو وحی الہٰی کے تابع ہوتے ہیں۔
 
84
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور اپنے لوگوں کو اپنےوطن سے نہ نکالنا، تو تم نے اقرار کر لیا، اور تم اس عہد کے گواہ بھی ہو۔
 
85
ثُمَّ أَنتُمْ هَٰؤُلَاءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِّنكُم مِّن دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِم بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَارَىٰ تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
پھر تم وہی لوگ ہو جو اپنوں کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنوں میں سے بعض لوگوں پر ظلم و زیادتی کر کے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قیدی بن کر آئیں تو بدلہ دیتے ہو، حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم پر منع تھا۔ کیا تم کتابِ وحی کے بعض احکام کو مانتے ہو اور بعض سے انکار کرتے ہو؟ پس تم میں سے جو ایسی حرکت کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا وی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیام دین کےوقت انتہا ئی سخت عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو، مملکت خداداد ان سے غافل نہیں ہے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں ایک اصطلاح آئی ہے ۔۔۔۔ الحیاۃالدنیا   
یہ مرکب توصیفی ہے ۔ الحیاۃ موصوف ہے اور  الدنیا  صفت ہے،جس کا مطلب ہوا ایسی حیات جس کی صفت دنیا ہے۔  
 دنیا  کا مادہ دنی ہے جس کے معنی میں ادنیٰ، معمولی ہونے کا عنصر پایا جائے، یعنی  الحیاۃ الدنیا  کا معنی ہے ایسی زندگی جو معمولی ہو۔  
عموماً اس مرکب کا ترجمہ مرکب اضافی کے طور پر کیا جاتا ہے جو اس طرح ہے، "دنیا کی زندگی" ۔۔ یہ ترجمہ غلط ہے جس کی وجہ سے  الحیاۃ الدنیا  "(ایسی زندگی جو معمولی ہو) مرکب توصیفی" اور  حیاۃ الدنیا " (دنیا کی زندگی ) مرکب اضافی"... کا فرق ختم ہو گیا ہے۔  
 یوم القیامۃ  بھی مرکب اضافی ہے اور معنی کے لحاظ سے القیامہ کا دن یا عرصہ مراد ہے۔  
 قیامۃ  کا مادہ  ق وم  ہے جس کے معنی ہیں قائم ہونا۔  ا ل  کی وجہ سے معرّف بالام ہے اور خاص مفہوم رکھتا ہے ۔اس مرکب کا ترجمہ ہوگا "القیامہ کا دن یا عرصہ"  
وہ کون سا عرصہ یا دن ہو گا جب کہ کوئی چیز قائم کی جائیگی؟...  يَوْمَ هُمْ بَارِزُونَ لا يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (١٦)  جب وہ دن بمعنی عرصہ قائم ہوگا تو پوچھا جائیگا کہ آج بادشاہت کس کی ہے اور جواب ہوگا کہ الواحد القھّار کی۔  
کیا یہ دن اسی دنیا کا نہیں ہے؟ یقیناً یہ دن اسی دنیا کا ہے اس لیے کہ آج بھی اس دنیا میں لوگ اس دن کے متعلق کوئی سوال نہیں کرتے، البتہ کچھ لوگ اس کی نفی ضرور کرتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں کہتا کہ آسمانوں میں جو حساب کتاب ہوگا وہ میرے حکم سے ہوگا۔ بڑے سے بڑا مذہبی ظالم و جابر بھی اس دن کے ذکر پر بھیگی بلّی بن جاتا ہے۔  
اصلاً تو اسی دنیا کے حساب کتاب کی پروا نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ہماری پوچھ گچھ کوئی نہیں کرنے والا۔ اس لیے کہا گیا کہ جس دن دین قائم ہوگا تو مملکت خداداد ان سے سوال کرے گی کہ بتاؤ آج کے دن حاکمیت کس کی ہے؟ کہ جس کے تم ہمیشہ انکاری تھے۔
 
86
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا وی زندگی خریدی، سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی وہ مدد دیئے جا ئیں گے۔
 
87
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ ۖ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ ابن مریم کو دلائل دئیے اور وحی الہٰی سے ان کو طاقت دی تو جب بھی کوئی رسول تمہارے پاس ایسے احکام لے کر آئے، جن کو تمہارے دل نے پسند نہ کیا تو تم نے تکبّر کیا اورتم نے ایک گروہ کو تو جھٹلایا اور ایک گروہ سے لڑائی کی۔
مباحث:۔  
اس آیت میں  روح القدس  کا مرکب آیا ہے۔ روح کو غلط معنی پہنا کر ایک ایسا مفہوم دے دیا گیا ہے جو رومن دیومالایت سے مستعار ہے۔ قرآن "روح" کو وحی الہٰی کہتا ہے ۔ دیکھیے ۴۲سورۃ کی آیت ۵۲  وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا  اور اسی وجہ سے ہم نے تمہاری طرف اپنے حکم میں سے ایک روح وحی کی۔
 
88
وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَل لَّعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ
اور انہوں نے کہا، ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہیں، بلکہ حقیقت میں تو قدرت نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے پس کم ہی لوگ امن قبول کریں گے۔
 
89
وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُم مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ ۚ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ
اور جب قدرت نے ان کو ایک ایسی کتاب عطا کی جو ان احکام کی بھی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس تھے، تو وہ احکام جن کو وہ جانتے تھے، جب ان کے پاس آئے تو ان سے انکاری ہو گئے حالانکہ وہ اس سے پہلے کافروں پر فیصلہ طلب کرتے تھے، پس انکار کرنے والوں پر قدرت کی لعنت ہوتی ہے۔
 
90
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَن يُنَزِّلَ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ ۚ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ
وہ بہت بری چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنی فطرت سلیمی کو بیچ ڈالا، اور یہ کہ اس چیز کا باغیانہ انداز سے انکار کر دیا جو خدا نے اپنے بندوں میں سے بندے پر اصول مشیت کے مطابق اپنے فضل سے نازل کی ہے، سو وہ اس کے غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے اور انکار کرنے والوں کے لیے ذلّت آمیز عذاب ہے۔  
 
91
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنبِيَاءَ اللَّهِ مِن قَبْلُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ان احکام کے ذریعے جو قدرت نے عطا کیے ہیں، امن قائم کرو، تو کہتے ہیں کہ ہم تو انہی احکام کے ذریعہ جو ہم کو دیئے گئے تھے، امن قائم کریں گے، اور وہ اس کے سوا ہر ایک کا انکار کرتے ہیں حالانکہ یہ سراسرحق ہے اور ان احکام کی بھی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس تھے۔ کہہ دو کہ اگر تم صاحب امن ہوتے تو اس سے پہلے خد ا کے انبیاء سے کیوں لڑائی کرتے تھے۔
 
92
وَلَقَدْ جَاءَكُم مُّوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِهِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ
اور موسیٰ تمہارے پاس واضح دلائل لے کر آئے تھے تو تم نے ان کے بعد غیر از وحی تعلیمات کو پکڑ لیا، اور تم ظلم کرتے تھے۔
مباحث:۔  
اس سے پہلے آیت نمبر۵۱ کے تحت  العجل  کو واضح کر چکے ہیں کہ یہ وہ خارج از وحی احکام تھے جو بنی اسرائیل نے پکڑے ہو ئے تھے۔
 
93
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا ۖ قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِ إِيمَانُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور جب ہم نے تم لوگوں سے عہد لیا اور الطور کو تم پر فوقیت دے کر رفعت عطا کی، کہ جو ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے اس کو سنو، تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن ہم نے اس کی نافرمانی بھی کر تے ہیں، اور ان کے انکار کے سبب ان کے دلوں میں غیر از وحی احکام (العجل) رچ بس گئے۔ تم کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے۔
مباحث:۔  
جیسے کہ آیت ۵۱ کے تحت عرض کیا تھا کہ  العجل  کوئی بچھڑا نہیں بلکہ لوگوں کی خود ساختہ شریعت تھی اورآیت ۶۳ میں عرض کیا تھا کہ الطور کوئی پہاڑ نہیں بلکہ وحی الہٰی تھی جس کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس آیت میں انہی دونوں کا ذکر دہرایا گیا ہے۔  
مومن :۔وہ شخص جو اہل امن ہو۔  
ایمان :۔ اہل امن کا نظریۂ امن اور کیفیت امن۔
 
94
قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِندَ اللَّهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
کہہ دو کہ اگر خوشحالی کا دور قدرت کے نزدیک دوسروں کے علاوہ تمہارے ہی لیے مخصوص ہے اورتم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو تو تم ہماری ناکامی کی آرزو تو کرو۔
مباحث:۔  
اس آیت کے حوالے سے کہا جاتا ہے "کہ تم کفار سے کہہ دو کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو یعنی آخرت کا گھر تمہارے لیے ہے تو موت کی تمنا کرو"۔ یہ ایک بےمقصد سی بات ہو گی، اس لیے کہ کفار بھی اگر پلٹ کر یہی بات مومنین سے کہیں کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ آخرت تمہارے لیے ہے تو تم موت کی تمنا کر کے دکھاؤ تو مومنین کےپاس کیا جواب ہوگا؟ دونوں میں سے کوئی بھی ایسی بے تکی بات جس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے، نہیں کریگا۔ اور اگر کوئی کہہ بھی دیتا ہے تو اس کا اثر کچھ بھی نہیں ہوگا، اور نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلےگا۔ یہ موت ناکامی سے متعلق ہے نہ کہ جسمانی موت۔ بفرض محال اگر یہ جسمانی موت ہوتی تو  الموت  کے بجائے  موتٌ  ہوتی۔
 
95
وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ
لیکن بسبب اس کے جو ان کی طاقت و قوت نے ماضی میں کیا ہے، یہ کبھی ایسی آرزو نہیں کریں گے، اور قدرت کو ظالموں کا علم ہے۔
 
96
وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
یقیناً تم ان لوگوں کو اور مشرکوں میں سے بھی لوگوں کے مقابلے میں آسائشوں کے معاملے میں سب سے زیادہ حریص پاؤ گے۔ ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ بہت لمبی عمر تک آسائش کی زندگی سے ہمکنار رہے، مگر لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اذیت اور تکالیف سے نہیں چھڑا سکتی، اور جو کام یہ کرتے ہیں، قدرت اسے دیکھ رہی ہے۔
مباحث:۔  
آج بھی کوئی ہزار سال کی زندگی کی تمنا نہیں کرے گا، البتہ ہر شخص یہ تمنا ضرور کرے گا کہ اس کی لمبی عمر ہو اور وہ خوشحال اور کامیاب زندگی گزارے۔  
سبع ، ماء ، الف ، وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو کثرت کیلئے بولے جاتے ہیں۔
 
97
قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
کہہ دو کہ جو شخص جبرئیل (وحی الہٰی) کا دشمن ہو تو اس نے (قدرت نے) اس کو ( وحی یعنی   جبریل  کو) اپنے قانون کے مطابق احکام الہٰی کے ساتھ تمہارے دل پر نازل کیا ہے جو ان کے پاس موجود احکام کی تصدیق کرتی ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔
مباحث:۔  
جبر ئیل کا ذکر قرآن میں کل تین مرتبہ آیا ہے، سورہ البقرہ کی آیات ۹۷ اور۹۸ اور سورۃ التحریم کی آیت نمبر ۴ میں۔ پورا قرآن گواہ ہے کہ کفار نے جب کبھی بھی دشمنی کی ہے تو وہ احکام الہٰی سے کی ہے۔ اس آیت سے پہلےبھی بنی اسرائیل کی تاریخ بتاتے ہوئے اسی بات کو واضح کیا ہے کہ جب کبھی بھی ان کو وحی الہٰی کی دعوت دی گئی تو انہوں نےماننے سے انکار کر دیا اور سرکشی پر اتر آئے۔ قرآن میں کہیں بھی جبرئیل سے دشمنی کی بات نہیں کی گئی ہے۔ یہ کہانی روایات کی دین ہے یاد رکھیے قرآن نہ تو کسی فرشتہ نما مخلوق کی بات کرتا ہے اور نہ ہی کسی ایسے فرشتہ کی جس کا نام جبرئیل تھا۔ آئیے اس آیت کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کرتے ہیں۔  
 قُلْ  کہہ دو  مَن  جو  كَانَ  ہے  عَدُوًّا  دشمن  لِّجِبْرِيلَ  جبریل کا  فَإِنَّهُ  تو یقیناً  نَزَّلَهُ  نازل کیا اس کو  عَلَىٰ قَلْبِكَ  تمہارے قلب پر  بِإِذْنِ اللَّهِ  اپنے قانون نزول کے مطابق  مُصَدِّقًا  مصدق ہے   لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ  اس کی جو ان کے پاس ہے  وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ  اور ہدایت اور خوشخبری مومنوں کے لیے۔ اس آیت میں دو جگہ ضمیر واحد مذکر غائب کی آئی ہے  فانّہ  میں ضمیر کا مرجع اللہ ہے او دوسری جگہ  نزّلہ  میں ضمیر کا مرجع کتاب ہے۔
 
98
مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِرِينَ
جو شخص مملکت خداداد کا اور اس کے نافذین احکام کا اور اس کے رسولوں کا اور وحی الہٰی کا اوراحکام کی وکالت کرنے والوں (میکال) کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کی مملکت دشمن ہے۔
اس آیت میں لفظ  میکال  آیا ہے۔ اس کا وزن  مِفعَال  کا ہےجس کے معنی میں "آلہ" یعنی جس چیز سے کوئی کام لیا جائے۔  میکال  کا مادہ "و ک ل" ہے جس کے معنی ہیں کسی کی وکالت کرنا۔  میکال  کے معنی ہوں گے وہ دلائل یا وہ لوگ جو احکام الہٰی کی وکالت کریں۔  
آیت نمبر ۹۹ قطعی طور پر نہ صرف واضح کر رہی ہے بلکہ تصدیق بھی کر رہی ہے کہ جبرئیل احکام الہٰی ہی کا دوسرا نام ہے۔
 
99
وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ
اور ہم نے تمہارے پاس واضح دلائل ارسال فرمائے ہیں، اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو قانون شکن ہیں۔
دیکھ لیجئے جبرئیل کون ہے ؟ احکام الہٰی یا فرشتہ؟
 
100
أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَّبَذَهُ فَرِيقٌ مِّنْهُم ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
ان لوگوں نے جب کبھی بھی کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر امن میں رہنے والے نہیں ہیں۔
 
101
وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اور جب بھی ان کے پاس خدا کی طرف سے کوئی رسول آیا اور اس نے ان احکام کی تصدیق بھی کر دی جو ان کے پاس تھے تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے کتاب الہٰی کو پس پشت ڈال دیا، گویا وہ جانتے ہی نہ تھے۔
پس پشت ڈالنے یا پیٹھ پیچھے پھینکنے سے ان کے دو رویوں کی طرف اشارہ ہے۔ (۱) کسی بات کو اہمیت نہ دینا اور (۲) اسلاف کی طرف رجوع کرنا۔  
دراصل اس آیت کا اگلی آیات سے بنیادی تعلق ہے۔ یہ وہ جماعت تھی جو ملک سلیمان کے خلاف نہ صرف سازشیں کرتی تھی بلکہ احکام الہٰی کا انکار بھی کرتی تھی۔
 
102
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور ان باتوں کی اتباع کرنے لگے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت کے خلاف سرکش افراد بتایا کرتے تھے اور سلیمان نےاحکام الٰہی کا انکار نہیں کیا، بلکہ سرکش افراد ہی انکار کرتے تھے کہ لوگوں کوجھوٹ سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کی بھی پیروی کرنے لگ گئے جو بابل (طاقت و جھوٹ) کے ذریعے دو سرکردہ لوگ ہاروت (سرکش افراد) اور ماروت (سرکش افراد کے مددگار) پر اتری تھیں اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ باور کرا دیتے کہ ہم تو نجات دہندہ ہیں، تم ہماری باتوں کا انکار نہ کرو۔ پس لوگ ان سے وہ باتیں سیکھتےتھے، جس سے سربراہ اور اس کی جماعت کے لوگوں کے درمیان تفریق کر دیں اور وہ ان باتوں کے ذریعہ کسی کو ضررنہیں پہنچا تے تھے سوائے اگر اللہ کے احکام میں گنجائش ہو۔ اور ان کو جو سکھاتے تھے اس سے وہ ان کو نقصان پہنچاتے تھے اور کچھ فائدہ نہ دیتے تھے اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو وہ تجارت کر رہے ہیں اس سے انہیں آخرت میں کچھ ملنے والا نہیں تھا اور جس چیزکے بدلے اپنے نفوس کی تجارت کی وہ بہت بری تھی۔ کاش وہ اس بات کو جانتے۔
جیسا کہ عرض کیا ملائکہ کوئی غیر مرئی مخلوق نہیں ہوتی، بلکہ ہم جیسےانسان ہی ہوتے ہیں۔ جب فرشتوں کا تصور مستعار لیا گیا تو اس کے ساتھ یہ تصور بھی آ گیا کہ فرشتے معصوم ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ وہ کیونکر غلط تعلیم دے سکتے ہیں۔ اگر آیات ۱۰۱ اور ۱۰۲ کو سامنے رکھیں اور آپس کا ربط بھی قائم رکھیں تو بات بڑی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے۔  
آیت ۱۰۱میں بتایا گیا کہ بنی اسرائیل کے پاس جب بھی کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کی تعلیمات کو ماننے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس کے برخلاف خود ساختہ احکام پر عمل کرتے تھے۔  
آیت ۱۰۲ میں سیدنا سلیمان کے قصے کو بطور دلیل بتایا گیا کہ ایسے ہی لوگوں نےسلیمان کی مملکت کے خلاف سازشیں کیں، اور لوگوں سے کہتے تھے کہ ہم تو ذریعہ نجات ہیں تو ہماری بات کا انکار نہ کرو، حالانکہ سلیمان نے اللہ کی آیات کا کفر نہیں کیا تھا بلکہ ایسے ہی لوگ اللہ کی آیات کا کفر کرتے تھے اور ایسی تعلیمات دیتے تھے جن کے ذریعے حکومت اور عوام کے درمیان تفریق پیدا ہو جائے ۔ان آیات میں چند الفاظ غور طلب ہیں۔  
۱ ۔  علیٰ ملک سلیمان  اس کا ترجمہ "ملک سلیمان میں"... کیا جاتا ہے ۔حالانکہ "علیٰ" کے معنی "میں" نہیں ہوتے۔ "ملک سلیمان میں" کا ترجمہ " فی ملک سلیمان " ہو گا۔  
۲۔ دوسرا لفظ ہے  فتنہ ، مادہ "ف ت ن"، معنی "آزمائش ، سونے کو آگ میں پگھلانا تاکہ کھوٹا کھرا معلوم ہو جائے ،نمود ذات کے مواقع تاکہ انسان کے اندر کی اچھائی اور برائی سامنے آ جائے اور تکلیفوں سے بچانا۔"  
علامہ عبد الرشید نعمانی نے لغات القرآن جلد ۵ صفحہ ۳۸ پر لفظ فتنہ اورفتوناّ کی بحث کرتے ہوئے سورہ طٰہ کی آیت ۵۰ کے تحت ایک حوالہ دیا ہے۔ فرماتے ہیں "بقول ابن عبّاس طرح طرح کی تکلیفوں سے بچایا۔"
 
103
وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور اگر وہ اہل امن ہو تے اور پرہیز گاری کر تے تو قدرت سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے۔
 
104
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اے اہل امن! مت کہو کہ ہمیں رعایت دیں۔ کہو کہ ہم پر نظر رکھیں، اورسنو۔۔۔ اور انکار کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
 راعنا  : مادہ : رع و یا رع ء ۔ معنی ’’جانور کا چرانا ، حفاظت کرنا ، خیال رکھنا، رعایت دینا‘‘، مزید معنی کیلئے دیکھئے قاموس الوحید۔  
 راعنا : دو الفاظ کا مرکب ہے۔ ایک ہے "راع" جو فعل امر ہے، جس کے معنی ہیں ’’رعایت دیں‘‘۔ دوسرا لفظ ہے "نا" یہ جمع متکلم حاضر کی ضمیر ہے جس کے معنی ہیں "ہمیں"۔ (صفحہ ۳۹ جلد سوم ،لغات القرآن رشید نعمانی)  
مومنین کو حکم دیا جا رہا ہے کہ رسول سے رعایت طلب کرنے کی بجائے ان سے یہ کہو کہ وہ تمہارے اوپر نظر رکھیں اور تم ان کی بات غور سے سنو۔  
احادیث کی کارستانیوں سے ایک کہانی مشہور کی گئی ہے اور وہ مقصد جو اس نصیحت سے حاصل ہونا تھا وہ فوت ہو گیا ۔
 
105
مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
جو لوگ کافر ہیں، خواہ اہل کتاب سے ہوں یا مشرکوں میں سے، وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر نازل ہو، اور اللہ اس کو جو چاہتا ہے، اسے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔
 من یشاء  کا عموماً ترجمہ کیا جاتا ہے "جو اللہ چاہتا ہے"۔۔ اس ترجمہ میں اللہ ایک ایسی ہستی نظر آتا ہے جو من موجی ہے۔ جب چاہا جو مرضی آیا، کر دیا، نہ کسی قاعدہ کا خیال، نہ کسی اصول کسی قانون کی پروا۔  
اسی لیے اگر دل چاہا تو کتے کو بھی پانی پلانے پرایک انتہائی کافر کو بھی داخل جنت کر دیتا ہے اور اگر موڈ میں نہیں تو ساری عمر کے زاہد اور متقی کو بھی دوزخ کی آگ میں جھونک دیتا ہے۔ جی نہیں۔۔۔۔ ہمارا الٰہ ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔ بلکہ ہر شخص کو اس کے کیے کے مطابق جزا دیتا ہے۔  
 من یشاء  کا ترجمہ ہے "جو انسان چاہتا ہے" لیکن انسان کی خواہش بغیر عمل کے قبول نہیں ہوتی بلکہ اسے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ جو خواہش وہ کر رہا ہے اس کا وہ اہل بھی ہے یا نہیں۔ سورۃ النحل کی آیت ۹۳ کے مطالعےسے بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ ارشاد ہے۔  
  وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن يُضِلُّ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ   
آئیے پہلے عمومی ترجمہ دیکھتے ہیں۔  
اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امّت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہےہدایت عطا کرتا ہے۔ اور لازماً تم سے پوچھا جا ئیگا کہ تم کیا کرتے تھے۔  
اس ترجمہ سے، سب سے پہلے تو یہ معلوم ہوا کہ"اللہ اگر چاہتا تو سب کو ایک ہی ملت بنا کر پیدا کرتا"، لیکن اس نے اختیار و ارادہ دے کر پیدا کیا تاکہ سب اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہوں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ارادہ واختیار دینے کے باوجود "گمراہ کرنے اور ہدایت دینے کی ذمہ داری خود اللہ اپنےاوپر لے رہا ہے۔"  
اور اس سے بھی عجیب بات آگے آ رہی ہے۔ اور وہ یہ کہ "ہر شخص سے اس کے اعمال کے متعلق ضرور پوچھا جائے گا۔"  
یہ ہے ہمارے تراجم کا کمال ۔۔۔۔۔۔۔  
اس ترجمہ میں صرف  من یشاء  کا ترجمہ "جو اللہ چاہتا ہے" کی بجائے "جو بندہ چاہتا ہے" کر دیں تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہو گا۔ آئیے اب اسی اصول پر اس آیت کاترجمہ دیکھتے ہیں۔  
اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو وہ تم کو ایک امت بناتا، لیکن وہ اس بندےکو گمراہ قرار دیتا ہے (یا گمراہ رہنے دیتا ہے) جو بندہ (ایسا) چاہتا ہے اور وہ اس بندے کو ہدایت یافتہ قرار دیتا ہے (یا ہدایت پر رہنے دیتا ہے) جو بندہ چاہتا ہے، اورلازماً تم سے پوچھا جا ئیگا اس کے متعلق جو تم کرتے تھے۔  
دیکھ لیجئے اب کوئی اختلافی بات نظر نہیں آئے گی اور نہ ہی اللہ ’من موجی‘ یا قاعدہ قانون سے لاپروا نظر آئے گا۔ یاد رکھیے اچھائی اور برائی کا ذمہ دار خود بندہ ہے نہ کہ اللہ، اور اللہ جزا اور سزا انسان کو اس کے اعمال کے مطابق ہی دیتا ہے۔
 
106
مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اگر ہم کسی آیت کو منسوخ کر تے یا اسے فراموش کرتے تو اس سے بہتر یا ویسی ہی مثالی آیت بھیجتے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہرچیز کے پیمانے بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
اس آیت کو قرآن کی آیات کو منسوخ کرنے کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے جو کہ سراسر غلط ترجمہ پر مبنی ہے۔ اس آیت میں" ما ننسخ " آ یا ہے۔ " ننسخ " میں"خ" کے اوپر جزم ہے جس کا مطلب ہے کہ " ما ننسخ  " کا ترجمہ منفی ہو ہی نہیں سکتا یعنی "ما" نافیہ نہیں ہے بلکہ"ما " شرطیہ ہے ورنہ " ننسخ " میں "خ" کے اوپر جزم کی بجائے پیش ہوتی۔  
اس آیت کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ ہم کوئی حکم یا دلیل منسوخ کرتے ہی نہیں ہیں  
اور اگرمنسوخ کرتے بھی ہیں تو یہ وہ دلائل یا ا حکامات ہوتے ہیں جنکو قوت باطلہ لوگوں میں احادیث اور کہانیوں کے ذریعے پھیلا دیتے ہیں ۔ اور اگر منسوخ کرتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کی مثالی ہی لاتے۔  
 
107
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی ملکیت خالق ہی کی ہے، اور خالق کے احکام پر مبنی مملکت (مملکت خداداد) کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں۔
 
108
أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ
کیا تم اپنےرسول سے اسی طرح کے مطالبات کرنا چاہتے ہو جس طرح کے مطالبات پہلے موسیٰ سے کیے گئے تھے اور جس نےبھی امن کی روش بدل کر انکار کی روش اختیار کی تو وہ یقیناً سیدھے رستے سے بھٹک گیا۔
اس آیت میں لفظ " سئل "آیا ہے جس کے معنی ’’سوال کرنا‘‘ کیے جاتے ہیں حالانکہ سوال کرنے سے ہی انسان کو اپنے علم میں مزیداضافہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ احادیث کی وجہ سے ہمارے ذہن کند ہو گئے ہیں اور سوال نہ کرنے کی وجہ سے ہم اپنےتجسّس کو واضح نہیں کرتے اور اندھی تقلید میں پڑ گئے ہیں۔  سئل  کا مادہ "س ء ل " ہے جس کے معنی سوال کرنا بھی ہوتا ہے اور مطالبہ کرنا بھی۔ یہاں مطالبات مقصود ہے۔
 
109
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
بہت سے اہل کتاب اپنے اندر کے حسد کی وجہ سے یہ چاہتے ہیں کہ تم کو امن کی کیفیت کے بعد انکار کی طرف لوٹا دیں, اس کے باوجود کہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے، تو تم عافیت اور درگزر سے کام لو، یہاں تک کہ قانون قدرت اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔ بے شک قدرت نے ہر چیز کے پیمانے بنا دیئے ہیں۔
مباحث:۔  
گو کہ قدیر کے معنی ہیں ’’پیمانے بنانے کی صلاحیت کا موجودہ ہونا‘‘، لیکن اس جگہ "بنا دیئے ہیں" ترجمہ کیا ہے وہ اس لیے کہ اس نے حقیقتاً انسان کیلئے ہر طرح کے پیمانے بنا دیئے ہیں۔
 
110
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور احکام الٰہی پر مبنی نظام قائم کرو اور زکوٰة یعنی معاشرے کی خوشحالی کا فریضہ ادا کرتے رہو، اور جو بھلائی اپنے نفوس کے لیے آگے بھیجو گے، اس کو احکام الٰہی کے نظام میں پاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ مملکت خداداد تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔
 
111
وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اور لوگوں نے کہا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کےسوا کوئی بہشت میں نہیں جائےگا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔
 
112
بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
ہاں جوشخص مملکت خداداد کی سلامتی کیلئے اپنی توجہات لگا دے اور وہ حسن کارانہ انداز سے کام کرنے والا بھی ہو تو اس کا صلہ نظام ربوبیت کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو نہ کسی طرح کا خوف ہوتا ہے اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔
 
113
وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی کسی بنیاد پر نہیں ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی کسی بنیاد پر نہیں ہیں اور وہ دونوں احکام الہٰی کی تلاوت کرتے ہیں؟۔۔ اسی طرح کی بات ان لوگوں نے بھی کی جو لاعلم لوگ ہیں ۔ پس دین کے قائم ہونے پر مملکت الٰہی اس بات میں جس میں یہ لوگ اختلاف کر تے تھے، فیصلہ کر دیگی۔
مباحث:۔  
لفظ تلاوت کا مادہ " ت ل و " ہے جس کے معنی میں پڑھنا ہی نہیں بلکہ سمجھنا اور عمل کرنا تک شامل ہے۔ سورۃ الشمس میں ارشاد ہے،  
  وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا (١)وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاهَا  ( گواہ ہے شمس اور اس کی روشنی۔۔۔ اور گواہ ہے چاند جب وہ اس کے پیچھے پیچھے چلے)
 
114
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو احکام الٰہی سے روکے کہ ان کے معاملے میں یاد دہانی کرائی جائے اور ان کی خرابی میں کوشاں ہو۔ ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے آج بھی رسوائی ہے اور کل بھی بڑا عذاب۔
اس آیت میں لفظ دخل آیا ہے جو دخول مکانی اور دخول معنوی، دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ دخول معنوی کی مثال آیت ۲۰۸ میں آئی ہے جو حاضر خدمت ہے۔  
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ   
مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے۔ (البقرہ آیت ۲۰۸ )  
ظاہر ہے اسلام میں داخلہ کسی جگہ کے داخلے کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ ایک نظریہ اسلام کو قبول کرنے کے حوالے سے ہے۔
 
115
وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور مشرق (عروج ) اور مغرب (زوال) سب قوانین قدرت کے مطابق ہے۔ تو تم جدھر بھی توجہات کا رخ کرو گے ادھر ہی قوانین قدرت کو پاؤ گے۔ بے شک قوانین قدرت علم کی بنیاد پر وسعت دینے والے ہیں ۔
 
116
وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۖ بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ
اور انہوں نے کہا کہ خالق کائنات اولاد رکھتا ہے۔ سب کاوش و جدوجہد اسی کی ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں۔
مباحث:۔  
اس مقام پر ایک مرکب  سبحانہ  آیا ہے جس کا ترجمہ "وہ پاک ہے" کیا جاتا ہے۔ یہ مرکب اضافی ہے جس میں  سبحان   مضاف اور ضمیر  "ہ"  مضاف الیہ ہے۔  
 سبحان  کا وزن فعلان کا ہے، جس کے معنی ہوں گے ’’انتہائی جد وجہد‘‘ اور پورے مرکب کا ترجمہ ہو گا ’’سب جد و جہد اسی کی ہے‘‘
 
117
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
وہ تو بلندیوں اور پستی، آسمانوں اور زمین کے قوانین کی ابتدا کرنے والاہے۔ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف کہتا ہے کہ ہو جا، تو وہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
اس آیت میں  فیکون  آیا ہے جو مضارع کا صیغہ ہے، مضارع جو حال اور مستقبل کے معنی دیتا ہے۔ اس کے معنی کسی صورت بھی ماضی کے نہیں لیے جا سکتے۔ اس لیے مفہوم متعین کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
 
118
وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ
اور جو لاعلم ہیں وہ کہتے ہیں کہ قدرت ہم سے کلام کیوں نہیں کرتی۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ۔ ا یسے ہی وہ لوگ جو ان سے پہلے گزرے، انہی کی کی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے ذہن آپس میں ملتے جلتے ہیں، اور بلا شبہ ہم نے یقین کرنے والوں کےلیے احکام بیان کر دیئے ہیں۔
 
119
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۖ وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ
یقیناً ہم نے تمہاری طرف الحق (حقوق کی کتاب) کو خوشخبری سنانے والا اورپیش آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اور اہل دوزخ کے بارے میں تمہاری باز پرس نہیں ہو گی۔
مباحث:۔  
 أَصْحَابُ الْجَحِيمِ  کون ہیں ۔؟ اور جہیم کیا ہے ۔؟  أَصْحَابُ الْجَحِيمِ  کے متعلق اسی سورہ کی آیت نمبر ۱۰ اور  البقرہ  کی۱۱۹ میں بھی ذکر گزر چکا ہے ۔جو حسب ذیل ہے ۔  
 الْجَحِيمِ  ۔مادہ ۔ ج ح م   ۔۔ روکنا ا جحم عنہ ۔وہ اس ے رک گیا ۔، الجحام  بخیل کو کہتے ہیں ۔،  
  تجًحم  بخل اور تنگ دلی کو کہتے ہیں تنگدلی کی وجہ سے انسان اندر ہی اندر جلتا بھنتا رہتا ہے اس لئے جلنے کا مفہوم ماخوذ کیا گیا ۔لیکن یہ آگ وہ آگ ہے جو انسان کو اندر ہی اند کھا جا تی ہے ۔  
 
120
وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
اور تم سے نہ تو یہودی کبھی راضی ہوں گے اور نہ ہی عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کی طرز زندگی کی پیروی کر لو۔ کہہ دو کہ قوانین قدرت ہی اصل ہدایت ہیں اور اگر تم نے علم کے آ جانے کے بعد بھی ان کی اتباع کی تو تم کو قدرت سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔
 
121
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو ایساپڑھتے، سمجھتے اور عمل پیرا ہوتے ہیں جیسا کہ اس کے پڑھنے سمجھنے اور پیروی کرنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس کتاب کے ذریعے امن دینے والے ہیں، اور جو اس کتاب کا انکار کرتے ہیں وہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔
 
122
يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ
اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو، جو میں نے تم پر کی اور یہ کہ میں نے تم کو تمام بستیوں پر فضیلت میں پایا۔
مباحث:۔  
اللہ کی نعمت "وحی " کا عطا کرنا ہےجس پر چلنے سے دنیا کی نعمتوں کا حصول ممکن ہوتا ہے کیونکہ وحی پر چلنے سے انسان کسی کے حق کو پامال نہیں کرتا جس کا لازمی نتیجہ معاشرے کی خوشحالی کی شکل میں ملتا ہے۔  
العالمین " کی بحث آیت ۴۷ کے تحت گزر چکی ہے ۔یہاں اسے پھردہرائے دیتے ہیں ۔  
اس آیت میں ایک لفظ "العالمین " آیا ہے جس کا ترجمہ "تمام عالم" یا "تمام جہان" وغیرہ کیا جاتا ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ کیا واقعی بنی اسرائیل کو تمام کائنات پر فضیلت دی گئی تھی؟ جبکہ اس زمانے میں بنی اسرائیل کواسرائیل کے علاوہ دوسرےعلاقوں کا پتہ ہی نہ تھا ۔ ان سے بڑی اور طاقتور حکومتیں اسرائیل کے ایک طرف ایران اوردوسری طرف روم کی موجود تھیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت بھی دنیا کے نقشے پر اسرائیل سے بڑی مملکتوں کے آثار ملتے ہیں۔ اگر مصر اور فلسطین اور عرب کے علاقوں کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی اس دنیا کا بہت ہی معمولی رقبہ بنے گا جو کہا جا سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کی ماتحتی میں تھا۔  
اس کا مطلب ہے"  العالمین " کا لفظ تمام جہان یا تمام عالم پر محیط نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ہے وہ علاقے یا بستیاں جو بنی اسرائیل کو معلوم تھیں یا جن پر ان کا غلبہ ہو گیا تھا۔
 
123
وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
اور اس دور کی مصیبت سے بچو جس دور میں کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئےگا، اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائےگا اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے گی اور نہ ہی وہ مدد دئیے جائیں گے۔
 
124
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ
اور یاد کرو وہ زمانہ جب پروردگار نے احکام کے ذریعہ ابراہیم کو نمود ذات کے مواقع عطا کیے تو انہوں نے انتہا ئی اچھے انداز میں انہیں پورا کیا۔ پروردگار نے اعلان کیا کہ میں تم کو انسانیت کیلئے امام مقرر کرنے والا ہوں ۔ ابراہیم نےکہا ۔۔۔۔۔ اور میرے پیروکاروں میں سے؟۔۔۔۔۔ پروردگار نے کہا، ہمارا عہد ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا۔
مباحث :۔  
لفظ  ذریت  سے مراد اولاد لی گئی ہے حالانکہ ابلیس کی بھی ذریت ہوتی ہے۔ سورہ الکہف کی آیت ۵۰  
  أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ   ( کیا تم ابلیس اور اس کی ذریت کو اپنا دوست و کارساز پکڑتے ہو حالانکہ وہ تم لوگوں کا دشمن ہے)  
ظاہر ہے ابلیس ایک کردار ہے جو انسانوں میں سے ہی ہے، اور جس کے احکام پر چلنے والے اس کی ذریت ہیں۔ یہ ہر معاشرہ میں ہر جگہ نظر آتا ہے۔ سیدنا ابراہیم کی ذریت ان کی پیروی کرنے والے ہیں، لیکن اگر وہ بھی ظلم کی روش اختیار کرینگے یعنی وحی الٰہی کے برخلاف چلیں گے تو وہ بھی امامت کے منصب سے معزول کر دئیے جائیں گے ۔قرآن کی نظر میں سب سے بڑا ظلم احکام الٰہی کے ساتھ انسانی اصولوں کی آمیزش ہے۔
 
125
وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ۖ وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ
اور میری نعمتوں کا وہ زمانہ بھی یاد کرو جب میں نے وحی الٰہی کو انسانیت کیلئے بار بار رجوع کرنے اور قیام امن کیلئے مقرر کیا اور حکم دیا کہ ابراہیم کی سیرت کی پیروی کرو اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے عہد لیا کہ میرے احکام کو بار بار رجوع کرنے والوں اور غور و خوض کرنے والوں اور احکام الٰہی پر عمل پیرا ہونے کیلئے ہمیشہ آمادہ رہنے والوں کیلئے ہر غیر الٰہی احکا م سے پاک رکھو۔
مباحث:۔  
حقیقت صلوۃ کے صفحہ ۹۹ ۔۱۰۴ان تمام الفاظ پر کی گئی بحث موجود ہے۔
 
126
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَىٰ عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
اور اس زمانے کو بھی یاد رکھو جب ابراہیم نے کہا کہ اے پروردگار، اس خدا کی بستی کو امن کا گہوارہ بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جواحکام الٰہی کے ذریعے پرامن رہیں اور مکافات عمل کےوقت بھی امن پائیں، ان کو ان کے اعمال کے ثمرات عطا فرما۔ فرمایا کہ جومیرے احکام کاانکار کرے گا میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، پھر اس کو آپس کی دشمنی کی آگ کے عذاب سے دو چار رہنے دونگا ، اور وہ بری حالت ہے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں  ھذا بلدا  (یہ بستی ) آیا ہے۔ سوال ہوگا کہ یہ کون سی بستی ہے جس کیلئے اسم اشارہ قریب آیا ہے۔ دراصل یہ بستی ان لوگوں کی بستی ہے جو سیدنا ابراہیم کی تعلیمات پرچلتے تھے ، جیسے کہ سیدنا نوح کے پیروکاروں کی جماعت کو ایک کشتی کے سوار کہا گیا ہے۔  
 مصیر  مادہ : ص ی ر معنی : ایک حالت سے بدل کر دوسری حالت میں منتقل ہونا ۔ ۔۔۔حوالہ:قاموس الوحید صفحہ ۹۵۵۔  
 عذاب النار  قرآن کی اصطلاح ہے سورہ آل عمران کی آیت ۱۰۳ میں اس کی وضاحت موجود ہے ،ملاحظہ فرمائیے۔  
  وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ    
اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور تفرقے میں مت پڑو ۔ اور یاد کرو اللہ کی اس نعمت کو جو تم پر ہوئی جب کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اپنی نعمت کے ذریعے تم کو بھائی بھائی بنا دیا اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے ، تو تم کو اس آگ سے بچا لیا۔اسی وجہ سے اللہ اپنے احکام واضح کرتا ہے تاکہ تم ہدایت یافتہ بنو ۔  
رسالت مآب کی قوم بھی آگ کے گڑھے پر کھڑی تھی۔ یہ کون سی آگ تھی؟ یہ آپس کی دشمنی کی آگ تھی۔  
 
 
 
 
127
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل احکام الٰہی سے قواعد کو پیش کرتے ہوئے کہہ رہے تھے، اے پروردگار، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو بر بناء علم سننے والا ہے۔
اس آیت میں لفظ " قواعد " آیا ہے جو " قاعدہ " کی جمع ہے ۔ لفظ "قاعدہ" معروف ہے، جس کے معنی اصول اور ضابطے کے ہوتے ہیں۔ اس کے معنی عمارت کی بنیاد کر کے "مملکت الٰہی کے اداروں" کو ایک عمارت کا مفہوم پہنا دیا گیا۔  
لفظ  رفع  کی بحث آیت ۶۳ کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔مختصراّ عرض ہے  رفع  کے معنی کسی کے سامنے کسی چیز یا حکم کو پیش کرنا یا رفعت بخشنا ہے۔
 
128
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
اے ہمارے پروردگار، ہم دونوں کو تو اپنے احکام کیلئے سلامتی دینے والا بنا اور ہمارے نقش قدم پر چلنے والوں میں سےبھی ایک جماعت کواپنے احکام کےلیے سلامتی دینے والا بنا، اور ہمیں ہمارے طریقہ اعمال سے آگاہ رکھ اور ہماری طرف توجہ فرمائےرکھ۔ بے شک تو رحمت سے متصف توجہ فرمانے والا مہربان ہے۔  
 
129
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اے پروردگار، ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول مبعوث کرتے رہنا جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور مقصد سکھایا کرے اور ان کی ذہنی نشوونما کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں ایک رسول کو مبعوث کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔ اس خواہش کو رسالتمآب پر منسوب کیا جاتا ہے جو تین وجوہات کے باعث غلط ہے۔  
۱۔ یہاں  "رسول"  نکرہ حالت میں ہےجبکہ رسالت مآب کے لیے ہمیشہ بلا استثناء  "الرسول"  حالت معرفہ میں آئے گا۔ الا یہ کہ مرکب اضافی کی صورت ہو یا اسم جنس کے طور پر آئے ۔  
۲۔ اور دوسری وجہ یہ کہ اللہ تو مجیب الدعوات ہے، پھر دعا کی قبولیت میں صدیوں کا فاصلہ اس کی قبولیت میں کیونکر ہو سکتا ہے۔  
۳۔ جس قوم کیلئے دعا کی گئی کہ اس قوم کے درمیان سے ایک رسول آئے، اس قوم کو کوئی فائدہ نہ ہوا ۔اس لیے کہ وہ تو ایک زمانہ ہوا، مر گئی۔  
اس آیت میں ایک لفظ  تلاوت  آیا ہے اس کا مادہ  ت ل و   ہے جس کے معنی میں ’’پڑھنا ، سمجھنا‘‘ اور ’’سمجھ کر اس پر عمل کرنا‘‘ تک ہوتے ہیں ۔سورہ الشمس کی آیات میں ارشاد ہے ،  
 وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا  () وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاهَا  ()گواہ ہے شمس اور اس کی روشنی، اور گواہ ہے قمر جب اس کے پیچھے چلے ۔  
دیکھ لیجئے تلاوت کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے چلنے کے بھی ہوتے ہیں ۔بے سمجھے بوجھے قرآن کے پڑھنے کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ۔
 
130
وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
اور ابراہیم کے دین سے کون بےرغبتی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ یقیناً ہم نے اس کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہیں ۔
 
131
إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
جب اس سے اس کے پروردگار نے فرمایا کہ سلامتی والے بن جاؤ۔ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کےلیے سلامتی والا بن گیا۔
مباحث :۔  
 اسلم  کا مادہ  س ل م  ہے جس کے معنی سلامتی کے ہیں۔  اسلم  فعل امر ہے جس کے معنی ’’سلامتی کو قبول کرو، سلامتی پرعمل پیرا ہو جاؤ‘‘ وغیرہ ہوں گے۔
 
132
وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی یہی کہا کہ بیٹا اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے، پس مرنا تو مسلم کی موت مرنا۔
مباحث:۔  
جیسا اوپر عرض کیا اسلام کسی مذہب کا نام نہیں ہے اور مسلم کا تعلق سلامتی سے ہے نہ کہ کسی مذہب سے کہ جس کا نام  اسلام  رکھ کر ایک مذہب کی شکل دےدی گئی ہے۔ اسلام سلامتی کا ضابطہ حیات ہے جس میں انسان کی ہر سوچ اور اس کا ہر عمل دوسروں کی سلامتی کے لیے ہوتا ہے۔
 
133
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
جس وقت یعقوب کوموت آئی تو کیا تم اس وقت کے گوا ہ تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی فرمانبرداری کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے الٰہ کی فرمانبرداری کریں گے جو یکتا ہے اور ہم اُسی کیلئے سلامتی کے دینے والے ہیں۔
 
134
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ ایک امت تھی جو گزر چکی۔ ان کیلئے وہ تھا جو انہوں نے کمایا اور تمہا رے لیے وہ جو تم نے کمایا، اور تم سے نہیں پوچھا جائے گاکہ وہ کیا کرتے تھے۔
ماحصل :۔  
اس آیت میں مذہب اور اس کی بنیاد یعنی شخصیت پرستی کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ سیدنا ابراہیم اور ان کے بعد آنے والے جلیل القدر انبیاء کے متعلق جب یہ کہا جائے کہ وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، اس نے جو کیا وہ اس کے اپنے لیے تھا، تم کو ان کے اعمال سے کوئی لینا دینا نہیں، تو مطلب یہ کہ تم اپنے متعلق سوچو کہ تم کیا کر رہے ہو !  
لیکن ہم آج انبیاء ہی کے نام پر لڑائی جھگڑے کرتے ہیں اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے ہیں۔ ہم نے بزرگان دین، اکابر ین اور انبیاء کے نام پر کتنے بت بنا لیے ہیں۔
 
135
وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
اور لوگوں نے کہا کہ یہودی ہو جاؤ یا عیسائی بن جاؤ تو ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے۔ اعلان کرو ۔۔۔۔۔۔ بلکہ دین ابراہیم ہی خالص یک رنگی ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔
مباحث:۔  
مشرک لفظ کا مادہ  ش ر ک  ہے، جس کے معنی و مفہوم میں اصل چیز کے ساتھ کسی دوسری چیز کا شامل ہونا پایا جاتا ہے۔  
مذہب کی اصطلاح میں اللہ کے ساتھ کسی اور ہستی کے اشتراک کو شرک کہا جاتا ہے حالانکہ خالق کی ذات کا ادراک ہماری بصیرت کیلئے ممکن ہی نہیں، اور جو کچھ بھی ہماری سمجھ آئے گا، وہ حقیقت نہیں بلکہ ہمارا تخیل ہو گا۔  
قرآن کی اصطلاح میں شرک تمام تر خالق کے احکام کا شرک ہے۔  
 إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ أَمَرَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ  اللہ کے حکم کے علاوہ کسی کا حکم نہیں ۔۔۔۔اور یہ ہے دین قیم۔  
 وَلا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا  کوئی بھی اس کے حکم میں شریک نہیں ۔  
یہ ہے شرک ۔۔۔۔۔۔۔!
 
136
قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
کہہ دو کہ ہم اہل امن ہوئے خالق کے ان احکام کے ذریعہ جو ہم کو دیئے گئے اور جو ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی امت کو دیئے گئے اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو عطا ہوا، اور جودوسرے نبیوں کو ان کے پروردگار کی طرف سےملا ۔۔۔۔ ہم ان انبیاء کے درمیان کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی خالق کیلئے مسلم ہیں۔
مباحث:۔  
مسلم کا ترجمہ مسلم ہی کیا گیا ہے، اس لیے کہ مسلم کی بحث پہلے کر چکے ہیں۔ مسلم اس شخص کا نام ہے جو سلامتی کو اپنا شعار بناتا ہے۔
 
137
فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
پس اگر یہ لوگ بھی اسی طرح امن والے بن جائیں جس طرح تم احکام الٰہی کے ساتھ اہل امن بنے ہو، تب تو ہدایت یافتہ ہو گئے اور اگر پلٹ جائیں تو یہ عداوت میں پڑ گئے۔ پس یقیناً ان کے مقابلے میں تمھیں اللہ کافی ہے اور وہ علم کی بنا پر سننے والا ہے۔
 
138
صِبْغَةَ اللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ
اللہ کا رنگ اختیار کر لیا ہے اور اللہ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے، اور ہم اسی کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔
مباحث:۔  
آیت کی ابتداء اور تکمیل ایک مرکب سے ہو رہی ہے جو حالت نصبی میں ہے اور اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ اس مرکب سے پہلے کوئی فعل محذوف ہے ۔  صِبْغَةَ اللَّهِ  کے معنی ’’اللہ کا رنگ‘‘ کے ہوں گے ۔اس لیے اس مرکب سے پہلے اگر حکم لیا جائے تو جملہ ہوگا "اللہ کا رنگ بھر لو" یا اگر اعلان ہو تو جملہ ہوگا "ہم نے اللہ کا رنگ بھر لیا ہے" ہم نے یہی ترجمہ کیا ہے اس لیے کہ آگے اعلان بھی اسی کے مطابق ہے جو انسان کی زبان سے کرایا گیا ہے "اور ہم اسی کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں"۔  
یہاں صرف ایک بات نوٹ کرنے کی ہے کہ اللہ کا رنگ اختیار کرنے کے بعد کہا گیا کہ ہم اسی کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں، یعنی عابد وہ ہے جو اللہ کے رنگ کو اپنے اندر بھر لے، نہ کہ پرستش کرے ، یعنی اللہ کی صفات کو اپنے اندر منعکس کرنا ہی عبدیت ہے۔
 
139
قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ
پوچھو کہ کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے اور ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں اور ہم خالص اسی کیلئے ہیں۔
 
 
140
أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی امت یہودی یا نصرانی تھے۔ پوچھو کہ کیا تم زیادہ جانتے ہو یا خالق کائنات؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو خالق کی عطا کردہ شہادت کو، جو اس کے پاس موجود ہے، چھپائے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، قدرت اس سے غافل نہیں۔
 
141
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ ایک امت تھی جوگزر چکی۔ ان کیلئے وہ تھا جو انہوں نے احکام الٰہی کے مطابق کیا، اور تمہارے لیے وہ جو تم نے احکام الٰہی کے مطابق کیا، اور تم کوذمہ دارنہیں بنایا جائے گا اس کا جو وہ کیا کرتے تھے۔
مباحث:۔  
اس آیت سے اندازہ لگا لیجئے کہ ہم پہلے کے گزرے ہوئے لوگوں کو وجہ تنازع بنا کر لڑائیاں کرتے ہیں وہ کس حد تک معقول ہیں ؟قرآن اگر اتنے جلیل القدر انبیاء کے متعلق ہم سے نہیں پوچھے گا کہ وہ کیا کرتے تھے تو اسلاف، اکابر یا اصحاب رسول کے متعلق ہم کیوں لڑتے ہیں؟ اس آیت میں مذہب اور اس کی بنیاد یعنی شخصیت پرستی کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ سیدنا ابراہیم اور ان کے بعد آنے والے جلیل القدر انبیاء کے متعلق جب یہ کہا جائے کہ وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، اس نے جو کیا وہ اس کے اپنے لیے تھا، تم کو ان کے اعمال سے کوئی لینا دینا نہیں، تو تم اپنے متعلق سوچو کہ تم کیا کر رہے ہو۔  
  کسبت   کا مادہ  ک س ب  ہے جس کے معنی ’’کمائی کرنے‘‘ کے ہیں۔ انسان کے اعمال کسی نہ کسی اصول کے تحت ہوتے ہیں۔ یہاں اعمال کی بنیاد احکام الٰہی ہیں جن کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا کہ کس کے اعمال کا وزن کم یا زیادہ ہے۔
 
سورہ البقرہ کی آیت ۱۴۱ تک انسانی تاریخ کے اوراق سے شعور کے اجاگر ہونے اور ایک اصلاحی فلاحی مملکت کے قیام کے اصول دینے کے بعد بنی اسرائیل کی تاریخ سے ان کی احکام الٰہی سے روگردانی کی داستان بتائی گئی ہے۔  
آیت ۱۴۲ سے ان اصولوں کی یاد دہانی کرائی جا رہی ہے، قرآن اپنے اس مخاطب سے خطاب کر رہا ہے جسے ایک مرتبہ پھر وہی شعور حاصل ہوا اور اس نے پھر اسی خواہش کا اظہار کیا جس کا اس نے سورۃ فاتحہ میں اظہار کیا تھا۔اس انسان نے اپنے آباء کے مذہب و ضابطہ حیات کو چھوڑ کر ان قوانین قدرت کو اپنایا جسے صراط مستقیم کا نام دیا گیا ہے۔ آئیے اگلی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
142
سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
لوگوں میں سے احمق لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے ان لوگوں کو اس ضابطہ حیات سے جس پر یہ تھے، پھیر دیا۔ کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خالق قدرت کے لیے ہے وہ  صراط مستقیم  کی طرف اس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو  صراط مستقیم  پرچلنا چاہتا ہے۔
مباحث:۔  
 مشرق  کا مادہ  ش رق  ہے جس کے معنی ’’طلوع ہونا، چمک دمک، روشنی، بلندی‘‘ وغیرہ ہے۔ کسی قوم پر نئی صبح طلوع ہوتی ہے، اس کو اشراق کہا جاتا ہے۔  
اسی طرح  مغرب  کا مادہ  غ ر ب  جس کے معنی ہیں ’’ڈوب جانا، چھپ جانا، غائب ہونا، نامانوس ہونا، ناکام ہونا‘‘  
اس آیت میں تین باتیں قابل غور ہیں ۔  
۱ ۔ قبلہ کیا ہے  
۲۔ ہدایت خدا دیتا ہے یا بندہ ثابت کرتا ہے تب بندہ حاصل کرتا ہے۔  
۳۔ صراط مستقیم  کیا ہے ۔  
۱ ۔قبلہ  
اس سے متعلق وضاحت آیت ۱۴۵ اور ۱۴۶ میں آئے گی۔ یہاں صرف اتنا جان لیجئے کہ قبلہ جسےچھوڑا تھا اصلاً وہ زمانہ جا ہلیہ کا وہ ضابطۂ حیات یا طریق زندگی تھا جسے رسالتماب نے چھوڑا تھا۔  
۲۔" من یشاء "  
اس کی بحث آیت ۱۰۵ میں گزر چکی ہے، البتہ یاددہانی کیلئے عرض ہے " من یشاء " کا معنی ’’جو خدا چاہتا ہے‘‘ غلط ہے بلکہ اس کا ترجمہ "جو بندہ چاہتا ہے" ہونا چاہئے۔  من  کا مرجع خدا نہیں بلکہ بندہ ہونا چاہئے۔  
۳۔ " صراط مستقیم "  
اس مقام پر ایک بات واضح کر لینا چاہئے کہ اس آیت میں صراط مستقیم کی طرف ہدایت کے بارے میں بات ہو رہی ہے اس لیے آگے جو بھی احکام دئیے جائیں گے وہ یقیناً صراط مستقیم کے متعلق ہی ہوں گے نہ کہ کسی عمارت کے حوالے سے بات شروع کر دی جائے۔ آئیے دیکھتے ہیں  صراط مستقیم  کیا ہے۔  
سورۃ الانعام کی آیات ۱۵۱ سے ۱۵۳ تک صراط مستقیم کا ہی بیان ہے۔ نمازی نماز میں صراط مستقیم کی ہدایت کی آرزو مرتے دم تک کرتا رہتا ہے، لیکن کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ قرآن کھول کر دیکھ لے کہ قرآن نے صراط مستقیم کو کس طرح بیان کیا ہے۔  
 قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ مِنْ إِمْلاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ   O  وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ   O  وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ   
کہو کہ آؤ میں تمہیں بتاؤں جو تمہارے رب نے تم پرحرام کیا ہے، کہ تم اپنے رب کے ساتھ کچھ بھی شرک کرو۔  
اور یہ کہ  
۱ ۔۔۔۔ تم والدین کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرو۔  
۲۔۔۔ اور اولاد کو کسی تنگ دستی کی وجہ سے ہلاکت و بربادی میں نہ ڈالو، ہم تم کو بھی ضروریات زندگی بہم پہچاتے ہیں اور انہیں بھی۔  
۳۔۔۔اور فواحش (غیر از قرآنی تعلیمات) کے خواہ ظاہر ہوں یا ڈھکے ہو ئے،قریب بھی نہ پھٹکنا۔  
۴۔۔۔اورکسی ایسے شخص کے ساتھ لڑائی نہ کرنا جس سے لڑائی کرنا قوانین الٰہی نے روکا ہو، سوائے حقوق کی بنیاد پر ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ یہ وہ احکام ہیں جن کا تم کو حکم دیا جاتا ہے، تاکہ تم عقل استعمال کرو۔  
۵۔۔۔یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جانا سوائے حسن کارانہ انداز سے یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچیں۔  
۶۔۔۔اور اپنے ناپ تول کو پورا رکھو انصاف کے ساتھ، ہم کسی کو بھی مکلف نہیں ٹھیراتے سوائے اس کی وسعت کے مطابق۔  
۷۔۔اور جب بھی کوئی بات کرو تو عدل کرو خواہ اپنے قریبی ہی کیوں نہ ہوں۔  
۸۔۔اور اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کو پورا کرو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ احکام تم کو اس لیے دئیے جا رہے ہیں تاکہ تم یاد رکھو ۔  
۹۔۔یہ میری صراط مستقیم ہے۔ پس اس کی اتباع کرو اور کسی دوسری راہ کی اتباع نہ کرنا کہ اس کے ساتھ تم کو اللہ کے راستے سے فرق کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تم کو اس لیے حکم دیا جا رہا ہے کہ تم متقی بنو۔  
ماحصل :۔  
دیکھ لیجئے اللہ کی صراط مستقیم میں کو ئی وہ چیز نہیں ہے جو مولوی کے مروّجہ اسلام میں بتائی جاتی ہے۔ نہ تو اس میں نماز ہے نہ ہی روزہ ہے اور نہ ہی حج یا زکواۃ ہے۔ مروّجہ اسلام کے یہ تمام کے تمام ارکان خارج از قرآن ہیں۔
 
143
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
اور اسی وجہ سے ہم نے تم کو امتِ معتدل بنا دیا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔ اور ہم نے اس نظریہ حیات کو جس پر تم تھے، اس لیے رہنے دیا ہے تاکہ معلوم کریں کہ کون رسول کےنقش قدم پر چلتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، اور یہ بات بھاری نہ تھی سوائے ان لوگوں پر جن کو قدرت نے ہدایت پر پایا اور قدرت کے قوانین ایسے نہیں کہ تمہاری امن کیلئے جدوجہدکو یونہی کھو دے۔ قدرت کے قوانین تو لوگوں پر بڑ ے مہربان بہ رحمت ہیں ۔
اس آیت کا ترجمہ بھی غلط کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ اس آیت میں ۔۔" ان   اور  الا " کا حصر ہے۔ ’’ ان ‘‘ کے معنی ہیں " نہیں" اور " الا " کے معنی ہیں ’’سوائے‘‘۔ اب آپ خود ترجمہ کرکےدیکھ لیجئے کہ کیا معنی ہوں گے، اور ویسے بھی کسی انقلابی اور اصلاحی نظریہ کو قبول کرنا انکار کرنے والوں کیلئے بھاری نہیں ہوتا وہ تو فوراً ہی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ مشکل تو ان لوگوں کو ہوتی ہے جو اس کو قبول کرتے ہیں کیونکہ دشمن تو دشمن ہی ہوتے ہیں، اپنے لوگ بھی جینے نہیں دیتے۔
 
144
قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ۗ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
یقیناّ ہم تمہاری توجّہات کو بلندیوں میں منقلب دیکھ چکے ہیں سو ہم تم کو اسی ضابطہ حیات کی ولایت عطا کر رہے ہیں جس کو تم نے پسند کیا۔ تو تم اپنی توجّہات ان احکام کی ولایت پر لگائے رکھو جو تم کو پابند کرتے ہیں، اور تم لوگ جس حیثیت میں بھی ہو اپنی توجہات انہی احکام کی ولایت کی طرف منصوبہ بندی کے ساتھ لگائے رکھو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ خوب جانتے ہیں کہ یہی ضابطہ حیات ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں قدرت ان سے بے خبر نہیں۔
مباحث:۔  
اس آیت میں چند باتیں غور طلب ہیں :  
۱۔ السمآء  کیا ہے؟  
۲۔ لمسجدالحرام  کیا ہے ؟  
۳ ۔ الحق  کیا ہے ؟  
۴۔  ولایت  کیا ہے؟  
 السمآء   کیا ہے ؟  
 لسمآء ۔۔۔۔ مادہ  س م و  جس کے بنیادی معنی ’’بلندی‘‘ کے ہیں۔اسی سے ’بلند مرتبہ ہونا، بلند ہمت ہونا، اعلیٰ مقام‘ ہے ۔۔۔ اسی مفہوم سے ہر وہ چیز جو حقیقی لحاظ سے یا رتبے کے لحاظ سے بلند ہو سمآء کہلاتی ہے۔  
 المسجدالحرام  کیا ہے؟  
 المسجد الحرام  :۔ مرکب توصیفی ہے اور معرّف بالام ہے۔ دو اسماء کا مرکب ہے ، موصوف المسجد اور صفت الحرام ہے۔  
مسجد لفظ کا مادہ ۔۔   س ج د  ہے جس کے معنی سرنگوں ہونا ہے۔  مسجد  اسم ظرف ہے، یعنی اس لفظ میں سرنگوں ہونے کا وقت جگہ اور مقصد یا نظریہ کے معنی ہونے چاہئیں۔ مثال کے طور پر  منزل  کے مفہوم میں جگہ اور مقصد، دونوں ملتے ہیں، جیسے کسی شخص نے اپنی منزل قرآن کی تعلیم بنائی ہو تو وہ کہے گا "میری منزل قرآنی تعلیم کا بھر پور حصول ہے" ... لیکن کسی کی منزل حکومت کا حصول بھی ہو سکتا ہے۔ جگہ کے لحاظ سےکسی کی"منزل" کوئی شہر یا بستی ہو سکتی ہے۔  
قرآن کے حوالے سے ہم قرآنی لوگوں کی "منزل" قرآن کے احکام کے ذریعے ایسا معاشرہ ہے جس میں ہر شخص قرآنی اقدار کے آگے سرنگوں ہو۔ قرآنی لوگوں کی "مسجد" قرآن ہے ۔ قرآن میں ہمیں دو طرح کے احکام ملتے ہیں۔  
۱۔۔ایک وہ احکام ہیں جو ہمیں پابند کرتے ہیں کہ یہ کام نہیں کرنے۔ ان کو مسجد حرام کہا گیا ہے۔ ان کو "donts" بھی کہا جا سکتا ہے ۔  
۲۔۔ دوسرے وہ احکام ہیں جو ہم کو ہمارے اختیار کے مطابق آزادی دیتے ہیں۔ ان کو "dos" کہا جا سکتا ہے ۔  
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن ہم کو ان احکام کے ذریعے جو ہمارے اعمال کو مادر پدر آزاد ہونے سے روکتے ہیں، مسجد حرام کہتا ہے اور باقی جو بھی ہم اعمال کرتے ہیں، اپنے اختیار سے کرنے میں آزاد ہیں۔ سورۃ  المائدہ  میں حرام کو واضح کرنے کے بعد کہا گیا   يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ   وہ سوال کریں گے کہ انکے لیے کیا جائز ہے۔ کہو کہ تمام طیبات جائز ہیں۔ دیکھ لیجئے کوئی جائز باتوں کی فہرست نہیں دی گئی بلکہ ایک جملے میں سب کچھ بتا دیا کہ ناجائز باتوں کے علاوہ سب کی اجازت ہے۔  
یعنی  المسجد الحرام  وہ احکام ہیں جو ہمیں چند باتیں نہ کرنے کا پابند کرتے ہیں۔ اگر انسان صرف انہی کا خیال کر لے تو ہر برائی سے بچ جاتا ہے۔  
 الحق  کیا ہے؟  
الحق صرف اور صرف قرآن ہے۔  
 ولایت  کیا ہے؟  
اس آیت میں   ول ی  کے مادہ سے تین الفاظ  فلنولینک ،  فول  اور  فولوا  آئے ہیں۔  و ل ی  مادہ سے معروف لفظ ولایت ہے جو اس کے بنیادی معنی کو واضح کرتا ہے۔ علا مہ عبد الرشید نعمانی نے اس کے معنی اپنی لغت القرآن میں  موالیکم  کے تحت جلد پنجم میں صفحہ نمبر ۴۶۹ پر بیان فرمائے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے ۔  
ولاء  اور  توالی  دو چیزوں میں ایسی کیفیت اتصالیہ کہ اجنبیت حائل نہ رہے۔ مجازاً مراد قرب ہوتا ہے، خواہ کیسا ہی ہو، یعنی مکانی یا نسبی یا دینی یا دوستی کے لحاظ سے یا اعتقاد کے لحاظ سے یا امداد کے اعتبار سے یا ملکیت اور مملوکیت کے اعتبارسے۔  ولایۃ  امداد حکومت کی ذمہ داری، کسی کام کا ذمہ دار ہونا،  ولی  اور  مولٰے  دونوں ہم معنی ہیں، ہر ایک کے معنی میں قرب و اتصال کا مفہوم ماخوذ ہےاسی لیے دونوں لفظوں کا اطلاق اللہ پر بھی ہوتا ہے اور بندوں پر بھی۔"  
" مولانا وحید الزمان قاموس الوحید میں صفحہ نمبر ۱۸۹۹ پر  و ل ی  کے معنی کے تحت لکھتے ہیں "قریب ہونا، متصل ہونا، ملا ہوا ہونا ۔کسی کی مدد کرنا، نگران مقرر ہونا، حاکم مقرر کرنا"  
اور صفحہ ۱۹۰۰ پر  المولی  کے تحت لکھتے ہیں "پروردگار، مالک، آقا، کسی کام کا منتظم یا انجام دہندہ، مخلص دوست، ساتھی، رفیق، معاہد حلیف، آنے والا مہمان، پڑوسی، شریک ساتھی وغیرہ ہیں۔ اس آیت میں  فلنولینک  کا ترجمہ ’’رخ پھیرنا‘‘ ماخوذ کیا گیا ہے۔  
بنیادی طور پر زمانہ جاہلیہ کے طور طریقوں کو بدل کر ایک نئے ضابطہ اخلاق کی ذمہ داری کی بات ہو رہی ہے، نہ کہ کسی مندر یعنی ہیکل سلیمانی کی طرف سے ہٹا کر ایک اور اینٹ پتھر کی عمارت کی طرف رخ کرنے کی بات ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔! آئیے کچھ بات ہو جائے تحویل قبلہ پرجو ہمارے لیے یوں بھی لمحہ فکریہ ہے کہ کس طرح احکام الٰہی کو بدل کر یہودیوں نے تحویل قبلہ کی کہانی مسلمانوں کو دی تاکہ ہیکل سلیمانی کی قدر ومنزلت بڑھے، لیکن دینے والوں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ آنے والی نسلوں کے لیے لڑائی جھگڑے کا باعث بن جائے گی۔  
غور کیجئے کہ  
۱۔۔ قرآن نے سیدنا ابراہیم کا مقام کتنا بلند متعین کیا ہے " حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ " (وہ یکسو بغیر کسی طرف مائل ہوئے، خالص احکام الٰہی پر چلنے والا تھا)  
۲۔۔اور یہ بھی یاد رکھیے کہ جس قوم میں رسالتمآب آئے تھے، وہ کہا جاتا ہے سیدنا ابراہیم کی اولاد میں سے تھی۔  
۳۔۔ رسالتمآب کی قوم جو سیدنا ابراہیم کی اولاد میں سے ہے اورجسے (روایات کے مطابق) خوب معلوم ہے کہ کعبہ کی عمارت منہدم ہو جانے کے بعد سیدنا ابراہیم نے پھر سے بنائی تھی اور ان کی آنکھوں کے سامنے وہ کعبہ بطور ایک حقیقت موجود بھی تھا۔  
۴۔۔ بقول روائتی تراجم، رسالتمآب کی قوم کو یہ بھی معلوم تھا کہ کعبہ ہی قبلہ اول ہے۔ " إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ  "(یقینا پہلا گھر جو انسانیت کیلئے بنایا گیا وہ وہی ہے جو بکہ مبارکہ میں ہے اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت ہے)  
اب ملاحظہ فرمائیے قرآن کےا حکام جو رسالتمآب اور ان کی قوم کو سیدنا ابراہیم اور ملت ابراہیمی کے متعلق دیئے گئے۔  
 وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا َ ( البقرہ١٢٤)  
اور یاد کرو وہ زمانہ جب پروردگار نے احکام کے ذریعہ ابراہیم کو نمود ذات کے مواقع عطا کیے تو انہوں نے انتہا ئی اچھے انداز میں انہیں پورا کیا۔ پروردگار نے اعلان کیا کہ میں تم کو انسانیت کیلئے امام مقرر کرنے والا ہوں۔  
ابراہیم نےکہا  
 وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ   (البقرہ١٣٠)  
اور ابراہیم کے دین سے کون بےرغبتی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ یقیناً ہم نے اس کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہیں۔  
 وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ  ( البقرہ١٣٥)  
اور لوگوں نے کہا کہ یہودی ہو جاؤ یا نصرانی ہو جاؤ تو ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے، اعلان کرو ۔۔۔۔۔۔ بلکہ دین ابراہیم ہی خالص یک رنگی ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔  
 قُلْ صَدَقَ اللَّهُ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ   ( آل عمران ٩٥)  
کہو، اللہ نے سچ فرمایا، پس دین ابراہیم کی یکسوئی کے ساتھ پیروی کرو، وہ مشرکین میں سے نہ تھا۔  
 وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا  (النسآء ١٢٥ )  
دین ابراہیمی کی یکسوئی کے ساتھ پیروی کرو، اللہ نے اسے دوست بنایا تھا۔  
 إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ  (النحل ۱۲۰)  
یقیناً ابراہیم یکسوئی کے ساتھ احکام الٰہی کا فرمانبردار تھا، اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔  
 قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ  ُ (الممتحنہ ۴)  
یقیناً تمہارے لیے ابراہیم کی شخصیت ایک پیروی کا نمونہ ہے۔  
اب سوچیں کہ ان تمام احکام کے ساتھ کیا یہ ممکن ہے کہ رسالتمآب وحی الٰہی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیدنا ابراہیم کے قبلے سے رو گردانی کےمرتکب ہوتے۔یقینا یہ ناممکن ہےکہ رسالتمآب نے قرآن کے قبلے سے رو گردانی کی ہو۔  
بفرض محال اگر یہ ایک لمحہ کے لیے مان بھی لیا جائے کہ رسا لتمآب نے ابراہیم کے قبلے کو چھوڑ کر یہودی ہیکل کو اپنا قبلہ بنایا تھا تو چشم تصور سے دیکھئے کہ رسالتمآب کی قوم کا رد عمل کیا رہا ہوگا۔ جب رسالتمآب نے یہ اعلان کیا ہوگا کہ میں دین ابراہیمی کے اصولوں اور احکام کو تو لے کر آیا ہوں جس میں سب کچھ تو وہی ہے جو دین ابراہیمی میں تھا .... سوائے کعبے کے .........اس لیے نماز ہیکل سلیمانی کی طرف منہ کر کے پڑھی جائے گی، جب کہ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ....  
۱۔۔دین ابراہیمی کے پیروکاروں کا معبد ہمیشہ سے کعبہ ہی رہا تھا۔  
۲۔۔ہیکل سلیمانی کا کہیں نام و نشان بھی موجود نہ تھا اور لوگ، حتٰی کہ یہودیوں کو بھی اس معبد کے متعلق کم ہی علم تھا۔ یہ تو سیدنا عمر کے زمانے میں ایک مرتبہ پھر سے معلوم ہوا تھا۔  
۳۔۔رسالتمآب کے زمانے میں تو اس کاکوئی نام و نشاں تک نہ تھا ۔  
۴۔۔ اس کی حیثیت ایک مندر سے زیادہ نہ تھی، اسی لیے اس کو ہیکل کا درجہ ہی ملا اور اس کا نام بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک مندر سے زیادہ کچھ بھی نہ تھا۔  
یاد رکھئیے ہیکل سلیمانی سیدنا سلیمان نے اپنے زمانے میں بنایا تھا جبکہ مسجد اقصی کا ہیکل سلیمانی سے کوئی تعلق نہیں اور مسجد اقصی ۷۰ ہجری کے بعد ابن مالک بن مروان نے بنوائی تھی۔ اس لیے یہ بھی ذہن نشین کر لیجئے کہ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۱ میں جس مسجد اقصٰی کا ذکر ہے وہ آج کی مسجد اقصٰی ہو ہی نہیں سکتی اس لیے کہ جس عمارت کا وجود ہی نہ ہو اس کا ذکر کیونکر کیا جائے گا۔  
اوپر کی تمام تر بحث میں روائتی عقائد کو ان کی اپنی روایات سے ہی غلط ثابت کیا گیا ہے۔ ہمارا موقف تو یہ ہے ہی نہیں کہ خالق کائنات اپنی پوجا یا پرستش کرا کر خوش ہوتا ہے۔ اس لیے کہ قرآن میں کہیں پرستش کا ذکر نہیں ملے گا۔ آئیے اب تمام تر بحث کو سمیٹتے ہوئے جن نتائج پر پہنچے ہیں ان کی تلخیص آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔  
۱۔۔ ہیکل سلیمانی صرف ایک پرستش گاہ ہے اور تھی۔ اس کو وہ مقام کبھی حاصل ہی نہ ہوا جو مسلمانوں نے اس کو دیا ہے۔  
۲۔۔ رسالتمآب کے زمانے میں یہ مسجد موجود ہی نہ تھی۔  
۳۔۔ مسجد اقصی ۷۰ ہجری میں اموی خلیفہ عبد الملک نے بنوائی اور اس کی تکمیل الولید بن عبدالملک نے کی۔  
۴۔۔ مکہ میں کعبہ بطور عربوں کا معبد پہلے سے موجود تھا۔  
۵۔۔ عربوں کے عقیدہ کے مطابق کعبہ کی تعمیر سیدنا ابراہیم نے کی تھی اور عرب قوم سیدنا ابراہیم کی اولاد تصور کی جاتی تھی۔  
۶۔۔ روایتی تراجم کے مطابق اللہ نے کعبہ کو پہلا گھر کہا۔  
۷۔۔ رسالتمآب کو بھی معلوم تھا کہ کعبہ سیدنا ابراہیم کے زمانے سے موجود تھا۔  
۸ ۔۔رسالتماب کو یہ بھی معلوم تھا کہ ہیکل سلیمانی سیدنا سلیمان نے سیدنا ابراہیم کےانتقال کے عرصہ دراز کے بعد بنوائی۔  
۹۔۔مسجد اقصی کی تعمیر رسا لتمآب کے انتقال کے ۷۰ سال بعد ہوئی اور ہیکل سلیمانی کھنڈر کی شکل میں بھی موجود نہ تھا۔ خود روایات بتاتی ہیں کہ سیدنا عمر نے جب فلسطین کا دورہ کیا تو اس کے آثار نکلوا کر اس معبد کو یہو دیوں کے حوالے کیا تھا۔  
۱۰۔۔ اور سب سے بڑی بات... قرآن نے بارہا کہا ہے  فاتبعوا ملت ابراہیم حنیفا  اس لیے ابراہیمی قبلے کو چھوڑنا ملت ابراہیمی کو چھوڑنے کے مترادف ہے۔ ایسی بات رسالتمآب کیونکر کر سکتے تھے۔  
پھر سوچئے کہ ہماری روایات نے کیا کچھ غضب ڈھائے ہیں، حتٰی کہ اصل کعبہ کی جگہ بیت المقدس یا مسجد اقصی نے لے لی۔ اللہ نے کیونکر ڈیڑھ سال تک ایک ایسے معبد کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی رسم کو جاری رہنے دیا جو خود اس کے اپنے اعلان کے مطابق نہ تو  اول بیت  تھا اور نہ ہی دین ابراہیمی سے اس کا تعلق تھا حالانکہ ۔ ۔ خود اس کا مطالبہ ہے کہ دین ابراہیمی کو قائم کرو ۔  
عربوں نے کیونکر اعتراض نہیں کیا کہ دین ابراہیمی کے ہی قبلے کو چھڑوا کر ایک ایسے قبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھوائی جا رہی ہے جس کا کسی صورت بھی دین ابراہیمی سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں۔ رسالتمآب کیونکر ایسا حکم دے سکتے تھے جو قرآن کے خلاف تھا، اور عربوں نے کیونکر اس بات کو قبول کر لیا جبکہ سب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ دین ابراہیمی کا قبلہ تو مکہ میں ہے۔ تحویل قبلہ کی کہانی یہودی سازش کے تحت قرآن میں ڈالی گئی ہے تاکہ یہودی معبد کو اسلام میں بھی وہی حیثیت حاصل ہو جائے جو کعبہ کو ہے۔  
حالانکہ قرآن کی حقیقی تعلیمات میں کسی اینٹ پتھر کی عمارت کو مقدس بنانا ہے ہی نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کیونکر ممکن ہوا کہ ایک غلطی کا ازالہ دوسری غلطی کر کے کیا گیا، یعنی ایک مندر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا جس میں ۳۶۰ بت پہلے سے ہی موجود تھے۔ (یہ عقائد خود نمازیوں کے ہیں، ہمارے نہیں)  
قرآن کی تعلیمات میں انسانی حقوق کی بات کی گئی ہے، انسانیت کی فلاح کی بات کی گئی ہے، استحصالی طبقہ سے انسانیت کو آزاد کرانے کی بات کی گئی ہے۔
 
145
وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ
اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام آیات بھی لے آؤ، تو بھی یہ تمہارے ضابطۂ حیات کی پیروی نہیں کریں گے، اور تم بھی ان کے طریقۂ زندگی کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے ضابطۂ حیات کی پیرو ی کرنے والےنہیں، اور اس کے باوجود کہ تمہارے پاس احکام الٰہی (وحئ الٰہی) آ چکے ہیں، ان کی خواہشوں کی پیروی کرو گے تو یقیناً تم فی الفور ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔
مباحث:۔  
اس آیت کے بعد کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ قرآن جس قبلے کی بات کر رہا ہے وہ کوئی اینٹ پتھر کا قبلہ نہیں ہے بلکہ یہ احکام الٰہی یعنی وحی الہی کا قبلہ ہے۔  
غور کیجئے اس آیت میں کیا کہا جارہا ہے۔۔۔۔۔؟ اس آیت میں تین باتیں کہی گئی ہیں ۔  
۱۔۔سب سے پہلے تو یہ کہاگیا کہ۔۔۔۔ اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام آیات بھی لے آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے۔ یعنی آپ جو بھی کر لیں یہ آپ کے قبلے کی "پیروی" نہیں کریں گے۔  
ذرا الفاظ پر غور کیجئے۔۔۔ معلوم ہو جائیگا کہ قبلہ کیا ہے ۔ ۔۔۔۔۔دیکھئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "قبلہ کوئی ایسی چیز ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے"۔ پیروی یا  اتّباع  صرف اور صرف کسی حکم کی ہو سکتی ہے، کسی اینٹ پتھر کی عمارت کی نہیں ہوتی۔  
۲۔۔ رسول بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں۔ اگر تو یہ حکم ہیکل سلیمانی کے حوالے سے تھا..... تو اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا دعویٰ ویسے ہی غلط ہو گیا، اور  اتّباع  کا ترجمہ ’’منہ کرکے نماز پڑھنا‘‘ کرنا ہو گا، جو غلط ہے۔ دوسرا اگر بفرض محال  اتّباع  کا ترجمہ ’’کسی طرف منھ کرکے نماز پڑھنا‘‘ کر بھی لیا جائے تو آیت کا مفہوم غلط ہو جائے گا، اس لیےکہ رسول اور اصحابِ رسول تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ چکے تھے۔۔۔ پھر یہ کہنا کہ  وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ   تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں، کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں۔  
۳۔۔ان کا آپس میں بھی اختلاف تھا، اور ہر ایک کا قبلہ الگ الگ تھا اور ہر ایک اپنے قبلے کی اتّباع کرانے پر تلا ہوا تھا۔  
جس کا مطلب ہوا کہ ایک یا دو قبلوں کی بات نہیں ہو رہی تھی۔ وہاں تو بہت سارے قبلے موجود تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کون سے قبلے تھے۔۔۔۔؟ یہ سب قبلے ان کے خود اپنی خواہشات کے قبلے تھے جیسے کہ آج مسلمانوں میں ہرفرقے کا قبلہ الگ ہے۔  
اسی لیے کہا گیا ۔۔۔۔  
"اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس العلم (وحئ الٰہی) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کی پیروی کرو گے تو ظالموں میں سے جاؤ گے"  
یاد رکھئیے  
"ہمارا قبلہ صرف اور صرف قرآن ہے" اور "کفار کا قبلہ ان کی خواہشات یعنی غیر قرآنی تعلیمات"
 
146
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی وہ ان احکام کو اسی طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنی امت کے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، مگران میں سے ایک فریق علم ہونے کے باوجود الحق ’’وحی الٰہی‘‘ کو چھپا رہا ہے۔
 
147
الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
وحی الٰہی تمہارے پروردگار کی طرف سےہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔
 
148
وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اور ہر ایک کے لیے ایک وجہ باعث توجہ ہے جس کی وہ ولایت کرتے ہیں، پس تم وحی الٰہی کے مطابق اعمال خیر میں آگے سے آگے بڑھتے رہو، تم جہاں بھی ہو گے قدرت تم سب کو لےآئے گی، بے شک قدرت ہر چیز پر قادر ہے۔
اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ اللہ نے ہر ایک کیلئے الگ طریقہ مذہب مقرر کیا ہے، بلکہ یہ کہا ہے کہ ہرشخص نے کوئی نہ کوئی مقصد بنا رکھا ہے جس کے پیچھے وہ لگا ہوا ہے۔مسلم کا مقصد نیکی اور خیر کے اعمال ہونے چاہئیں جس میں اسے سبقت لینی ہے اور انسان جہاں بھی ہو، اس کے اعمال وحی الٰہی کے مطابق ہونے چاہئیں۔
 
149
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۖ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
اور تم جس حیثیت سے بھی نکلو، اپنی توجہات کو سمجھداری کے ساتھ ان احکام الٰہی کی ولایت پر جو پابند کرتے ہیں، لگائے رکھو۔ بےشک احکام الٰہی تمہارے پروردگار کی طرف سے الحق ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو، قدرت اس سے بےخبر نہیں ہے۔
مباحث:۔  
مسجد حرام ۔۔ وہ احکام جو کسی قانون یا معاہدہ کے تحت پابند کریں۔  
 شطر  ۔۔مادہ   ش ط ر  ۔۔معنی ۔۔ ’’تیزی، چالاکی،سمجھدار، منتظم‘‘ (قاموس الوحید صفحہ ۸۶۴)
 
150
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
اور تم جس حیثیت سے بھی نکلو، اپنی توجہات کو ان احکام الٰہی کی ولایت پر ہی لگائے رکھو جو تم کو پابند کرتے ہیں۔۔۔ اورجس حیثیت میں بھی تم ہو اپنی توجہات کو اس کی ولایت پر ہی لگائے رکھو تاکہ لوگ سوائے ان میں سے جو ظالم ہیں، تم پر کسی طرح کا اعتراض نہ کر سکیں۔ اس لیےان کے احکام سے مت ڈرو بلکہ میرے احکام کی خلاف ورزی کے انجام سے ڈرتے رہو، تاکہ تم کو اپنی تمام نعمتیں عطا کروں اور تم ہدایت پر چلو۔
 
151
كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ
بوجہ اسی کے، ہم نے تمہارے درمیان تمھی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو تم کو ہماری آیات کے تابع رہتے ہوئے عمل کر کے دکھاتا ہے اور تمہیں ہر خارج از قرآن تعلیم سے پاکیزگی عطا کرتا ہے یعنی کتاب (احکام الٰہی ) اور اس کا مقصد سکھاتا ہے، اور ان باتوں کی بھی تعلیم د یتا ہے، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔
مباحث:۔  
 تلاوت  مادہ  ت ل و  معنی ’’پیچھے آنا، ساتھ ساتھ رہنا،نقش قدم پر چلنا، تابع ہونا، پیروی کرنا‘‘۔ اس کے معنی میں ’’پڑھنا، سمجھنا اور سمجھ کر اس پر عمل کرنا‘‘ تک ہوتے ہیں۔سورہ الشمس کی آیات میں ارشاد ہے۔  
 وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا  O  وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاهَا  O گواہ ہے شمس اور اس کی روشنی اور گواہ ہے قمر جب اس کے پیچھے چلے۔  
دیکھ لیجئے تلاوت کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے چلنے کے بھی ہوتے ہیں۔ بے سمجھے بوجھے قرآن کے پڑھنے کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔
 
152
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ
سو تم میرے احکام کی یاد دہانی کراؤ، میں تمہیں نتائج، مکافاتِ عمل کے وقت یاد رکھوں گا اور میرے احکام کا حق ادا کرو اور ان کو مت چھپاؤ۔
ہم نے اللہ کا شکر زبانی کلامی بنا لیا ہے۔درحقیقت کسی بھی شئے کا صحیح استعمال ہی اصلاً اس کے دینے والے کا شکر ہوتا ہے،مثلاًکسی دوست نے رومال دیا، اور جب وہ اگلی دفعہ آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کے رومال سے میز صاف کی جا رہی ہے۔ یہ اس کے تحفہ کی کتنی بڑی نا شکری ہے۔ اس کے برعکس اگر رومال سلیقہ سے کوٹ کی زینت بنے تو یہ اس رومال کا صحیح مصرف ہوگا اور ناشکری تصور نہیں ہو گی۔ اسی طرح اللہ کی نعمتوں کا صحیح استعمال اللہ کی شکرگزاری ہے اور انہی نعمتوں کا غلط استعمال ناشکری ہے۔
 
153
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
اے امن کے دعوے دارو! استقامت اوروحی الٰہی کے نظام سے مدد حاصل کرو، بےشک قوانین قدرت استقامت والوں کے ساتھ ہے۔
 
154
وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
اور جو لوگ احکام الٰہی کی راہ میں لڑائی کیے جائیں، ان کو ناکام مت کہو۔ وہ ناکام نہیں ہیں بلکہ زندگی دینے والے ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں ہو۔
لفظ :  قتل  مادہ ۔۔ "ق ت ل" معنی ۔۔’’لڑائی کرنا، جھگڑا کرنا، حتی کہ جان سے مار دینا‘‘ بھی شامل ہے۔  
لفظ:  موت  مادہ۔۔"م و ت" معنی۔۔’’مادی لحاظ سے جسمانی موت، مقصد کے لحاظ سے ناکامی‘‘۔قوم بھی مردہ ہو جاتی ہے۔
 
155
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
اور ہم ان باتوں سے جن میں خوف اور بھوک اور مال و جان اور نتائج کے نقصان ہوں تم کو نمودِ ذات کے مواقع عطا کریں گے، تواستقامت والوں کو خوشخبری سنا دو۔
 
156
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
یہ وہ لوگ ہیں کہ ان پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم احکام الٰہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔
مباحث:۔  
’’احکام الٰہی کیلئے ہونے‘‘ سے کیا مراد ہے۔ بنیادی طور پر کوئی بھی حکم ہو، اس کی غایت اس پر عمل ہوتا ہے۔ اس لیے ہم احکام الٰہی کیلئے ہیں (   لللہ ) کہنے کا مقصد اس وقت تک مکمل نہیں جب تک ان کو نافذ نہ کیا جائے۔ جب ایک دفعہ حکم نافذ ہو جاتا ہے تو ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔
 
157
أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ
یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی پشت پناہی اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
ما حصل:  
آیات ۱۵۶ اور ۱۵۷ ان لوگوں کی صفات بیان کر رہی ہیں جو استقامت اختیار کرتے ہیں۔ قرآن کا اعلان ہے کہ قدرت لوگوں کو نمود ذات کےمواقع، خوف اور بھوک اور مال اور جان اور رزق (تمام تر ضروریات زندگی) کی کمی سے فراہم کرتی ہے، تو استقامت سے کھڑے رہنے والوں کو خوش خبری ہے، یہ استقامت والے وہ لوگ ہیں جو مصیبت کے وقت بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے آپ کو قوانین قدرت کے حوالے کر دیا ہے اور ہم ہر معاملے میں احکام الٰہی کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی صلٰوۃ یعنی قدرت کے قوانین رحمت کے حقدار ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ تو ہدایت یافتہ ہیں۔
 
158
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
بےشک صفا اور مروہ الٰہی شعا ئر میں سے ہیں لہٰذا جو شخص مملکت خداداد کی حجّت قائم کرے یا اس کے لیے تعمیری کام کرے تواس پر کو ئی رکاوٹ نہیں ہے کہ ان دونوں الٰہی شعائر کے ساتھ مملکت خداداد کی حفاظت کریں اور جو کوئی وحی الٰہی کی اطاعت کرتا ہے تو قدرت بر بناء علم قدر شناس ہے۔
اس آیت میں چند الفاظ قابل غور ہیں جیسا کہ  صفاء ،  مروۃ ،  حج ،  البیت ۔  
 صفأء : مادہ "ص ف و"۔ معنی: ’’خالص ہونا، تصفیہ کرنا، برگزیدہ کرنا‘‘۔  
 مروہ : مادہ "م ر ء" یا "م ری" یا "روء" "روی" ہو سکتے ہیں۔ معنی: اگر مفعل کے وزن پر رکھا جائے تو معنی ہونگے ایسی تعلیم یا نظریہ جس میں مہربانی، بہتات اور خوشحالی ہو، لیکن اگر مصدر لیا جائے تو معنی میں مروٓت اور خو شگواری کا پہلو نمایاں ہو گا۔  
صفاء اور مروہ دونوں معرف بالا م ہیں اس لیے الٰہی احکامات کی تعلیم و نفاذ سے منسوب ہیں۔  صفاء  اور  مروہ  کا شعائراللہ سے ہونا کیا مفہوم رکھتا ہے؟ اس کے لیے سب سے پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہئےکہ شعائر کسے کہتے ہیں۔  
شعائر کسی کے رجحانات کو کہتے ہیں۔ بدکردار انسان کے لیے کہا جاتا ہے "اس کے شعائر کوئی اچھے نہیں ہیں" ... یعنی شعائر کسی کے رجحانات اور نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی مادہ سے نظم کے اشعار کو بھی کہا جاتا ہے۔ کسی کے بال اور شعور بھی اسی مادہ سے بنے ہیں۔  
اللہ کے  شعائر  (  من شعائر اللہ  ) سے مراد وہ طریقہ کار ہے جس سے وحی الٰہی کے مقاصد کو ترویج دی جا سکے، جس کے ذریعے ہمیں اللہ کے احکام کا شعور حاصل ہو، جس کے ذریعے اللہ کی آیات میں حکم اور اس کا مقصد معلوم ہو سکے۔ اللہ کے طریقہ کار یعنی مملکت خداداد کے طریقہ کار میں  صفاء  یعنی تصفیہ خلوص اور برگزیدگی کا پہلو نمایاں ہونا چاہئے۔ دوسرا اللہ کا شعائر ہے  مروہ  یعنی مملکت خداداد کے شعائر میں مروت رحمت اورخوشحالی کا پہلو نمایاں ہو گا۔  
 حج  : مادہ "ح ج ج" معنی: ’’کسی کی حجت قا ئم کرنا، بحث و مباحثہ میں دلیل کے ذریعہ غالب آنا، کسی کے پاس آنا،  حج الجرح   زخم کی گہرا ئی ناپنا‘‘۔  
 اعتمر  مادہ "ع م ر" معنی: ’’بسنا ،زندگی گزارنا‘‘۔  اعتمر  باب افتعال سے ہے،معنی ہیں اہتمام سے کسی کو آباد کرنا۔  
اس آیت کا مفہوم ہے کہ جو بھی اللہ کے احکام کے ذریعے ایک اصلاحی معاشرے کے قیام کیلئے کھڑا ہوتا ہے خواہ جنگ کی کیفیت ہو یا امن کی، تو اس پر کوئی روک نہیں ہے کہ احکام کے نفاذ میں خلوص، محبت ، مروت اور نرمی سے کام نہ لے۔  
 بیت : مادہ"ب ی ت" معنی: ’’جہا ں رات گزاری جائے، گھر، ادارہ مثلاً  بیت المال ،  بیت الیتٰمیٰ ‘‘ لیکن یاد رکھیے کہ اینٹ پتھر کی عمارت کی کوئی قدر نہیں ہوتی جب تک کہ وہ مقصد کہ جس کےلیے وہ عمارت تعمیر کی گئی ہے، اس عمارت میں پورا نہ ہو۔ ’’البیت‘‘ کے معنی کوئی مکان نہیں ہیں بلکہ احکام الٰہی ہیں۔
 
159
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ
جو لوگ ہمارے احکام اور ہدایات کو جو ہم نے نازل کی ہیں، چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے لوگوں کے لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کر دیا ہے۔ ایسے لوگوں کو مملکت خداداد اپنی نوازشات سے محروم رکھتی ہے اور وہ حکام بھی جو اس فرض منصبی پر مامور ہوں ان کو مملکت خداداد کی نوازشات سے محروم کر دیتے ہیں۔
مباحث:۔  
آپ اگر اس آیت پر سرسری انداز سے بھی نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ تمام ماقبل آیات احکام الٰہی کے گرد گھوم رہی ہیں، نہ کہ کسی اینٹ پتھر کی عمارت کے متعلق بات کی جا رہی ہے۔  
 لعنت : مادہ "ل ع ن" معنی: نوازشات اور انعام سے دور کر دینا۔  
عمومی تراجم میں ایک مبہم مفہوم دے کر اس کے حقیقی معنوں سے محروم کردیا گیا ہے اور ایک بد دعائیہ کلمہ پر اکتفاء کرکے اس کےعملی پہلو کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
 
160
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَٰئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
البتہ جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کر لیتے ہیں اور احکام الہیٰ کو بیان کرتے ہیں تو میں ان کی طرف رجوع کرتا ہوں اور میں رحمت کے ساتھ بڑا معاف کرنے والا ہوں۔
 
161
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
یقیناً جن لوگوں نے انکار کی روش اختیار کیے رکھی اور اسی حالت میں نا کام ہوئے تو ایسے لوگ مملکت خداداد اور احکام کے نافذ کرنے والے افراد اور سب انسانوں کے خلوص، محبت اور مروت اور مہربانیوں سے محروم ہوتے ہیں ۔
 
162
خَالِدِينَ فِيهَا ۖ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
وہ ہمیشہ اسی لعنت میں رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جا ئے گی۔
مباحث:۔  
"وہ ہمیشہ اسی لعنت میں رہیں گے" سے یہ مراد نہیں کہ اب آئندہ ہمیشہ ان مراعات سے محروم رہیں گے بلکہ جب تک وہ اپنی روش نہیں بدلتے ان کو مراعات سے محروم رکھا جا ئیگا۔ یاد رکھیے یہ کسی دوسری دنیا کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ یہ اسی دنیا کی بات ہے۔
 
163
وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ
اور تمہارا لٰہ، الٰہ واحد ہے۔ اس انتہا ئی اور ہمیشہ رحم کرنے کے والے کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔
مباحث :۔  
الہہ واحد سے کیا مراد ہے؟ ہم کیسے گواہی دیں کہ ہمارا الٰہ ایک ہے؟ ہمارے پاس وہ کون سا آلہ ہے جس کے ذریعے اس دعوے کی صداقت کی گواہی دی جا سکتی ہے؟ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دوسروں کے کئی الٰہ نہیں ہیں۔ پھر الٰہ واحد سے کیا مراد ہے؟ قرآن کا بیان ہے " ولوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ "  
اب غور کیجئے کہ فساد فی الارض کا باعث کون بنتا ہے اور فساد فی الارض کیسے پیدا ہوتا ہے ؟  
فساد فی الارض کا باعث انسانی استحصال ہوتا ہے۔ انسان کے بنائے ہوئے اصول اور قوانین فساد کا باعث ہوتے ہیں اور ہر انسان کا اصول اور قانون اس کے فائدے کیلئے ہوتا ہے جبکہ الٰہی احکام بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب رہن سہن بول چال وغیرہ، سب کیلئے یکساں ہوتے ہیں اور یہی  الٰہ واحد  کا مفہوم ہے، یعنی احکام الٰہی ہر ایک کے لیے یکساں ہیں۔ سورۃ الفرقان میں ارشاد ہے  أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلا  (آیت نمبر ٤٣) (کیا تم نے غور کیا اس شخص کی حالت پر جس نے اپنی خواہشات کو الٰہ بنا لیا؟ کیا تم ایسے شخص کے لیے پشت پناہ ہو سکتے ہو؟  
اس آیت میں کفار نے اپنی خواہشات کو الٰہ بنا لیا ہے ، سوچئے اگر کفار اپنی خواہشات یعنی غلط خیالات کو الٰہ بنا رہے ہیں تو ہمارا الٰہ کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔۔یقیناً ہمارا الٰہ وحی الٰہی ہونا چاہئے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کائنات میں ایک الٰہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ مطلب ہے کہ کائنات میں بہت سارے الٰہ موجود ہیں۔قرآن کا تو یہ موضوع ہے ہی نہیں۔
 
164
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
یقینا آسمانوں اور زمین (بلندیوں اور پستیوں، عروج و زوال، صاحب اقتدار اور عوام) کے اخلاقیات میں اور رات اور دن (اندھیرے اور اجالے، ظلم اور خوشحالی کے اختلاف میں اور انسانوں کی کشتی کے چلنے میں ان کے فائدے کے ساتھ اور جو قدرت نے نازل کیا پانی (احکام الٰہی) آسمان سے (رفعت و بلندی) پس کہ اس سے زندہ کیا عوام کو اس کی (اخلاقی) موت کے بعد اور زمین (عوام) میں ہر قسم کے لوگوں کے پھیلانے میں اور ہواؤں (راحتوں اور خوشحالی کے) چلانے میں اور ان بوجھوں کے ہٹانے میں جو آسمان (صاحب اقتدارافراد) اور زمین (پسی ہوئی عوام) کے درمیان زبردستی پڑے ہوں، ان سب میں عقلمندوں کیلئے دلائل ہیں۔
قرآن میں ’’آسمان‘‘ سے مر اد ’’بلند اقدار و مقامات‘‘ اور ’’ارض‘‘ سے مراد ’’پست اقدار و مقامات‘‘ ہیں، اور ’’لیل‘‘ سے مراد ’’ظلم‘‘ اور ’’نہار‘‘ سے مراد خوشحالی ہے۔ کشتی انسانوں کی آبا دی کیلئے بھی استعمال ہوا ہے جیسے کہا جاتا ہے... ’’لوگوں کی نیّا ڈوبتی ہے‘‘ اور ’’ایک ہی کشتی کے سوار‘‘... وغیرہ۔ ’’آسمان سے پانی‘‘ سے مراد وحی الٰہی بھی ہے۔  
یاد رکھیے ۔۔۔قرآن پسی ہوئی انسانیت کو جبر و استبداد کے پنجوں سے آزادی دلانے کے پیمانے دیتا ہے نہ کہ دیو ما لا ئی داستانیں۔ ایک بہت ہی اہم بات یاد رکھیے کہ جس آیت کے بعد ایسے الفاظ نظر آئیں جیسے  لقو م یعقلو ن  تو واپس آیت پر ضرور غور کریں کہ اس آیت میں ایسی کون سی بات ہے جس کیلئے غور کرنے کو کہا جا رہا ہے؟ چند جگہوں پر اس طرح کا اختتام بھی ملے گا جیسے  لعلکم تعقلو ن  یا  لعلکم تذکرون  اور  لعلکم تتقو ن  وغیرہ، تو ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کس لیے اس طرح کا حکم دیا جا رہا ہے!
 
165
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ
اور لوگوں میں ایسےلوگ بھی ہیں جو غیر الٰہی احکام کو الٰہی احکام کے ساتھ شریک بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت احکام الٰہی سے کرنی چا ہئے، لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو ا حکام الٰہی سےہی سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں اور اے کاش ظالم لوگ اس عذاب کو دیکھ سکیں جو واقع ہوگا، اور جان لیں کہ اصل طاقت کا سرچشمہ تو احکام الٰہی کیلئے ہی ہے اور یہ کہ احکام الٰہی میں عذاب کی شدت ہے۔
 
166
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ
جس دن پیشوا اپنے پیروکاروں سے بیزاری کا اظہار کریں گے اورعذاب الٰہی دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہو جائیں گے۔
 
167
وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
اور (ان کی) پیروی کرنے وا لے کہیں گے کہ اے کاش ہمارے لیے ایک مرتبہ پھر موقع ہو، تا کہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں، اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں، اس طرح قدرت ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھاتا ہے اور وہ آگ سے نکلنے والے نہیں ہوں گے۔
 
168
يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
اےلوگو! جو کچھ عوام کے معاملے میں جائز اور موزوں ہے، وہ اختیار کرو اورشیطان کےنقش قدم پر نہ چلو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
مباحث :۔  
یہاں ایک بات ذہن نشین کر لیجئے تاکہ لفظ  کلوا  سے متعلق بہت سے شکوک و شبہات خود بہ خود ختم ہو جائیں۔  کلوا   کا مادہ "ا ک ل" ہے جس کے معنی ’’کھانا اور حاصل کرنا‘‘ ہوتے ہیں۔  اکل علیہ الدھر  طویل العمر ہونا،  اکل مالہ  مال ہڑپ کرنا،  اکل لحمہ  غیبت کرنا۔  اکل بین القوم  ایک دوسرے کے خلاف لگائی بجھائی کرنا۔  
کھانے کا عمل دو طرح کا ہوتا ہے۔  
۱۔۔ایک ہے ’روٹی کا کھانا‘  
اور  
۲۔۔دوسرا ہے ’کسی کا حق مار کر حاصل کی ہوئی دولت کا کھانا‘۔  
قرآن کا موضوع حقوق انسانی ہے اس لیے اس میں روٹی کھانے کی اشیاء اور ان کا استعمال موضوع نہیں ہے بلکہ روٹی کے حصول میں دوسرے کے حقوق کو پامال نہ کرنا موضوع ہے۔   کلوا  کے معنی ’’کھاؤ‘‘ کیا جاتا ہے جو یقیناً غلط نہیں ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہاں کھانے پینے سے متعلق بات ہو رہی ہے یا کہ کھانے پینے میں دوسرے کے حقوق کی پامالی نہ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔  
اس آیت میں دو احکامات ہیں ۔  
پہلا حکم ہے " زمین میں جو حلال اور طیب ہے وہ کھاؤ"  
اور دوسرا حکم ہے "شیطان کے نقش قدم پر مت چلو"  
اب ذرا غور کیجئے کہ اگر کوئی شخص شیطان کے نقش قدم پر چل رہا ہے تو وہ کیا کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص یقیناً حکم الٰہی کے برخلاف شیطانی احکام کی پیروی کر رہا ہے، یعنی "حلال اور طیب" کے بجائے "حرام اور خبیث" کھائے گا۔ اس لیے کہ حکم الٰہی ہے، "حلال اور طیب کھاؤ" تو لا محالہ شیطان کا حکم اس کے برخلاف "حرام اور خبیث" ہو گا۔  
لیکن کیا اگلی آیت یہی کہہ رہی ہے ؟ آئیے دیکھتے ہیں ۔۔۔۔
 
169
إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
وہ تو تم کوصرف بے اعتدالی اور خارج از وحی کا حکم دیتا ہےیعنی یہ کہ احکام الٰہی کےمتعلق ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں علم نہیں۔
مباحث:۔  
 السوء   اعتدال سے ہٹ جانا۔  
 الفحش  خارج از وحی احکام  فحش   کیلئے سورۃ الاعراف کی آیات ۱ تا ۳۴ کا مطالعہ فرمائیے۔  
آیت نمبر ۱۶۸ میں کہا گیا کہ "لوگو جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ، اور شیطان کےنقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے"  
لیکن عجیب بات ہے کہ شیطان جو حکم دے رہا ہے وہ کھانے پینے کے متعلق نہیں ہے بلکہ برائی اور بے حیائی کے متعلق ہے۔  
اس لیے یاد رکھیے کہ " کلو ا " کے معنی نہ صرف کھانے کے ہیں بلکہ حاصل کرنے اور اختیار کرنے کے بھی ہیں ورنہ اگر اس آیت میں کھانے کا ذکر ہوتا تو شیطان حلال اور طیب کی بجائے حرام اور خبیث کا حکم دیتا۔ قرآن آپ کو کھانے پینے کے آداب یا اشیاء کے متعلق تعلیم دینے نہیں آیا ہے بلکہ قرآن آپ کو ان اشیاء کے حصول میں لوگوں کی حق تلفی سے روکنے کیلئے آیا ہے۔ شیطان کسی حرام اور حلال کھانوں کی بات نہیں کر رہا بلکہ وہ تو غیر متوازن رویوں اورغیر از وحی احکام کی ترویج کی بات کرتا ہے۔ یقیناً اگلی تمام آیات بھی اسی سے متعلق ہونی چاہئیں۔
 
170
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو قدرت الٰہی نے عطا کیا ہے، اس کی پیروی کرو ۔۔۔تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے اسلاف (آباء) کو پایا۔۔۔۔ خواہ ان کے اسلاف (آباء) نہ تو عقل والے تھے اور نہ ہی ہدایت یافتہ۔
مباحث :۔  
دیکھ لیجئے لوگوں سے کیا کہا جا رہا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو قدرت الٰہی نے نازل فرمایا ہے اس کی پیروی کرو۔  
اور جواب میں وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم تو وہی کھا ئیں گے جو ہمارے آباء و اجداد نے کھایا، بلکہ کفار یہ کہہ رہے ہیں کہ..... ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ غور کیجئے حکم بھی "پیروی" کا دیا جا رہا ہے اور کفار بھی پیروی ہی کی بات کر رہے ہیں۔
 
171
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً ۚ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
اور انکار کرنے والوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی ہستی کو بے ہنگم آواز دے جو صرف دعا اور ندا کے سوا کچھ نہیں سنتا۔ ایسے لوگ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔
 
172
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
اے اہل امن! اگر تم احکام الٰہی کے ہی فرما نبردار ہو تو جو موزوں احکام ہم نے تم کو عطا فرما ئے ہیں ان کو اختیار کرو اور اس کی نعمتوں (احکام) کاصحیح استعمال کرو۔
مباحث:۔  
جیسے پہلے عرض کیا کہ قرآن کسی کھانے کی اشیاء کے حوالے سے پاکی یا ناپاکی کی بات نہیں کر رہا ہے بلکہ اس کے حصول میں کسی کا حق غصب کرنے اور نہ کرنے کی بات کر رہا ہے۔  
 رزق   کے بنیادی معنی روزی، خوراک، راشن وغیرہ ہیں لیکن رزق میں ہر وہ چیز جو کسی کی ضرورت ہو، شامل ہوتی ہے۔ قاموس الوحید ، صفحہ نمبر ۶۱۹ پر۔۔ الرزق  کے معنی درج ہیں  
۱ ۔۔ روزی، رزق ۲۔۔ روزینہ راشن ۳۔۔خیر و بھلائی ۴۔۔ماکولات اور ملبوسات میں سے ہرقابل انتفاع چیز۔ ۵۔۔جوف (پیٹ) میں ہر قابل تغذیہ چیز۔ ۶ بارش ۔  
۷ عطیہ، بخشش۔ ۸۔۔ تنخواہ، مشاہرہ، وظیفہ،  
جیسے پہلے بھی عرض کیا ہے   شکر  کے معنی کسی چیز کے صحیح استعمال کو کہتے ہیں اور  اکل   کے معنی ’’حاصل کرنا، اختیار کرنا‘‘ اور ’’غذا کا کھانا‘‘ ہیں۔
 
173
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اس نے تم پر  المیتہ  اور  الدم  اور  لحم الخنزیر  اورہر وہ اعلان جو غیراللہ کے لیے کیا جائے، حرام کر دیا ہے۔ البتہ جو اضطراری کیفیت میں ہو تو اس کے لیے کوئی روک نہیں بشرطیکہ احکام الٰہی کی نافرمانی نہ کرے اورحدود فراموشی نہ کرے۔ بےشک الٰہی احکام حفاظت فراہم کرنے والے با رحمت ہیں۔
اس آیت میں تمام الفاظ معرفہ ہیں یعنی  المیتہ ،  الدم ،  الخنزیر  جس کا مطلب ہے یہ عام مردار خون اور عام خنزیر کی بات نہیں ہو رہی ہے۔تفصیل کیلئے " کتابچہ حرام و حلال" کے تحت دیکھئے۔ یہاں مختصراً اتنا جان لیجئے کہ۔  
 المیتہ  مردار جانور نہیں بلکہ وہ قوم یا لوگ جو مردوں کی زندگی گزارتے ہیں، جن کو قرآن نے سورۃ الانعام میں   أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ  (١٢٢)  
 الدم  کے بنیادی معنی خون ہوتے ہیں قرآن چونکہ ایک اصلاحی معاشرہ کی تشکیل کی بات کر رہا ہے اس لیے جب کسی کی محنت کا ثمر اڑا لیا جاتا ہے تو محاورتاً کسی کا ’خون چوسنا ، خون خرابا کرنا‘ وغیرہ بولا جاتا ہے۔  
 لحم الخنزیر  مرکب ہے  لحم   اور  خنزیر  کا۔  لحم  مادہ "ل ح م" بنیادی معنی۔کپڑے کے تانے بانے کا جوڑ ،اسی سے جوڑنا ،ٹانکہ لگانا ،ٹھیک کرنا، پختہ کرنا۔۔ چونکہ گوشت میں بھی ریشے تانے بانے کی طرح ایک دوسرے میں گتھے ہوتے ہیں اس لیے گوشت کو  لحم  کہتے ہیں۔  
 خنزیر   ایک جانور کا نام ہے۔ قرآن نے کچھ انسانوں کو اس جانور سے تشبیہ دی ہے۔ آئیے اس کی وجہ دیکھتے ہیں۔ سورۃ المائدہ میں ارشاد ہے  
 قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ  (٦٠)  
(انتہائی شری شخص جس کو قوانین قدرت اپنی نعمتوں سے محروم کر دیں اور جس پر غضب بھی نازل ہو، ایسے لوگوں کو قدرت نے بندر اور خنزیر بنا دیا ہو، یعنی یہ شیطان کے چیلے بنا دیئے گئے ہوں ، ایسے لوگ اپنی جگہ پر انتہائی شری اور صراط مستقیم سے دور جا چکے ہوتے ہیں۔)  
بنیادی طور پر خنزیر ہر قوم میں برائی کی علامت کےطور پر جانا جاتا ہے اور اس کی وجہ اس کے نام کے استعمال میں موجود ہوتی ہے۔ اس مقام پر کیونکہ قرآن انسانوں کی محنت کے ثمرہ کے حوالے سے بات کر رہا ہے اس لیے خنزیر کی خود غرضی اور نفس پرستی کی خصلت زیادہ موزوں مفہوم پیش کرے گی۔ اسی لیے ایسی معیشت جو خودغرضی پر مبنی ہو "economy based on pig philosophy " کہلاتی ہے۔  
 لحم الخنزیر   کے معنی ہیں ایسے خنزیر صفت لوگوں سے تعلقات بنائے رکھنا۔ آئیے حرام اورحلال پر ایک حتمی آیت آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ سورۃ یونس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔  
 قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلالا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ  (٥٩)  
(پوچھو تمہارا کیا خیال ہے کہ جو اللہ نے تمہارے لیے بطور رزق اتارا ہے تو تم نے اس میں سے حرام اور حلال بنا ڈالا ہے۔ مزید پوچھو کہ کیا اللہ نے تمہارے لیے اجازت دی ہے یا یہ کہ اللہ پر تم جھوٹ گھڑ رہے ہو ۔)  
دیکھئے اس آیت میں حرام اور حلال کی لسٹ اللہ نے نہیں دی ہے بلکہ یہ کارنامہ بھی مذہبی پیشوائیت نے روایات کے زیر اثر کیا ہے اور یہودی مذہب سے مستعار لیا ہے۔
 
174
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۙ أُولَٰئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
وہ لوگ جو قوانین قدرت کو جو اس نے نازل کیے ہیں، چھپاتے ہیں اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کرتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی قدرت کے نظام میں مکافات عمل کے وقت نہ تو سنوائی ہو گی اور نہ ہی ان کوان کی غلطیوں سے بری قرار دےگا، بلکہ ان کیلئے تکلیف دہ سزا ہو گی۔
 
175
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا۔ پس ان کی گمراہی کی آ گ پر کیسی استقامت ہے۔
 
176
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ۗ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ
یہ اس لیے کہ قدرت نے ایک خاص کتاب حقوق کی نازل کی۔ اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ انتہائی سرکشی میں پڑ گئے ہیں۔
مباحث :۔  
آپ نے دیکھا ہوگا کہ بہت سارے مقامات پر  الکتاب  کی تعریف  الحق  آئی ہےجس کا ترجمہ ’سچی کتاب‘ کیا جاتا ہے۔ یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ خالق کائنات کو بار بار اپنی کتاب کے متعلق لوگوں کو باور کرانا پڑتا ہے کہ یہ کتاب سچی ہے ....!۔ اگر خالق کائنات کو اپنی کتاب کے لیے اتنی بار کہنا پڑ ے کہ یہ سچی ہے تو عام کتاب کا کیا حال ہو گا......؟۔ جب کوئی شخص اپنی خود تعریفی میں اتنا غلو اختیار کرتا ہے تو معا ملہ مشکوک ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر کیا وجہ ہے کہ خالق اپنی کتاب کو اس کے مضمون کے ذریعے نہیں ثابت کر پا رہا کہ یہ سچی ہے .....؟۔ آج تک کسی حساب یا سائنس کی کتاب لکھنے والے نے یہ نہیں کہا کہ فلاں حساب یا سائنس کی کتاب صحیح ہے یا سچی ہے۔  
کتاب تو خود ثابت کرتی ہے کہ اس کے مضامین سچے ہیں یا جھوٹ پر مبنی ہیں۔ لکھنے والا ایسی بات تو اس وقت کرے گا جب اس نے کچھ گڑ بڑ کی ہو گی، جو خالق کائنات کی شان نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایسے مقامات پر ترجمہ ہی غلط کیا گیا ہے۔  الکتاب  ایک خاص کتاب بمعنی وحی الٰہی، احکام الٰہی، قوانین قدرت اور  بالحق  حق کی۔ وحی الٰہی ،احکام الٰہی، قوانین قدرت اصلاً وہ اصول اور پیمانے دیتے ہیں جو انسانیت کو اس کے حقوق دلاتے ہیں اور انسان کو دوسرے انسان پر ظلم و زیادتی سے روکتے ہیں۔
 
177
لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ
یہ اطاعت ہرگز نہیں ہے کہ تم توجہات کو مشرق یا مغرب کی ولایت پر لگائے رکھو ۔۔۔۔۔۔ اطاعت گزار تو وہ ہے جو ۔۔۔۔۔ مملکت الٰہی کےساتھ پرامن رہے یعنی مکافات عمل کے وقت اور حکام کے ساتھ بھی، اور قوانین الٰہی کے ذریعہ مملکت کے صدور کے ساتھ پرامن رہے۔۔۔۔۔۔ اور مال کی محبت کے باوجود قرابت داروں کو، بے سہارا لوگوں کو، جن کے ذرائع آمدن رک جا ئیں، اللہ کی راہ میں لگے لوگوں کو، اور جو سائلین (مسئولین ، ذمہ دار افراد) مشکل میں پھنسے لوگوں کو دے۔۔۔۔۔۔ اور احکام الٰہی کے تحت خوشحال نظام قائم کر ے۔۔۔۔۔۔ اور جب بھی عہد کر ے تو اس کو پورا کرے ۔۔۔۔۔۔ اور سختی و تکلیف میں اور معاشی کمزوری کے وقت، اور کارزار کے وقت ثابت قدم رہے۔ یہی سچ کر دکھانے والے لوگ ہیں اور یہی لوگ تو متقی یعنی احکام الٰہی کے ساتھ ہم آہنگ لوگ ہیں۔
مباحث:۔  
آیت نمبر ۱۴۲ سے احکام الٰہی کی ولایت کی بات ہو رہی ہے اور وہ احکام الٰہی جن کو ہر وقت سامنے رکھنا ہے، قبلہ کہا گیا ہے اور اس آیت میں اختتام اس بات پر کیا گیا کہ ولایت صرف ان احکام کی ہوگی جو نہ تو مشرق کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں اور نہ ہی مغرب کی طرف، بلکہ ان سے  البر  یعنی کشادگی حاصل ہوتی ہے۔  
آیت کا اختتام  وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ  پر ہو رہا ہے، اس لیے خوب ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ متقی کی کیا کیا خصوصیات ہوتی ہیں، اور جہاں جہاں  لعلکم تتقون  آیا ہے تو اس مقام پر یاد رکھیے کہ جوبھی حکم دیا جا رہا ہے اس کا مقصد انسان کی ذات میں تقوی پیدا کرنا ہے۔ ذیل میں دی گئی آیات کا مقصد متقی بننا ( لعلکم تتقون ) ہے ان کو غور سے دیکھ لیجئے۔  
البقرہ۔۔۔۔۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ  (٢١)  
 وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ  (٦٣)  
 فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ  (٧٣)  
 وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الألْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ  (١٧٩)  
الانعام۔۔۔۔ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ  (١٥٣)  
الاعراف ۔۔۔ َإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنُّوا أَنَّهُ وَاقِعٌ بِهِمْ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ  (١٧١)
 
178
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ
ائے امن قا ئم کرنے والو تم کو قتل کے معا ملے میں تفتیش اور پیروی کا حکم دیا جاتا ہے۔۔۔۔ ایک آزاد (قتل کرے تو اس ) کا بدلہ آزاد، اور محکوم کا بدلہ محکوم اور عورت کا بدلہ عورت۔ البتہ جو اپنے بھائی کی طرف سے معاف کیا گیا تو پسندیدہ طریق سے پیروی اور معاملات کی ادائیگی خوش اسلوبی کے ساتھ کرنا چاہیئے۔ یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے آسانی اور مہربانی ہے۔ جو اس کے بعدبھی زیادتی کرےتو اس کے لیے تکلیف دہ سزا ہے۔
مباحث:۔  
اس آیت کا مفہوم ایک انسان کے قتل کے حوالے سے لیا جاتا ہے، اور مفہوم کچھ یوں لیا جاتا ہے کہ ’’اگر کوئی آزاد انسان کسی کا قتل کرے تو اس کا بدلہ بھی وہی آزاد شخص ہوگا نہ کہ اس کی جگہ سزا کے لیے کسی مجبور کو پیش کر دیا جائے، اور اگر کوئی محکوم شخص کسی کا قتل کرے تو وہی اس کا بدلہ ہوگا۔ اسی طرح کوئی عورت اگر قتل کرے تو وہی عورت اس کا بدلہ ہو گی۔  
حالانکہ ایسا ضرور ہوا ہے کہ بڑے صاحب نے گاڑی مار کر کسی کو ہلاک کر دیا اور ڈرائیور کو اپنی جگہ پیش کرکے خود کو بری کر لیا۔ اسی طرح جرائم کر کے با اثر افراد اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں... اور یہ کہ اس آیت میں اسی غلط روش کو روکا گیا ہے۔  
لیکن کیا آیت کا مفہوم یہی ہے؟.... دیکھئے.....  
۱۔۔اسلام میں غلام اور آزاد انسان کی تفریق نہیں ہے۔ ہر انسان کو بنیادی حقوق برابری کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیں۔  
۲۔۔اس آیت میں تین الفاظ آئے ہیں ۔۔ الحر، العبد، الانثیٰ ۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ یہ سب الفاظ معرّف بالام کیوں ہیں؟ اگر تو یہ عمومی بات تمام لوگوں کے لیے ہے تو ان الفاظ کو نکرہ ہونا چاہئے۔ یہ کون سے خاص  الحر، العبد  اور  الانثیٰ  کی بات ہو رہی ہے؟۔۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ تینوں الفاظ مندرجہ بالا ترجمہ کی بنیاد پر عجیب سا جملہ پیش کر رہے ہیں، مثلاً اگر  الحر  کا متضاد  العبد  لیا جائے تو دونوں الفاظ جنس کے لحاظ سے مذکر ہیں، ان الفاظ کے مونث  الحرۃ  اور  العبدۃ  ہونگے،  الانثیٰ  کا لفظ کسی صورت بھی ان دونوں الفاظ کا جنس کے لحاظ سے متضاد نہیں آ سکتا.... اس لیے کہ  الانثیٰ  آزاد بھی ہو سکتی ہے اور لونڈی بھی۔ اس لیے اس کی سزا میں مردوں کی طرح فرق کیوں نہیں ملحوظ خاطر رکھا گیا؟۔ اور اگر  الحر  کا متضاد  العبد  لیا جائے تو  الانثیٰ  کا متضاد  الذکر  کیوں نہیں آیا ہے؟۔
 
179
وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اور اے اہل علم و دانش! معاملات کی پیروی میں حیات آفرینی ہے تاکہ تم متقی بنو۔
 
180
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ نے والا ہو تو والدین اورقریب والوں کیلئے معروف طریقے و دستور کے مطابق وصیت کرے۔ احکام الٰہی کاعلم رکھنے والوں کیلئے یہ ایک لازم حقیقت ہے۔
مباحث:۔  
ہمارے فقہاء نے وصیت کو منسوخ قرار دیا ہے حالانکہ قرآن کے مطابق وصیت فرض کی گئی ہے اور جدید علماء بھی فقہاء کی اس علمی کوتاہی اورنقص کو جان لینے کے باوجود لکیر کے فقیر اور اندھی تقلید میں لگے ہوئے ہیں۔ جان لیجئے کہ وصیت آپ کے اپنے حالات کے مطابق آپ پر فرض ہے۔ اگر وصیت کرنے والے سے غلطی بھی ہو جائے تو عدالت کو اس بات کا حق ہے کہ وہ حکم کے ذریعے اس وصیت میں تبدیلی کر سکتی ہے اور اگر عدالت سے غلطی ہو تو اس کی بھی پکڑ ہو سکتی ہے۔ وضاحت آگے ملاحظہ فرمائیے۔
 
181
فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
جو وصیت کو سننے کے بعد بدلے تو اس کا گناہ انہی ( مملکت خداداد کا عدالتی نظام) پر ہے جو اس کو بدلیں، اور بےشک مملکت خداداد کی عدالت علم کی بنیاد پر سنتی ہے۔
مباحث :۔  
وصیت کا سننا اور بدلنا عدالت کا اختیار ہوتا ہے۔ وصیت میں کسی انسان کا عمل دخل نہیں ہوتا، ورنہ تو ہرشخص ہر ایک کی وصیت کو بدلتا رہے گا۔ یہ سب عدالتی کارروائی کی بنیاد پر ہوگا۔ اسی لیے آیت کے اختتام پر واضح کردیا گیا کہ  اِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ  اللہ یعنی مملکت خداداد کا عدالتی نظام علم کی بنیاد پر سنتا ہے۔
 
182
فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اگر کسی عدالت کو وصیت کرنے والے کی طرف سے طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ ان کے درمیان صلح کرائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بےشک مملکت خداداد کی عدالت رحمت کے ساتھ حفاظت فراہم کرنے والی ہے۔
مباحث:۔  
 من  کا مرجع کوئی فرد نہیں ہوتا بلکہ مملکت خداداد کا عدالتی نظام ہوتا ہے۔  
دیکھ لیجئے کہ وصیت کرنے والے کی طرف سے کسی کی طرفداری یا حق تلفی کا خطرہ ہو تو وصیت کرنے والے اور ان لوگوں کے درمیان جن کیلئے وصیت کی گئی ہے، صلح بھی کرائی جاتی ہے، اور یقیناً یہ انفرادی فعل نہیں ہو گا بلکہ حکومتی احکام کے تحت عدالتی کارر وائی پر مبنی ہو گا۔  
اتنے واضح احکام کے بعد بھی لوگ وصیت کو منسوخ قرار دیں تو ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔
 
سورۃ البقرۃ کی آیات ۱۸۳ سے ۱۸۸ تک دین اسلام اور مملکت اسلامی کے ایک ستون کی بات ہو رہی ہے جس کو اصطلاحاً  الصوم  سے تعبیر کیا گیا ہے، جو کہ مملکت سے لے کر عوام تک، ہر انسان کے کردار کا لازمی جزو ہو گا۔  
 الصوم  مملکت خداداد کے منشور کا ایک ضابطہ ۔۔۔۔ عوام کے دستور حیات کا ایک امتیاز ۔۔۔۔۔ اور ہر شخص کے کردار کا ایک امتیازی پہلو ہوگا، یعنی....  
۱۔۔۔۔ مملکت کا منشور صرف احکام الٰہی پر مبنی ہوگا، یعنی ہر برائی سے پاک ہو گا۔  
۲۔۔۔۔عوام کیلئے قوانین اور عدالتی نظام احکام الٰہی کے تابع بنائے جائیں گے، یعنی ہر نا انصافی سے پاک ہو گا۔  
۳۔۔۔۔مملکت خداداد کا ہر شخص قرآن کا چلتا پھرتا نمونہ ہو گا، یعنی ہر برائی سے پاک ہو گا۔
183
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
مومنو! تم پر  الصیام  یعنی برائی سے رکنا اوربھلائی کے کام کرنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم احکام الٰہی سے ہم آہنگ ہو جاؤ۔
مباحث:۔  
اس آیت میں ایک اور حکم فرضیت کے درجے میں وارد ہو رہا ہے۔  
 الصوم  مادہ  ص و م  معنی : رکنا ،تھمنا،  صام الفرس   گھوڑا چارہ کھانے سے رک گیا، یا گھوڑا چلنے سے رک گیا،  صام الماء  پانی رک گیا،  صام الریح  ہوا چلنے سے رک گئی،  صام عن الطعام  کھانے سے رک جانا۔ کسی بھی قول یا فعل سے رکنا ( قاموس الوحید صفحہ نمبر۹۳۵)۔  
قرآن نے صوم کو برائی سے رکنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔  
 صام، یصوم، صوم، و صیاماً  =  صوم  اور  صیاماً  دونوں مصدر ہیں اور ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔   صوم   کی جمع  اصوام  ہے جیسے  قوم  کی جمع  اقوام  ہے۔  
قرآن کی اصطلاح میں ہر برائی سے بچنا  الصوم  ہے۔  
اس آیت میں  الصوم  کا مقصد بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے تاکہ تم متقی بنو۔  
متقی کون ہوتا ہے؟ آپ نے آیت نمبر ۱۷۷ میں ملاحظہ فرما لیا۔مسلمانوں کے مروٓجہ روزہ نے نہ تو پہلے کبھی کسی کو متقی بنایا ہے اور نہ ہی بنا سکتا ہے۔ یہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ روزوں کے مہینے میں روزہ دار بھوک پیاس سے انتہائی بدمزاج اور چڑ چڑا ہو جاتا ہے۔ تمام اشیائے خوردونوش نہ صرف مہنگی ہو جاتی ہیں بلکہ بازار سے غائب ہو جاتی ہیں۔ افطاری کا وقت جیسے جیسے قریب آتا جاتا ہے، روزہ دار کی حالت بد سے بدتر ہوتی جاتی ہے۔ دفتروں سے کام کرنے والے غائب رہتے ہیں۔ اس بھوک پیاس کے روزے سے متقی نہیں بنا جا سکتا۔  
یاد رکھیے  صوم  کے ذریعے انسان متقی بنتا ہے جس کی کیفیات سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۷۷ کے مطابق حسب ذیل ہوتی ہیں۔  
۱۔۔ دوسروں کو امن مہیا کرتا ہے۔  
۲۔۔ اپنے مال کو دوسروں کیلئے کھلا رکھتا ہے۔  
۳۔۔ ایک عدل اجتماعی کے قیام کی کوشش کرتا ہے۔  
۴۔۔ اصلاحی نظام قائم کرتا ہے۔  
۵۔۔ انسانیت کے لئے خوشحالی کا باعث بنتا ہے۔  
۶۔۔ جب بھی وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتا ہے۔  
۷۔۔ ہر مشکل وقت میں ثابت قدم رہتا ہے۔
 
184
أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ۚ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
اصلاح معا شرہ کی تربیت کے ایام ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دورانیے میں تربیت حاصل کرے اور جو لوگ اس تربیت کے اہل ہیں وہ مسکین کی ضروریات زندگی حاصل کرنے کی رکاوٹوں کو دور کر یں اور جو کوئی احکام الٰہی کی اطاعت کرے تو اس کے لیے ہی بہتر ہے، اور اگر تم کو علم ہو کہ تمہارا تربیت کرنا خود تمہارے حق میں ہی بہتر ہے۔
مباحث:۔  
 ایاماً معدودات : یہ مرکب نصبی حالت میں ہے جس کا مطلب ہے کہ ایام سے پہلے کوئی فعل موجود ہے۔ اس آیت میں  ایاماً معدودات  کا مرکب آیا ہے جس کےمعنی گنتی کے چند دن کیے جاتے ہیں۔ اول تو اس کو چند دن سمجھ کر روزوں پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا اس لیے کہ چند دن کا مطلب ہوگا دو چار دن، نہ کہ پورا مہینہ۔  
دوسری بات یہ کہ قرآن کی اصطلاح ہے جس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔ آئیے قرآن میں وہ تمام مقامات جو ایام کے حوالے سے آئے ہیں، دیکھتے ہیں۔  
 ایام اللہ  : ۱۴:۵ ۴۵:۱۴  
 ایام معدودہ : ۲:۸۰  
 ایاما معدودات : ۲:۲۰۳، ۲:۱۸۴، ۳:۲۴  
ان ایام کے علاوہ بھی  ایام الخالیہ، ایام معلومات  اور  ایام نحسات  کا ذکر ہے۔ ان ایام کے متعلق مناسب موقع پر بات کی جائیگی، اورہو سکتا ہے ہمارے پڑھنے والےقرآن کے اتنے مزاج شناس اور مزاج آشنا ہو جائیں کہ اتنی وضاحت کی ضرورت ہی نہ رہے۔  
عجیب بات ہے کہ بھوک پیاس کا روزہ رکھنے والوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ ابن عباس ان ایام سے مراد ہر ماہ کے تین دن لیتے تھے،لیکن بعد کے آنے والوں نے ان کی جگہ ایک ماہ کے روزے فرض کر دیئے۔ خدا ہی جانے وہ کیوں کبھی کوئی حکم نازل کرتا ہے اور کبھی کوئی ۔۔۔۔۔۔۔؟  
 وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُور  سورۃ ابراہیم آیت ٍ نمبر ۵  
اس آیت میں موسیٰ کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے موسیٰ کواپنی آیات کے ساتھ اس لیے بھیجا تھا کہ وہ اپنی قوم کو جبر و استبداد کے پنجوں سےآزاد کرائے اور ان کو اللہ کے ایام یعنی اُس دور کی یاد دہانی کرائے جس میں آزادی و خوشحالی اور ترقی و کشاد ہوتی ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے دلائل ہیں جوثابت قدم رہنے والے ہوتے ہیں اور نعمت کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔  
لیکن یہی ایام اللہ اگر ایک طرف مومنین کی آزادی کا باعث ہیں تو دوسری طرف استحصالی طبقے کے لیے مصیبت کا باعث ہوتے ہیں یعنی ایک ہی دور میں صالح لوگوں کو جزا ملتی ہے اور استحصالی طبقے کو سزا۔  
قرآن کی تاریخ گواہ ہے کہ جب سیدنا موسیٰ کامیاب ہوئے تو آل موسیٰ کو آزادی ملی، جو ان کے لیے   ایام اللہ  تھے لیکن آل فرعون کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور ان کے لیے  ایام المعدودات  اور  النحسات  تھے، جس کیلئے نام نہاد یہود یہی کہتے رہے کہ اگر ہماری پکڑ ہوئی بھی تو  ایام المعدودات  یعنی  ایام النحسات  کے دوران ہی ہو گی۔  
 المعدودات : مادہ  ع د د  معنی : عدد کے لحاظ سے گنتی اور استعداد کے لحاظ سے تیاری۔  
اس آیت میں بھی کہا گیا  أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ   
اگر سزا کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مفہوم ہو گا کہ جس شخص پر یہ تربیت لاگو کی جا رہی ہے اس کو ان ایام میں تربیت لینی ہو گی جن کا تعین مملکت کے قوانین کرتے ہیں... اور اگر استعداد کے معنی میں لیا جائے تو بھی مفہوم وہی ہوگا کہ ان ایام میں اصلاح معاشرہ کی تربیت لینی ہو گی۔  
 مریض  : مادہ  م ر ض   معنی: کمی، کمزوری خواہ جسمانی ہو یا ذہنی۔  مرض فی الا مر  کام میں کوتاہی کرنا،  مرض فی کلامہ  کمزور بات کرنا۔  
 سفر  : مادہ  س ف ر  روشن ہونا، نمایاں اور واضح ہونا، ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہونا، ( خواہ زمینی ہو یا علمی )  سفر الشئی  کھولنا منکشف کرنا،  سفر الورق والکتاب  لکھنا۔  
 وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ    
اس آیت کا سادہ لغوی ترجمہ پیش کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے۔ سادہ سا ترجمہ ہے۔  
اور جو لوگ ا س تربیت کے اہل ہیں وہ مسکین کے ضروریات زندگی حاصل کرنے کی رکاوٹوں کو دور کر یں۔  
لیکن اس آیت کے ترجمے میں ہر مترجم نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق خوب گھپلا کیا ہے۔ کسی نے اس آیت کے ترجمے میں یہ خیال کرکے کہ اللہ  یطیقونہ  سے پہلے  لا  بتانا بھول گیا تھا اس لیے علماء نے  لا  کو محذوف مان کر ترجمہ کیا ہے جو تحریف فی القرآن ہے، جو کچھ یوں ہے (۔۔۔۔اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں لیکن روزہ نہ رکھیں وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلائیں۔)  
کچھ کو یہ بات پسند نہ آئی اس لیے انہوں نے کہا کہ "چونکہ طاقت کا مادہ  ط و ق  ہے اس لیے اس کا ترجمہ ہوگا جو بمشکل اس کی طاقت رکھیں تو وہ فدیہ میں ایک محتاج کو کھانا کھلائیں۔"  
 فدیہ  : مادہ  ف د ی ، معنی بدلہ، روش، چال۔ اسی مادہ سے فدائین (ملک پر جان قربان کرنے والے) ہے۔  
 تطوع  : مادہ  ط و ع   معنی فرمانبرداری، اطاعت۔  
 وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۔۔آیت کے اس جزو کا ترجمہ بھی غلط کیا جاتا ہے۔ یہ مترجمین اس کا ترجمہ کرتے ہیں ’’اور اگر تم روزہ رکھو تو تمہارے لیے بہتر ہے‘‘..... یعنی ایک رعایت کا پہلو بھی نکال لیا کہ روزہ نہ رکھنے پر کوئی بات نہیں، بس فدیہ دے کر فارغ ہو سکتے ہو، لیکن اگر روزہ رکھ لو تو تمہارے لیے اچھا ہے ورنہ پابندی نہیں۔ اب خود غور کیجئے کہ اس طرح تو صاحب ثروت لوگ جب فدیہ دے کر آرام سے چھوٹ سکتے ہیں تو پھر وہ کیوں روزہ رکھیں گے؟  
آئیے آپ کو رشید نعمانی کی کتاب سے حوالہ دیتے ہیں، صفحہ نمبر ۲۵۸ جلد اول پر  اَن  کی بحث کے تحت لکھتے ہیں۔  
"  ان  معنی: کہ، یہ کہ۔ اس کی چار صورتیں ہیں پہلی صورت ۔ ان  مصدریہ۔ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعدبمنزلہ مصدر ہوتا ہے، ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے  وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ  یعنی روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے۔"  
دیکھ لیجئے اس ترجمے کی وجہ سے وہ متبادل صورت ہی پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ترجمہ ہوگا ... "اور تمہارا صوم کرنا خود تمہارے لیے بہتر ہے۔"  
ایک اہم بات :۔۔۔۔۔۔۔۔اوپر کے عمومی ترجمے میں  صوم  کا ترجمہ ’’روزہ‘‘ مترجم کونقل کرتے ہوئے لکھا گیا ہے۔ ہم صوم کو معاشرے کے لیے ایک اصلاحی تربیت سمجھتے ہیں۔
 
185
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
خون خرابے کی کیفیت وہ ہے جس کے متعلق قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کا رہنما ہے اور جس میں احکام کی وضاحتیں اور صحیح و غلط کو فرق کرنے کی تمیز ہے۔ پس جو کوئی بھی اس خون خرابے کی کیفیت کا مشاہدہ کرے تو چاہئے کہ وہ اس کیفیت کو روکے۔ البتہ جو کسی کمی (جسمانی یا علمی) میں مبتلا ہو یا سفر (زمینی یا علمی) پر ہو تو کسی دوسرے دورانیہ میں استعداد حاصل کرے۔ مملکت خدا داد تمہارے ذریعے آسانی چاہتی ہے اور تمہارے ذریعے سختی نہیں چاہتی اور یہ کہ تم استعداد کی تکمیل کرو اور یہ کہ تم مملکت خداداد کی کبریائی ان بنیادوں پر قائم کرو جن کی تم کو ہدایت دی گئی ہے اور یہ کہ تم اس کی نعمتوں کا صحیح استعمال کرو۔
مباحث:۔  
اس آیت میں چند الفاظ قابل غور ہیں : ۱۔ شھر ، ۲۔ شھد ، ۳۔ رمضان ، ۴۔ مریض ، ۵۔ سفر ، ۶۔ عدہ ۔  
۱۔۔ شھر  مادہ  ش ھ ر ... اس مادہ سے بننے والے الفاظ میں دو معنی ملتے ہیں۔ ۱۔شہرت،تشہیر،مشہور... اور دوسرا معنی تلوار کا میان سے نکالنا، جس سے جنگ اور خون ریزی کے معنی لیے جاتے ہیں۔  
۲۔۔  رمضان  مادہ  ر م ض  اس مادہ سے بننے والے الفاظ میں بھی دو معنی ملتے ہیں۔ ۱۔انتہائی سخت گرمی ۲۔تلوار کی دھار کو تیز کرنا۔  
۳۔۔ مریض   ۴۔۔ سفر  کے الفاظ آیت نمبر ۱۸۴ میں زیر بحث آ چکے ہیں۔  
۵۔۔ عدہ  مادہ  ع د د  معنی کے لحاظ سے۔ ۱۔گنتی، ۲۔استعداد حاصل کرنا، تیاری کرنا۔  
مزید وضاحت :۔  
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن نے کن مفاہیم میں  شھر  سے بنے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۹۴ میں ارشاد ہے۔  
 الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ  اس کا عمومی ترجمہ ہے ’’حرام مہینے کا بدلہ حرام مہینے سےاور حرمتیں بدلہ ہیں‘‘  
کیا آپ اس ترجمے سے کچھ مفہوم اخذ کر سکے ۔۔۔؟ حرام مہینے تو چلئے چار بنا لیے لیکن ان کا بدلہ حرام مہینوں سے کیا مفہوم رکھتا ہے؟ کیا کوئی مہینہ کسی مہینے کا بدل ہو سکتا ہے؟ دوسری بات ۔ اس جگہ  شھر   واحد آیا ہے یعنی صرف ایک مہینے کی بات ہو رہی ہے نہ کہ مہینوں کی۔ اب آپ خود سوچئے کہ وہ کون سی چیز ہو سکتی ہے جس کا بدلہ اسی انداز یا اسی طرح لیا جا سکتا ہے؟ بدلہ تو صرف کسی کے عمل کا ہی ہو سکتا ہے۔ اگر کسی نے اچھا عمل کیا ہے تو اس کا بدلہ ویسے ہی اچھے عمل کے ساتھ دیا جا سکتا ہے اور اگر کسی نے برا عمل کیا ہے تو اس کا بدلہ ویسی ہی نوعیت کے عمل سے دیا جا سکتا ہے۔ اسی آیت میں اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے، ملاحظہ فرمائیے۔  
 فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ  (پس جس نے تم پر سرکشی کی تو تم بھی بدلہ اسی کی مثل لو، اور اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رہو اور جان لو کہ قوانین قدرت متقیوں کے ساتھ ہیں ۔)  
بات بالکل واضح ہو گئی کہ جس انداز سے تم پر سرکشی کی گئی تھی تم بھی اسی انداز سے اس کا بدلہ لے سکتے ہو، یعنی  شھرالحرام  کا بدلہ  شھرالحرام  سے ہی دیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ  شھرالحرام  ایسی کیفیت ہے جس کی ممانعت کی گئی تھی لیکن اگر تمہار ی اس کیفیت کا لحاظ نہیں کیا گیا اور سرکشی تم پر طاری کر دی گئی ہے تو تم بھی اسی انداز سے بدلہ لے سکتے ہو۔  
 شھر   کے معنی متعین کرنے کے بعد اب آپ تمام مقامات پر  شھر  کے معنی "حالت، کیفیت یا عمل" رکھ کر ترجمہ کیجئے اور دیکھئے آیات کا مفہوم کس طرح نکھر کر سامنے آتا ہے۔  
 فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ   (پس جو کوئی اس مہینے کو پائےتو چا ہئے کہ اس میں روزہ رکھے) یہ ہے وہ عمومی ترجمہ جو آپ کو عموما ملے گا۔  
اس ترجمے میں چند دانستہ یا نادانستہ غلطیاں کی گئی ہیں۔  
۱۔۔  شھر   کا ترجمہ مہینہ کیا گیا ہے۔  
۲۔۔  شھد  کا ترجمہ ’پانا‘ یا ’موجود ہونا‘ کیا گیا ہے، حالانکہ  شھد  کا معنی خود لفظ میں موجود ہے جس کے معنی ہوتے ہیں ’’مشاہدہ کرنا‘‘.... چونکہ کسی بات کا مشاہدہ کرنے والا اس کے وقوع کے وقت موجود ہوتا ہے اس لیے شہد کا معنی ’موجود ہونا‘ یا ’پانا‘ ماخوذ کیا گیا ہے۔ ایک لمحے کے لیے اگر ماخوذ معنی ہی رکھ لیے جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ جملہ مجہول ہو جاتا ہے، اس لیے کہ"جو کوئی اس ماہ میں موجود ہو یا اس ماہ کو پائے" سےمراد زندہ انسان کیا گیا ہے اور مفہوم یہ لیا گیا کہ جو بھی زندہ ہو وہ روزہ رکھے ۔۔۔ یہ عجیب سا حکم ہے ۔۔۔۔۔۔! اس لیے کہ جو مر گیا وہ روزہ نہیں رکھ سکتا، اور لوگوں سے یہ کہنا کہ یہ حکم ان کے لیے ہے جو زندہ ہیں، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کچھ احکام مُردوں کے لیے بھی ہیں۔ یہ انتہائی مجہول بات ہے اس لیے کہ قرآن تو آیا ہی زندہ انسانوں کے لیے ہے۔  فمن شھد  پس ’’جو مشاہدہ کرے‘‘ اس بات کو واضح کررہا ہے کہ یہ معاشرے کی کوئی ایسی صورتحال ہے جس کا مشاہدہ لوگ کر سکتے ہیں۔  
 يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ    
آیت کے اس جزو میں صوم کی حکمت بیان کی گئی ہے کہ اس صوم کے ذریعے....  
۱۔۔ اللہ معا شرے میں تمہارے ذریعے انسانوں کے لیے آسانی چاہتا ہے اورمشکل نہیں چاہتا۔  
۲۔۔اوریہ کہ تم اپنی استعداد کی تکمیل کرو۔  
۳۔۔اللہ کی کبریائی قائم کی جائے یعنی احکام الٰہی کی بنیادوں پر مملکت خداداد کا قیام عمل میں آئے۔  
۴۔۔اللہ کی نعمتوں کا شکر کیا جائے یعنی اللہ کی مخلوق تک اس کی نعمتوں کو پہنچایا جائے۔  
اگر صوم کو بھوک پیاس کا روزہ مان بھی لیا جائے تو اس بھوک پیاس کے روزے سے صوم کے یہ مقاصد حاصل نہیں ہوتے، بلکہ ان مقاصد کے برعکس روزے سے....  
۱۔۔ معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے جس کا مظاہرہ افطار کے وقت سڑکوں پر اور دن میں دفتروں میں اور پورے مہینے ضروری اشیاء کے بازاروں سے غائب ہونے میں عام نظر آتا ہے۔  
۲۔۔ انسان کی تمام تر صلاحیتوں میں بھوک پیاس کی وجہ سے انتہا درجے کی کمی واقع ہوتی ہے۔  
۳۔۔ آج تک ان روزوں سے کہیں بھی مملکت خداداد کا قیام عمل میں نہیں آیا۔  
۴۔۔کسی انسان نے بھی اس روزے کے ذریعے انسانیت کی بھوک و افلاس کو دور کر دینے کی کوشش نہیں کی۔  
اگر آیت کے اس جزو کو ہی سمجھ لیا جائے تو بات واضح ہو جائے گی کہ صوم معاشرے کی اصلاح کے لیے تربیتی پروگرام ہے جس میں اس کو برائی سے رکنے اور بھلائی کو ترویج دینے کی تربیت دی جائے گی۔
 
186
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
اور جب جب تم سے میرے بندے میر ی مملکت کے بارے میں دریافت کریں تو کہہ دینا کہ یقیناً میں قریب ہوں۔ میں ہر دعوت دینے والے کی دعوت کو شرف قبولیت بخشتا ہوں، اس لیے ان کو چاہیئے کہ میرے احکام پرعمل پیرا ہوں اورمیرے احکام کے ذریعے امن قائم کرنے والے بنیں تاکہ سمجھ بوجھ سے کام لیں۔
مباحث:۔  
 وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ   (جب میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو کہدینا کہ میں قریب ہوں) یہ عمومی ترجمہ ہے۔  
کیا کسی اللہ کے بندے کو اللہ کے معاملے میں کوئی شک ہے؟ ہر وہ شخص جو خالق پر یقین رکھتا ہے، وہ اللہ پر شک میں کیسے مبتلا ہو سکتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔ ہرگز نہیں... تو پھر یہ کس کے متعلق کہا جا رہا ہے؟  
کیا یہ ان کے متعلق کہا جا رہا ہے جو ایک الٰہ کے انکاری ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔ جی نہیں۔۔۔۔۔۔اس لیے کہ ان کا یہ مسئلہ ہی نہیں ہیں۔ وہ یہ سوال ہی کیوں کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔!  
تیسری لیکن سب سے اہم بات کہ بھوکا پیاسا روزہ دار یہ سوال کیوں کرے گا؟ کیا آج تک کسی روزہ دار نے کسی سے یہ سوال کیا ہے؟ یا کسی نے کسی روزہ دار سے سوال کیا ہے ۔۔؟  
اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اللہ کو غیر مرئی وجود میں محدود کرکے ایک ایسی ہستی بنا ڈالا ہے جو آسمانوں میں تو ہو لیکن ہمارے درمیان سے غا ئب ہو گئی ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن "الہٰ" سے کیا مفہوم لیتا ہے۔؟ قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ سے مراد احکام الٰہی یا اس کے ذریعے مملکت خداداد اور اس کا عدالتی نظام مراد ہے۔ مثلاً ....  
۱۔۔  وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا  (اور اللہ کو قرض حسن دو)۔  
اب آپ اللہ کو قرض حسن دینے نکلتے ہیں اور جب خدا سے ملاقات نہیں ہوتی تو کسی ضرورت مند کو یا کسی خدمت خلق کے ادارے کو وہ قرض حسن دے کر آ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور کبھی یہ نہیں سوچتے کہ آپ کو تو حکم تھا کہ اللہ کو قرض حسن دیں لیکن آپ نے اللہ کی بجائےکسی حاجتمند شخص یا ادارے کو دے دیا اور کبھی پلٹ کر بھی نہیں سوچا کہ اس حاجتمند بندے کو یا ادارے کو خدا بنا دیا ہے.... اور مذہب کے لحاظ سے بہت بڑ ا شرک کر ڈالا ہے؟۔۔۔ لیکن...پریشان نہ ہوئیے۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً آپ نے کوئی غلط کام نہیں کیا بلکہ یہی مقصود تھا۔  
اصلاً اس جگہ خدا سے مراد مملکت خداداد ہے یعنی جب جب مملکت خداداد کو ضرورت ہو گی،اس مملکت کے صاحب ثروت افراد مملکت کی مالی امداد کریں گے اور اگر (جیسا کہ آج ہمارا حال ہے) کہ مملکت کا صرف نام تو ہے لیکن اس کے ذمہ جو فرائض ہوتے ہیں وہ کہیں نظر نہیں آرہے، تو ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے کے حاجتمند افراد کی ضروریات کا خیال رکھے۔  
آئیے ایک اور مقام دیکھتے ہیں۔  
 وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا   (زمین میں ہر ذی حیات کے رزق کی ذمہ داری اللہ پر ہے ۔)  
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کروڑوں لوگ بھوک و افلاس سے مر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ کیسی ذمہ داری ہے؟۔۔۔۔۔ اللہ کا یہ کیسا اعلان ہے؟  
اصل بات یہ ہے کہ اگر احکام الٰہی کی بنیادوں پر مملکت خداداد قائم کی گئی ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ زمین میں کوئی ذی حیات بھوکا سوئے۔  
اسی طرح دوسرے مقامات پر آپ کو ’’اللہ‘‘ سے مراد ’’مملکت خداداد یا اس کی ذمہ داریاں نبھانے والے ادارے اور ان کی غیر موجودگی میں وہ افراد جو ان ذمہ داریوں کو نبھائیں‘‘ ہی لینا ہوگا۔  
اس آیت میں اللہ کی نیابت اس کی مملکت کر رہی ہے۔ اس لیے اس آیت کا مفہوم ہوگا کہ "لوگ میرے متعلق یعنی میری مملکت کے بارے میں پوچھیں گے ۔۔۔ تو اعلان کرو کہ میں یعنی میرے احکام پر مبنی مملکت بہت قریب ہے۔ میری مملکت ہر پکارنے والے یعنی دعوت دینے والے کو جواب دیتی ہے۔ تم ذرا اس کی مملکت کی دعوت تو دو، اور پھر دیکھو کہ کتنی جلدی وہ متشکل ہوتی ہے.... لیکن اس کے لیے دو شرائط ہیں ۱۔۔میرے احکام پر عمل پیرا ہو جاؤ اور۔ ۲۔۔میرے احکام کےذریعے امن قائم کرو۔
 
187
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ۖ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
تم لوگوں نے اپنے لیے تربیت کے تاریک دور میں کمزور لوگوں کے ساتھ بدزبانی کو جائز قرار دے لیا تھا۔ وہ لوگ تمہارے لیے اور تم ان کے لیے عزّت ہو۔ حالانکہ اللہ کو علم تھا کہ تم اپنے لوگوں سے خیانت کرتے تھے مگر اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمایا۔ تو اب تم ان کو خوشخبری دو اور وہی تلاش کرو جو اللہ کے احکام کےمطابق تمہارے لیے لکھ رکھا ہے اور احکام الٰہی کا علم حاصل کرو اور اس کو اپنے اندر جذب کرو اور اس کا نفاذ کرو یہاں تک کہ الفجر ( قران) کی آیات بینات (سفید دھاری) کالے غیر قرآنی روایتی احکامات (سیاہ دھاری ) کو ممیٓز کر دے۔ پھراس برائی سے رکنے کی روش کوتمام خرافات زدہ علاقوں تک لے جاؤ اور جب تم احکام الٰہی کے متعلق غور و خوض کر رہے ہو تو لوگوں کو قبل از وقت خوش خبری نہ دو۔ یہ اللہ کی حدود ہیں، ان کے قریب بھی نہ جانا۔ اسی طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ متقی (پرہیزگار) بنیں۔
مباحث:۔  
مباحث کو ہم اس آیت کے مختلف اجزاء کے تحت زیر بحث لائیں گے۔  
جزو اوًل۔۔۔  
سب سے پہلے   أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ   کے تحت  رف ث  اور  نساء  پر غورکرتے ہیں۔  
 رفث   مادہ  ر ف ث  معنی: بدگوئی اور بدکلامی کرنا۔  
 النساء   ۔ مادہ ۔۔  ن س و  ۔ معنی ۔۔ کمزوری، بھول چوک کی بیماری  
 رفث    
آیت کے اس حصے میں جس بات کی اجازت دی گئی ہے ،وہ ہے  رفث   یعنی بد گوئی اور بد کلامی۔ ظاہر ہے اس طرح کا کلام خالق کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ بدکلامی اور بدگوئی کا مظاہرہ اس معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے جہاں حقوق کی پامالی عام ہوتی ہے۔ اثر و رسوخ والے لوگ کمزور افراد کو کمی کمین بنا ڈالتے ہیں، اور ان کے لیے ایسی زبان جس میں گالیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، استعمال کرتے ہیں، بلکہ یہ کمزور افراد اس حد تک گر جاتے ہیں کہ با اثر افراد کے سامنے خود کو جانور سے بھی بدتر سمجھنے لگتے ہیں۔  
معاشرے سے اس برائی کو دور کرنے کی بجائے مذہبی پیشوا نے اس کا رخ عورتوں کی طرف پھیر دیا اور  رفث   کے معنی بدکلامی کے بجائے رات کو جنسی تعلق اور  النساء  کو بیویاں بنا کر تمام تر اصلاحی عمل کو میاں بیوی کے معمول کے تعلقات کی طرف پھیر دیا۔  
یاد رکھیے اللہ کے احکام کبھی بدلا نہیں کرتے، اور نہ ہی کسی عمل کا نتیجہ بدلا کرتا ہے۔ جو کل برائی تھی وہ آج بھی برائی ہے اور کل بھی برائی رہے گی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کل کی برائی آج اچھائی کہلائے۔ اگر کسی زمانے میں رفث برائی تھی تو آج بھی برائی ہے اور کل بھی برائی رہے گی۔ اس لیے یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ نے جس برائی کی اجازت پہلے نہیں دی تھی، اس کی آج اجازت دےدے۔ اس لیے اب دیکھنا ہو گا کہ  "احلَّ"  فعل ماضی مجہول کی نسبت کس کی طرف ہے؟ یقیناً کسی بھی برائی کوخالق کی طرف منسوب کرنا انتہائی جرأت کا کام ہے، اس لیے یہ کہنا کہ بدکلامی کی اجازت خالق نے دی تھی، یقینی طور پر غلط ہے، اور خالق پر تہمت کے مترادف ہے۔ اس لیے بد گوئی اور بد کلامی کا رواج پانا انسان کی خود اپنی سوچ اور عمل کا نتیجہ ہے، معاشرے نے خود کمزور افراد کے ساتھ رفث کو جائز قرار دے لیا تھا۔  
 النساء ۔۔۔  
  النساء   کا لفظ سیدنا موسیٰ اور فرعون کی داستان میں بہت استعمال ہوا ہے، جہاں بارہا مقامات پر بتایا گیا کہ فرعون ابناء قوم کو مروا دیتا تھا اور نساء کو چھوڑ دیتا تھا۔ سیدنا موسیٰ کی داستان میں یہودی روایات کے زیر اثر ہماری مذہبی پیشوائیت نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کے نو مولود بیٹوں کےقتل کا حکم صادر کیا ہوا تھا۔ یہ بات یہیں واضح ہو جانی چاہئے تاکہ معلوم ہو جائے کہ بنی اسرائیل کے ابناء اور نساء کون تھے۔  
ہماری مذہبی داستانوں کے مطابق فرعون نے بنی اسرائیل کے بیٹوں کے قتل کا حکم اس وقت دیا جب سیدنا موسی کی پیدائش متوقع تھی....لیکن قرآن کے مطابق فرعون نے یہ حکم اس وقت دیا جب سیدنا موسیٰ نے فرعون کے دربار میں چیلنج کیا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں سورۃ ا لاعراف کی آیت ۱۲۷  
 قَالَ الْمَلأ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الأرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ  (سرداران قوم فرعون نے کہا کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دوگے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اور تم اور تمہارے الٰہ کو چھوڑ دیں؟ تو فرعون نے کہا "میں یقیناً ان کے ابناء کو قتل کروں گا اور ان کی نساء کو حیات بخشوں گا، مزید ان پر قاہر بنوں گا۔")  
آپ خود فیصلہ کیجئے کہ یہ کس وقت کا کلام ہے؟  
ایک اور مقام آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ سورۃ المومن کی آیت نمبر ۲۵  
 فلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ مَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ  (پس جب وہ ہمار ے پاس سے ان کی طرف الحق لے کر آیا تو کہنے لگے، ان ابناء کو جو اس کے ساتھ اہل ایمان ہوئے ہیں، قتل کر دو اورجو ان کی نساء ہیں انہیں حیات بخش دو۔)  
دیکھ لیجئے کہ ابناء قوم کےقتل کا حکم اس وقت ہوا جب سیدنا موسیٰ نے خدا کی طرف سے حق کو پیش کیا اور سیدنا موسیٰ اس وقت نو مولود نہ تھے۔  
فرعون کو کسی نومولود کے قتل سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اصل قتل تو ان کا ہونا چاہئے جو مرد میدان ہوتے ہیں، جو ابناء قوم کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنی قوم کی قسمت بدلنے کا عزم رکھتے تھے اور فرعون کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے تھے۔  
ان ابناء قوم کے برعکس وہ بے چارے افراد جن کو فرعون نے اتنا کمزور بنا دیا تھا کہ وہ ہر وقت فرعون کی گالیوں اور بدکلامی سے نوازے جاتے تھے، ان لوگوں میں کسی قسم کی عزت نفس باقی نہیں چھوڑی گئی تھی۔ انہی لوگوں کو قرآن نے "  النساء " کہا ہے۔ آج بھی ایسے لوگوں کو کسی اہلیت کے لائق نہیں چھوڑا جاتا۔ ان کے ضمیر کو اس طرح مسخ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ہر حالت کو خالق کی وجہ سے سمجھتے ہیں۔ آج بھی آپ ایسے افراد کو اپنی قوم میں بھی بکثرت پائیں گے، بس ذرا زاویۂ نگاہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔  
سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۱۱ میں ارشاد ہے :  
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَومٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ  (اے اہل امن، کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ( یامسخر نہ کرے) ممکن ہے وہ قوم ان سے بہتر ہو اور نہ ہی کوئی نساء کسی نساء سے،ممکن ہے وہ نساء ان سے بہتر ہوں۔)  
اس آیت میں کچھ لوگوں کو قوم کہا گیا ہے اور قوم کے متضاد نساء کا لفظ آیا ہے۔  
قوم اس وقت بنتی ہے جب لوگ کسی نظریہ اور مؤقف پر ڈٹ جاتے ہیں اور ثابت قدم رہتے ہیں، ورنہ وہ قوم نہیں ہوتے بلکہ مجمع ہوتے ہیں۔ قوم کے مقابلے پر اور متضاد لفظ "نساء" کا استعمال کر کے قرآن نے دونوں الفاظ کو خود ہی واضح کر دیا ہے، یعنی قوم ان افراد کی جماعت جو اولوالعزم اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہنے والے ہوتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس  نساء  وہ افراد ہیں جن کی معاشرے میں حیثیت کمزور ہوتی ہے۔  
دوسرا جزو۔۔۔  
 عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ  (حالانکہ اللہ کو علم تھا کہ تم اپنے لوگوں سے خیانت کرتے تھے مگر اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمایا۔ تو اب تم ان سےمیل ملاپ رکھو ، اور وہی تلاش کرو جو اللہ کے احکام کےمطابق تمہارے لیے لکھ رکھا ہے۔)  
اس جزو میں لغت کے لحاظ سے تو صرف ایک ہی لفظ پربحث ہوگی ۔یعنی  باشروھن   
 باشروھن  مادہ  ب ش ر   معنی خوش ہونا۔   بشر بہ  خوش ہونا،  بشر بکذا  خوش کرنا، خندہ پیشانی سے پیش آنا۔  
بنیادی طور پر اس کے معنی میں خوش ہونے کا پہلو بہت واضح ہےجس کے بعد ملاقات پر خوشی کے اظہار سے خوشخبری دینا ماخوذ کیا گیا۔  
دوسرے معنی ہیں "جلد" (کھال ) حلیہ بشرہ کے مرکب سے اس معنی کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ حلیہ ظاہری شکل اور بشرہ جلد کے لحاظ سے ساخت۔  
مباشرت  باب مفاعلہ  سے دو اشخاص کی جلد سے جلد ملنے کو ماخوذ کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قرآن نے کیا اس معنی میں مباشرت کو استعمال کیا ہے یا یہ کہ دو اشخاص کے ملنے پر خوشی کے اظہار یا کسی خبر دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔  
تیسرے بنیادی معنی ہیں براہِ راست، بلا واسطہ۔  
آیت کے اس جزو کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوا کہ معاشرے میں مظلوم افراد کی داد رسی نہیں ہو رہی اور ان کے مال ہڑپ کیے جا رہے ہیں، ان سے ملاقات کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے ،ان کو ذلیل کرنا عام عادت بن گئی ہے۔ اس تمام تر کیفیت کو اللہ نے خیانت سے منسوب کیا ہے۔ اس کا علم اللہ کو تھا اور اسی کے مداوا کے لیے  " صوم"  کی تربیت کا اہتمام و انتظام کیا گیا ہے، یعنی سب سے پہلے تو جن افراد کو اسفل درجے پر پہنچایا تھا ان سے ملو اور خوشخبری دو کہ وہ دور گزر گیا، اب کوئی خیانت نہیں ہوگی، کسی کا مال ہڑپ نہیں کیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو صرف وہ جو  " وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ "  اللہ کے پیمانے کے مطابق حق بنتا ہے، ملے گا۔  
تیسرا جزو ۔۔۔۔۔  
  وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ   
آیت نمبر ۱۶۸ کے تحت  اکل  کی بحث کر چکے ہیں۔ وہی بحث ایک مرتبہ پھر بطور یاد دہانی پیش کر رہے ہیں۔  
یہاں ایک بات ذہن نشین کر لیجئے تاکہ لفظ  کلوا  سے متعلق بہت سارے شکوک و شبہات خود بہ خود ختم ہو جائیں۔  کلوا  کا مادہ "ا ک ل" ہے جس کے معنی ’’کھانا‘‘ اور ’’حاصل کرنا‘‘ ہوتے ہیں۔  اکل علیہ الدھر  طویل العمر ہونا،  اکل مالہ  مال ہڑپ کرنا،  اکل لحمہ  غیبت کرنا۔  اکل بین القوم  ایک دوسرے کے خلاف لگائی بجھائی کرنا۔  
کھانے کا عمل دو طرح کا ہوتا ہے۔  
۱۔۔ایک ہے روٹی کا کھانا..... اور  
۲۔۔دوسرا ہے کسی کا حق مار کر حاصل کی ہوئی دولت کا کھانا۔  
قرآن کا موضوع حقوق انسانی ہے اس لیے اس میں روٹی کھانے کی اشیاء اور ان کا استعمال موضوع نہیں ہے بلکہ روٹی کے حصول میں دوسرے کے حقوق کو پامال نہ کرنا موضوع ہے۔  کلوا  کے معنی ’’کھاؤ‘‘ کیا جاتا ہے جو یقیناً صحیح ہےلیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہاں کھانے پینے سے متعلق بات ہو رہی ہے یا کہ کھانے پینے میں دوسرے کے حقوق کی پامالی نہ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔  
اس آیت میں دو احکام ہیں ۔  
پہلا حکم ہے "زمین میں جو حلال اور طیب ہے وہ کھا ؤ" اور دوسرا حکم ہے "شیطان کے نقش قدم پر مت چلو"  
اب ذرا غور کیجئے کہ اگر کوئی شخص شیطان کے نقش قدم پر چل رہا ہے تو وہ کیا کر رہا ہے؟..... وہ شخص یقیناً حکم الٰہی کے خلاف شیطانی احکام کی پیروی کر رہا ہے، یعنی "حلال اور طیب" کے بجائے "حرام اور خبیث" کھا رہا ہے۔ اس لیے کہ حکم الٰہی ہے "حلال اور طیب" کھاؤ، تو لا محالہ شیطان کا حکم اس کے برخلاف "حرام اور خبیث " کھانے کا ہو گا، لیکن کیا اگلی آیت یہی کہہ رہی ہے؟... آئیے دیکھتے ہیں ۔۔۔۔  
 إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ  (وہ تو تم کو صرف بے اعتدالی اور خارج از وحی کا حکم دیتا ہے یعنی یہ کہ احکام الٰہی کےمتعلق ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں علم نہیں۔)  
عجیب بات ہے کہ شیطان جو حکم دے رہا ہے وہ کھانے پینے کے متعلق نہیں ہے بلکہ برائی اور بے حیائی کے متعلق ہے۔ اس لیے یاد رکھیے کہ  "کلوا"  کے معنی نہ صرف کھانے کے ہیں بلکہ حاصل کرنے اور اختیار کرنے کے بھی ہیں ورنہ اگر اس آیت میں کھانے کا ذکر ہوتا تو شیطان حلال اور طیب کی بجائے حرام اور خبیث کا حکم دیتا۔ قرآن آپ کو کھانے پینے کے آداب یا اشیاء کے متعلق تعلیم دینے نہیں آیا ہے بلکہ قرآن آپ کو ان اشیاء کے حصول میں لوگوں کی حق تلفی سے روکنے کے لیے آیا ہے۔ شیطان کسی حرام اور حلال کھانوں کی بات نہیں کر رہا بلکہ وہ تو غیر متوازن رویوں اورغیر از وحی احکام کی ترویج کی بات کرتا ہے۔ اگر یہ نتیجہ صحیح ہے تو یقیناً اگلی تمام آیات بھی کھانے سے متعلق نہیں بلکہ احکام الٰہی اور ان کی معصیت سے متعلق ہی ہونی چاہئیں۔  
سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۴۹ میں طالوت اور جالوت کے قصّے کے ضمن میں بھی شرب اور طعام کا ذکر آیا ہے۔ ارشاد ہے۔  
  فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ   ( پس جب طالوت فوج کے ساتھ نکلا تو کہا " یقیناً اللہ ( مملکت ) تم کو ایک  نھر  جنگ کے ذریعے آزمائے گی۔پس جس نے اس جنگ سے اختیار کیا تو وہ ہر گز ہم میں سے نہیں ہے، اور جس نے اس کو اختیا ر نہیں کیا تو وہ ہم میں سے ہے،سوائے اپنی طاقت کے ذریعے اگر مڑا ۔)  
یقیناً کسی کے پانی پینے سے کوئی بھی کمانڈر اپنی کمانڈ سے خارج نہیں کرتا۔ آئیے ایک اور مقام سیدنا موسیٰ کے حوالے سے دیکھتے ہیں ۔  
 وَإِذِ اسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ   (اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کی پیاس بجھانی چاہی تو ہم نے کہا کہ اپنے عصاء (احکام الہی) کو الحجر (سنگ دل افراد) پر بیان کرو، تو اس سے مثالی معاشرہ پھوٹا، اور تمام لوگوں نے اپنی اپنی پیاس بجھانے کا مقام جان لیا۔ احکام الٰہی کا علم حاصل کرو اور اس کو نافذ کر کے استفادہ کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔)  
اگر پیاس بجھانے سے مراد پانی کی پیاس لی جائے تو سوال ہوگا کہ ۔۔۔۔۔۔  
سیدنا موسیٰ کے زمانے میں قاہرہ میں پانی کی کمی کیونکر ہوئی؟ جبکہ قاہرہ کے درمیان سے دریائے نیل گزرتا ہے اور چا روں اطراف میں زراعت تھی؟ وہ کون سے پہاڑ تھے جو آج قاہرہ کے اطراف میں نظر نہیں آتے، جہاں لاٹھی کو پتھر پر مارنے کا حکم ہوا تھا؟  
یاد رکھیے، انبیاء پانی کی پیاس بجھانے نہیں آتے بلکہ یہ علمی اور نظریاتی پیاس ہوتی ہے جسے وہ بجھاتے ہیں۔ پانی کے لیے کنواں کھودنا یا پہاڑوں میں جا کر پتھروں کو کھود کر پانی نکالنا انبیاء کا منصب نہیں۔ اس کام کے لیے سیدنا موسیٰ مبعوث نہیں ہوئے تھے۔ کنوئیں کھودنے کے لیے تو کنوئیں کھودنے والے ہرزمانے میں موجود رہے ہیں، سیدنا موسیٰ کی بعثت تو انتہائی عظیم مقصد کے لیے ہوئی تھی۔ ان کے لیے تو حکم تھا۔  اخرج قومک من الظلمات الی النور   
جیسے آپ ایک تاریخ کے استاد سے یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ آپ کومیز کرسی بنانا سکھائے گا۔ اسی طرح انبیاء کرام اپنی قوم کی اصلاح کرنے آتے ہیں نہ کہ نہریں یا دریا بہانے۔ وہ تو قوم کو ظالموں کے جبر و استبداد سے نکالنے کیلئے آتے ہیں۔  
رزق اللہ، نعمت اللہ، رحمت اللہ اور ایسے تمام الفاظ خالق کی سب سے بڑی نعمت یعنی وحی الٰہی کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔  اکل  کےمتعلق اتنی لمبی بحث کے بعد واپس نفس مضمون کی طرف چلتے ہیں۔  
چوتھا جزو ۔۔۔۔  
  وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ  (اور احکام الہی کا علم حاصل کرو اور اس کا نفاذ کرو یہاں تک کہ الفجر (قران) کی آیات (سفید دھاری) دنیاوی احکام (سیاہ دھاری) کو ممیز کر دے۔ پھراس برائی سے رکنے کی روش کوتمام خرافات زدہ علاقوں تک لے جاؤ )  
اس آیت سے روزوں کے اوقات متعین کیے جاتے ہیں  
 وَكُلُوا وَاشْرَبُوا  ۔۔سے مراد کھانا پینا لیا جاتا ہے ۔ااا اکل   کی بحث اوپر سطور میں گزر چکی ہے۔آگے   َاشْرَبُوا   پر غور کرتے ہیں جس کا مادہ  ش ر ب  ہے ۔  
 َاشْرَبُوا  ۔۔مادہ  ش ر ب  ۔۔معنی۔۔کسی پینے والی چیز کا پینا ۔۔،۔ ۔بہ کسی کے خلاف جھوٹ بولنا ۔۔، ۔الدخان تمباکو نوشی کرنا ۔۔، اکل علیہ الدھر و شرب   وہ ہلاک ہو گیا ۔ شرب الَّون غیرہ  ۔۔ایک رنگ میں دوسرا رنگ ملانا ۔۔۔،کسی چیز کا دوسری چیز میں جذب ہونا ۔،پیوست ہونا ۔،راسخ ہونا ۔،  
 
 الخیط الابیض  سفید دھاگےسے مراد صبح کی شروعات اور  الخیط الاسود  کالے دھاگے سے رات کا اختتام مراد لیا جاتا ہے اور  اللیل  سے مراد رات اور  الفجر  سے مراد صبح کی شروعات لی جاتی ہے اور عمومی ترجمہ کچھ اس طرح کیا جاتا ہے۔ "راتوں کو کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدہ صبح نمایاں نظر آئے۔".... اس ترجمہ میں حسب ذیل غلطیاں ہیں ۔  
۱۔۔اس ترجمہ میں انسان کو فاعلی حالت میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ "تم کو نظر آئے"... جس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔  
۲۔۔اس آیت میں تمام تر مرکبات اور الفاظ و اصطلاحات "حالت معرفہ میں ہیں" اگر عام رات اور دن یا فجر کی بات ہوتی تو حالت نکرہ میں ہو تے۔  
۳۔۔وہ مرکب جو اصلاً فاعلی حالت میں ہے اسے مفعولی حالت میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ " الخیطَ الابیض " میں الخیط کی "ط" پرپیش ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ  الخیط الابیض  فاعلی حالت میں ہے۔  
آیت کے تمام اجزاء استعارہ اور تمثیل کے انداز میں بیان ہوئے ہیں اس لیے دیکھنا ہوگا کہ الخیط الابیض، الخیط الاسود  اور  الفجر  سے کیا مراد لی جا سکتی ہے۔ البتہ اس بات کا دھیان رہے کہ مجازی معنی جو بھی لیے جائیں وہ.... ۱:۔ قرآن کے مقصود کے مطابق ہونے چاہئیں۔ ۲:۔ جومضمون چل رہا ہے اس کے مطابق ہونے چاہئیں۔ ۳:۔ اگر قرآن نے بطور اصطلاح استعمال کیا ہے تو اس کےمعنی اصطلاحاً لینے چاہئیں۔  
پانچواں جزو ۔۔  
 وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ  (جب تم احکام الٰہی کے متعلق غور و خوض کر رہے ہو تو لوگوں کو قبل از وقت خوش خبری نہ دو۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان کے قریب بھی نہ جانا۔ اسی طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ متقی "پرہیزگار" بنیں۔)  
بات با لکل واضح ہے کہ جب تک مساجد یعنی احکام الٰہی سے متعلق غور و خوض ہو رہا ہو، کوئی بھی قبل از وقت اعلان بھیانک انجام کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے کہ احکام الٰہی سے غلط نتائج نکال کر پہلے سے بھی بدتر حالت سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
 
188
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
تم ایک دوسرے کا مال حق مار کر نہ کھاؤ اورنہ ہی اس کو حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہ جانتے بو جھتے ناجائز طور پر کھا جاؤ۔
مباحث:۔  
 الصیام  سے متعلق اس اختتامی آیت میں  صوم  کو ایک نئی جہت سے بیان کیا گیا ہے اور قرآن کا مقصد بھی واضح کر دیا ہے کہ "کوئی انسان کسی انسان کا حق نہ مارے۔"  
 
مابعد آیات میں معاہدوں کی خلاف ورزی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کے متعلق احکام آ رہے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ حج کا تعلق نہ صرف حجت اور احتجاج سے ہے بلکہ جنگ کی کیفیت بھی حج کا حصہ ہوتی ہے۔ آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ آیت نمبر ۱۵۸ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ جو بھی اللہ کے احکام کے ذریعے ایک اصلاحی معاشرے کے قیام کے لیے کھڑا ہوتا ہے، خواہ جنگ کی کیفیت ہو یا امن کی، تو اس پر کوئی روک نہیں ہے کہ احکام کے نفاذ میں خلوص، محبت، مروت اور نرمی سے کام نہ لے۔ جنگ بنیادی طور پر آخری حجت کے طور پر دشمن کے خلاف لڑی جاتی ہے اس لیے جنگ  الحج  کے نام سے موسوم کی جاتی ہے۔
189
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ۗ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَن تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
لوگ تم سے اعلانات کے بارے میں دریافت کریں گے۔ کہہ دو کہ وہ انسانیت اور الحج کے لیے حدود ہیں۔ اطاعت ہرگز یہ نہیں ہے کہ تم اداروں میں چور دروازوں سے داخل ہو بلکہ اطاعت گزار وہ ہے کہ جس نے تقویٰ اختیار کیا یعنی مملکت خداداد کے قوانین کی معصیت سے بچا۔ اداروں میں صحیح رخ اختیارکرو اور مملکت کےقوانین سے ہم آہنگ رہو تاکہ کامیاب رہو۔
مباحث:۔  
 الْأَهِلَّةِ  مادہ۔  ھ ل ل  معنی خوش ہونا، چیخنا، زوردار آواز نکالنا، مہینے کے چاند کا اعلان کرنا۔معروف معنی میں ’’نامزد کرنا، آواز لگانا، اور ذکر کرنا‘‘ زیادہ مستعمل ہیں کیونکہ ہرمعنی میں آواز کے ذریعے کسی نہ کسی چیز کا اعلان مقصود ہے اس لیے قرآن میں ان اعلانات کے متعلّق پوچھا جا رہا ہے جس کا تعلق لوگوں کی امن اور جنگ کی کیفیت سے ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ یہ اعلانات انسانوں کے لیے حدود ہیں۔ خواہ امن کی کیفیت ہو یا جنگ کی، یعنی عام حالات ہوں یا  الحج  یعنی جنگ کی کیفیت ہو۔  
علًامہ پرویز لغات القرآن میں صفحہ نمبر ۱۷۲۹ پر ابن فارس کے حوالے سے فرماتے ہیں "ابن فارس نے کہا ہے کہ  الموقوت  حد مقرر کردہ چیز کو کہتے ہیں۔"  
 مواقیت  مادہ  و ق ت  بنیادی معنی "حد"۔ حداگر لمحات پر لگا دی جائے تو وقت (time) کا مفہوم دے گا۔ ہر بدلتا لمحہ وقت کی حد ہوتا ہے۔ اگر اس حد کو پیمائش کے لیے استعمال کیا جائے تو  میقات  (زمینی پیمانے )کے معنی مراد ہونگے، اور اگر اس حد کو احکام کے حوالے سے دیکھا جائے تو حدود (احکام قرآنی) مراد ہوگا۔ اسے ایک اور معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے کسی کا ظرف بتانے کے لیے... جیسے کسی شخص سے پوچھا جائے کہ "آپ کی اوقات کیا ہے؟" یعنی آپ کی کیا حدود ہیں"۔ یہاں بھی بنیادی معنی یعنی "حد" کے معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے۔
 
190
وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تو تم بھی مملکت خداداد کے راستے میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ مملکت خداداد زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتی۔
 
191
وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ
اور ان کوجس ثقافت میں پاؤ ان سے اسی انداز سے لڑائی کرو اور جس حیثیت میں انہوں نے تم کو نکالا ہے تم بھی اسی انداز سے ان کو نکال دو اورفسادلڑائی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سےان معاہدوں کے تحت جو پابند کرتے ہیں، جھگڑا نہ کریں تو تم بھی ان سے جھگڑا نہ کرنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو، احکام کاانکار کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے۔
مباحث:۔  
نکالنے سے مراد زمین بدر کرنا نہیں ہے بلکہ ان کے نظریات کو تبدیل کرنا مقصود ہے۔ آج کسی کو زمین بدر تو کر ہی نہیں سکتے، پاسپورٹ اور ویزے کی پابندی کسی کو بھی زمین بدر کرنے نہیں دے گی۔
 
192
فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
پس اگر وہ باز آ جائیں تو مملکت خداداد با رحمت حفاظت فراہم کرنے والی ہے۔
 
193
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ
اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا جب تک فتنہ باقی نہ رہے اور ضابطہ حیات احکام الٰہی کے مطابق ہو جائیں اور اگر وہ فساد سے باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی کے ساتھ دشمنی جائز نہیں۔
 
194
الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
اگر کسی ایسے معاہدے یاکیفیت کی خلاف ورزی کی جائے جس پر پابندی لگائی گئی ہو تو اس کی تفتیش انہی احکام کی بنیادوں پر کی جائے جو اس معاہدہ یا کیفیت کو پابند کرنے والے احکام ہیں۔ پس اگر کوئی گروہ تم پر زیادتی کرے تو جو زیادتی وہ تم پر کرے اس کا بدلہ تم اسی انداز سے لے سکتے ہو۔ اورقوانین قدرت سے ہم آہنگ رہو اور جان رکھو کہ مملکت خداداد قوانین کے ساتھ ہم آہنگ رہنے والوں کے ساتھ ہے۔
 
195
وَأَنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
اور مملکت خداداد کے احکام کے مطابق اپنی صلاحیت کو بروئےکار لاؤ اور اپنی طاقت کو ہلاکت میں نہ ڈالو اورحسن کارانہ انداز اختیار کرو، بےشک مملکت خداداد حسن کارانہ انداز سے کام کرنے والوں کو محبوب رکھتی ہے۔
 
196
وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
اورمملکت خداداد کے احکام کے لیے جنگ اور تعمیری کام کرو۔ لیکن اگر تم محصور کرلیے جاؤ تو جو بھی ہدایات میسًر ہوں اس کے مطابق جنگ یا امن قائم کرو۔  
اور اپنے رؤس کے گرد حلقے نہ بناؤ یہاں تک کہ ہدایات اپنے نتائج کو نہ پا لیں۔ پس جو کوئی تم میں کسی کمی میں ہو یا اس کمی کی وجہ سے اپنے رئیس کی طرف سے کسی تکلیف میں ہو تو اس کمی کا متبادل تربیتی اجتماع یا کوئی ایسی بات جس سے تمہارا دعویٰ سچ ثابت ہو یا کوئی اور ذمہ داری کا پورا کرنا ہے۔ پس جب تم امن میں ہوتے ہو تو اس شخص نےتوفائدہ حاصل کر لیا جس کو امن سے لے کرجنگ تک ہدایات میسّر تھیں، لیکن جس کو ہدایات نہیں مل سکیں تو اس کو حج کے معاملے میں تین تربیتی اجتماعات ہیں اور مزید تربیتیں ہیں، جب کہ تم واپس لوٹتے ہو۔ یہ باہمی معاشرت کی تکمیل ہے۔ یہ احکام ان کے لیے ہیں جن کی اہلیت ان احکام پر جو پابندیاں عائد کرتے ہیں، کاربند رہنے کی نہیں ہوتی، اور مملکت خداداد کے قوانین کے ساتھ ہم آہنگ رہو اور آگاہ رہو کہ مملکت خداداد پکڑ میں سخت ہے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں ان لوگوں کے لیے احکام آئے ہیں جو جنگ میں جس وقت محصور ہوئے تو ہنگامی صورت حال کے پیش نظر کمانڈر کی طرف سے کسی ایسی ڈیوٹی پر لگا دیئے گئے جس پر ان کے لیے کسی کمی کی وجہ سے عمل پیرا ہونا مشکل ہوگیا، مثلاً ایک پیدل فوج کے سپاہی کو کمانڈو ایکشن کی ڈیوٹی دے دی جائے۔ اس لیے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ۔  
۱۔۔اپنے کمانڈر کے گرد حلقے نہ بناؤ یہاں تک کہ مقصد نہ حاصل ہو جائے۔  
۲۔۔اور وہ اشخاص جو کسی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ ان احکام کے ذریعے جو ان کا کمانڈر دے رہا ہے،ان کو مشکل ہو رہی ہے تو وہ ہنگامی طور پر تین متبادل میں سے کوئی ایک منتخب کریں۔  
یعنی یا تو وہ ۔۔متبادل تربیتی اجتماع میں شریک ہوں ۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔ وہ خودکوئی دوسری ذمًہ داری لے لیں جس سے اس کی اس ذمًہ داری کی حقیقت سچ ثابت ہو ۔یا ۔۔۔۔۔ کمانڈر ان کو کوئی نئی ذمًہ داری دے۔  
۳۔۔جس کو تو ہدایات ملتی رہیں، اس نے تو امن اور جنگ دونوں میں فائدہ اٹھا لیا لیکن وہ جس کی صلاحیت میں کمی کے باعث متبادل فرض منصبی کو پورا کرنے میں مشکل پیش آئی تو اس کو جنگ کے معاملے میں تین تربیتی اجتماعات سے گزرنا ہوگا اور جب وہ عام حالات میں ہوگا تو مزید تربیتی اجتماعات سے گزرنا ہوگا۔  
۴۔۔  ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ   یہ تمام احکام اس کے لیے ہیں جس میں اس بات کی اہلیت نہ تھی کہ وہ ان معا ہدوں کی پاسداری کرتا جو کسی بات سے روکتے ہیں۔
 
197
الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ
جنگ کی وجوہات معلوم ہیں تو جس قوم نے ان وجوہات کی وجہ سے جنگ لازم قرار دی تو جنگ کے معاملے میں آپس میں نہ تو بدگوئی، نہ ہی حکم عدولی اور نہ ہی کوئی لڑائی جھگڑا، اور جو خیر کا کام تم کرتے ہو وہ مملکت خداداد کو معلوم ہوتا ہے۔ مزید آگے بڑھتے رہو پس ایسی بڑھوتری یقیناً جس کی بنیاد تقویٰ پر ہو، خیر ہے اور اے اہل علم و دانش، میرے احکام کے ساتھ ہم آہنگ رہو۔
 
198
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ ۚ فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۖ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ
تم پر کوئی رکاوٹ نہیں کہ اپنے پروردگار سےفضل طلب کرو، پس جب تم عرفات سے فیضیاب ہو چکو تو مملکت کے احکام کی یاد دہانی ان مشاعر کے مطابق کراتے رہو جو پابند کرنے والے ہیں، اور احکام کی یاد دہانی اس طرح کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا، اور یہ کہ اس سے پہلے تم یقیناّ گمراہوں میں سے تھے۔
مباحث؛۔  
دیکھئے اس آیت سے مزید چند باتیں کھل کر سامنے آ گئیں۔  
۱۔ اس عرصہ جنگ میں رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔  
۲۔ اور جب عرفات سے فیض یاب ہو چکو تو اللہ کو مشعر الحرام کے مطابق یاد رکھو۔  
۳۔ یاد دھانی کی بنیاد وہ ہدایات ہیں جو ’’عرفات‘‘ سے ملی ہیں۔ اس کا مطلب ہے ’’عرفات‘‘ کسی تعلیم کی بنیاد ہیں جس سے مستفیض ہونے کے بعد اللہ کے احکام کو یاد رکھنا ہے۔  
۴۔ ان ہدایات سے پہلے لوگ گمراہ تھے۔  
ان آیات میں لفظ  افضتم  آیا ہے جس کا ترجمہ ’’جب تم لوٹتے ہو‘‘ کیا جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے انسان کسی جگہ سے لوٹتا ہے تو عرفات کو ایک میدان کی حیثیت دے کر فاذا افضتم  من عرفات کا ترجمہ ’’میدان عرفات سے لوٹنا‘‘ کرنا... ممکن ہوگیا۔ دیکھئے  افضتم  کا مادہ ’’ف ی ض‘‘ ہے جس کے معنی ’’فیضیابی‘‘ اور ’’فائدہ‘‘ وغیرہ ہوتے ہیں۔ اگر اس مادہ کے بنیادی معنی رکھے جائیں تو  فاذا افضتم من عرفات  کا ترجمہ ہوگا (جب تم عرفات سے فیض یاب ہو چکواور لوگوں کو فیضیاب کر چکو) تو اس میں کسی میدان کا تصور نہیں آئے گا بلکہ کسی تعلیمی درس گاہ یا حکومتی ادارہ کا تصور آئے گا جہاں سے انسان فیضیاب ہوگا۔ آیئے اب اس آیت کے تحت جو احکام ہیں ان پر غور کرتے ہیں۔  
رب کا فضل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں کہا گیا ۔۔۔ رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ غور کیجئے کہ ان آیات میں جہاں اللہ کی بجائے رب کا لفظ آتا ہے تو یہ متبادل اصطلاح کیوں آتی ہے؟ اسی طرح کسی مقام پر اللہ کی بجائے رحمان کی بات ہوتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مختلف آیات میں مختلف الفاظ آتے ہیں؟  
دیکھئے رب کا لفظ جہاں جہاں قرآن میں وارد ہوا ہے وہاں وہاں خالق کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے جو پالنہاری کی ذمہ دار ہے، یعنی ایسا نظام جو خالق کے احکام پر مبنی ہو اور جس کے ذریعے تمام اشیاء خواہ چرند ہوں یا پرند، خواہ جاندار ہوں یا بے جان کی پالنہاری یعنی ربوبیت کی ذمہ داری پوری ہوتی ہو، اسی کو نظام ربوبیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔  
اسی طرح اگر کسی جگہ خالق کی صفت رحمانیت کا تذکرہ ہے تو اس نظام کی اس ذمہ داری کی طرف اشارہ ہے جو احکام قرآنی پر مبنی ہو اور جس میں رحمت کا پہلو نمایاں ہو، یعنی نظام تو احکام قرآنی پر ہی مبنی ہوگا لیکن جن قوانین میں رحمت کا پہلو اجاگر کرنا ہوگا تو وہاں پر رحمان کے حوالے سے بات ہو گی۔  
نظام میں جہاں پالنہاری کی صفت کو فوقیت دینی ہے وہاں پر رب کا لفظ آتا ہے۔ اس مقام پر ہی ایک اور بات بھی واضح ہو جائے تو قرآن کے فہم میں بہت آسانی ہو جائے گی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہر آیت کے بعد اللہ کی کسی صفت کا بیان ہوتا ہے جیسے۔۔۔  
 ان اللہ سمیع بصیر   اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔  
 ان اللہ سریع الحساب   اللہ حساب میں بہت تیز ہے۔  
 ان اللہ احکم الحاکمین  اللہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے۔  
غور کیجئے کہ قرآن خالق کی اتنی تعریف و توصیف کیوں کرتا ہے۔ کلام بھی اللہ کا ہو اور خود اللہ اپنی تعریف کرے؟ عجیب سی بات لگتی ہے۔ خود تعریفی کا جذبہ اگر انسان کے لیے مستحسن نہیں تو اللہ کیونکر اپنے لیے پسند کرے گا۔ ہر مذہب کے مذہبی علماء نے اس کا غلط استعمال کر کے انسانوں میں خالق کے لیے خوشامدی کلمات کی بھر مار کر دی ہے اور یہ تصور دیا ہے کہ خالق کی جتنی تعریف کی جائے وہ خوش ہوتا ہے اور وہ انسان جو یہ خوشامدی کلمات جتنے جوش و جذبے سے پیش کرے گا خالق اتنا ہی خوش ہو کر اسے نوازے گا۔ اس طرح مذہب میں تعریف و توصیف کرنے کا طریقہ رائج ہوا۔  
 عرفات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عرفات سے متعلق یہ بنیادی آیات ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن میں عرفات کا ذکر کہیں نہیں آیا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ’’عرفات‘‘ کیا ہے۔  
کہا گہا  ’’ فاذا افضتم من عرفات‘‘  جب تم عرفات سے فیض یاب ہو جاؤ۔لفظ  افضتم  کی بحث ہم مادہ کے تحت پہلے ہی کر چکے ہیں۔ یہاں مختصراً اشارہ پھر کیے دیتے ہیں۔ لفظ  افضتم  کا مادہ ’’ ف ی ض ‘‘ ہے۔  افضتم  باب  افعال  سے جمع حاضر کا صیغہ ہے، باب افعال کی وجہ سے لازم اور متعدی دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے اس لیے افضتم کے دونوں معنی ممکن ہیں یعنی جب تم عرفات سے فیض یاب ہو چکو یا جب تم عرفات سے فیض یاب کر چکو  ’’ ف ی ض ‘‘  ایسا مادہ ہے جس کے معنی فیض حاصل کرنا بہت معروف ہے۔ حج کو تیرتھ یاترا بنانے کے لیے ’’فیض‘‘ کے معنی ’’لوٹنا‘‘ کیوں کر دیئے گئے، یہ اسلاف ہی سمجھا سکتے ہیں۔  
اس کے بعد ارشاد ہے  فاذکرواللہ  پس اللہ کا ذکر کرو۔ یہ حرف  ’ف‘  جس کے معنی ہوتے ہیں ’پس‘... اور یہ لفظ تمام ما قبل آیات کا نچوڑ دینے سے پہلے آتا ہے۔ یعنی جہاں بھی حرف  ’ف‘  آتا ہے وہاں اس مقام سے پہلے جو کچھ بھی سمجھایا گیا ہوتا ہے اس کا حاصل کلام ہوتا ہے۔ یہاں ’ف‘ پس کہہ کر کہا گیا ’’اللہ کا ذکر کرو‘‘ یعنی اوپر جو کچھ عرفات سے فیضیابی حاصل ہوئی ہے اس کا نچوڑ یا ماحصل یہ ہے کہ اب تم لوگوں میں اللہ کے احکام کی یاد دھانی کراؤ۔ جس کا صاف مطلب ہے کر عرفات کوئی ایسی تعلیم ہے جس سے خالق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس تعلیم کو حاصل کرنے کے بعد اب تمہارا کام ہے کہ تم لوگوں میں اس تعلیم کی اور تنفیذ کی یاد دھانی کراتے رہو۔  
 مشعرالحرام ۔۔۔۔۔۔مشعر کا مادہ  ’’ش ع ر‘‘  جس کے معنی ’’شعور‘‘ کے ہیں۔ ’’مشعر‘‘ کا وزن مفعل کا ہے اسی وزن پر  مَکْتَبْ، مَقْتَلْ، مَنْظَرْ، مَقْصَدْ اورمَشْعَلْ  وغیرہ ہیں۔ ان الفاط کے معنی سے ہی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ  مَفْعَلْ  کے وزن میں مادہ کے بنیادی معنی کے ’نفاذ‘ کا مفہوم سامنے آتا ہے خواہ وہ جگہ کے حوالے سے ہو جیسے مَکْتَبْ  یعنی ایسی جگہ جہاں کتابت عمل میں آئے یا جیسے  مَقْتَلْ  جہاں قتل کا عمل کیا جائے۔ لغوی لحاظ سے مکتب کےمعنی عمارت کے ہوں گے لیکن معنوی لحاظ سے تعلیم گاہ کے ہوں گے۔ اسی طرح مقتل کے معنی ہوں گے وہ عمارت جہاں قتل کیا جائے لیکن معنوی لحاظ سے وہ تعلیم جو کسی کے قتل کا باعث بنے اسی طرح  مَقْصَدْ  یعنی ایسا نتیجہ جو کسی انسان نے حصول کے لیے بطور ہدف متعین کیا ہو اور  مَشْعَلْ  لغوی لحاظ وہ چیز جو شعلہ یا روشنی پیدا کرے اور معنوی لحاظ سے وہ تعلیم جو کسی انسان کے نصب العین کے حصول کے لیے مشعل راہ بنے یعنی  مَفْعَلْ  کے وزن میں نہ صرف جگہ بلکہ حدود اور مقصود کے حصول کا مفہوم ملتا ہے۔  
اسی طرح مشعر  میں ایک معنی ہونگے وہ جگہ جہاں سے انسان کو شعور حاصل ہو، تو دوسرے معنی میں وہ تعلیم جس کے ذریعے مقصود کا شعور حاصل ہو۔  المشعر الحرام  مرکب توصیفی ہے جس کے معنی ہوئے، ایسا  المشعر  جس کی صفت  الحرام  ہے، یعنی  المشعر الحرام  ایسا شعور جو حرام سے متعلق ہو۔  المشعر  معرف بالام ہے جس کی وجہ سے اس کی صفت بھی معرف بالام  الحرام  آئی ہے جیسا کہ اب آپ کو معرف بالام کی متعد جگہ پر بحث سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ جہاں بھی کوئی لفظ یا مرکب معرف بالام آتا ہے تو آپ کو فورا معلوم ہو جاتا ہے کہ یا تو ما قبل آیات میں اس کا ذکر آ چکا ہے یا وہ عموم میں سے خاص کی گئی ہے جیسے شجر کوئی بھی درخت ، بقر کوئی بھی گائے ہو گی لیکن جب کہا جائے ’’الشجر‘‘ یا ’’البقر‘‘ تو یہ کسی بھی درخت یا گائے کی بات نہیں ہوتی ہے بلکہ کسی خاص شجر یا کسی خاص بقر کی بات ہوتی ہے۔  المشعر  کیونکہ معرف بالام ہے اس لیے اس کا مطلب ہے کہ یہ کوئی عام جگہ یا تعلیم نہیں ہے جس سے پہچان کی جائے، بلکہ یہ خاص تعلیم یا جگہ یعنی ادارہ ہے جس سے حرام کی پہچان ہو گی۔  
آیئے اب دوسرے لفظ  حرام  پر غور کیا جائے۔ لفظ حرام کا مادہ  ’’ ح ر م ‘‘  جس کے بنیادی معنی ہیں، منع کرنا، روکنا، محروم کرنا۔ امام راغب کے حوالے سے علامہ عبدلرشید نعمانی فرماتے ہیں ’’جس چیز سے منع فرما دیا جائے وہ حرام ہے، خواہ بہ تسخیر الٰہی ممنوع ہو یا منع قہری یا عقل کی رو سے یا شرع کی طرف سے یا اس شخص کی طرف سے جس کا حکم مانا جاتا ہے‘‘۔  ’’المشعر الحرام‘‘  کا ترجمہ ہوا ’’وہ تعلیم جس کے ذریعے حرام کا شعور حاصل ہو یا وہ جگہ یا ادارہ جو حرام کا شعور دے۔‘‘ خواہ مقصود کے حوالے سے مفہوم لیجئے یا جگہ کے حوالے سے، نتیجہ ایک ہی نکلے گا۔ ظاہر ہے ممنوعات کا ادراک تعلیم کے ذریعے ہی ہوتا ہے نہ کہ کسی خالی میدان میں ایک دن کی عبادت سے۔ ماحصل یہ کہ مشعرالحرام ان پابندیوں کا ادراک ہے جو عرفات یعنی تعلیمات قرآن سے حاصل ہوتی ہیں۔ آگے دیکھئے۔۔۔  
 واذکروہ  میں  ’ ہ ‘  کی ضمیر کا مرجع یا تو  اللہ  ہوسکتا ہےیا  مشعر الحرام ۔ مفہوم کے لحاظ سےکوئی فرق نہیں پڑتا۔  ’ہ‘  کا مرجع اگر اللہ ہے تو بھی احکام الٰہی مقصود ہے اور اگر مشعرالحرام ہے تو بھی وہ احکام جو پابندیاں عائد کرتے ہیں، مراد ہیں لیکن اس سے کسی اینٹ پتھر کی عمارت مراد نہیں ہو سکتی اس لیے کہ یاد دھانی تو اس کی کرانی ہے جس کی ہدایت ملی ہے۔   وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ  اس کی ایسی یاد دھانی کراؤ جیسی کہ تمہیں ہدایت ملی ہے... اور آگے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے، جب کہا جاتا ہے۔  وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ  اور یہ کہ تم اس سے قبل گمراہوں میں تھے۔  
یہاں خود سے سوال کیجئے کہ انسان کس چیز کے حصول سے پہلے گمراہ ہوتا ہے؟ آپ کا دل جواب دے گا کہ انسان کسی صحیح بات کے معلوم ہونے سے پہلے گمراہ ہوتا ہے۔ اور اب خود سے پوچھئے کہ حج کے بعد وہ کون سی تبدیلی آتی ہے کون سی صحیح بات معلوم ہو جاتی ہے جس سے پہلے لوگ گمراہوں میں ہوتے ہیں۔ یقیناً نہ تو کسی عمارت کی زیارت سے کوئی گمراہی دور ہوتی ہے اور نہ ہی کسی میدان میں ایک دن کی عبادت سے۔ نہ تو عمارت کی زیارت سے ہدایات ملتی ہیں اور نہ ہی ایک دن کی عبادت سے۔  
یہ ان آیات کا اہم ترین جزو ہے جس میں ارشاد ہے ۔۔۔  وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ  اور یہ کہ تم اس سے پہلے گمراہوں میں سے تھے۔  
یہ جزو حج کو بالکل کھول کر بیان کر دیتا ہے۔ ایک لمحہ کے لئے رکیے اور غور کیجئے کہ عرفات سے پہلے وہ انسان جو گمراہ تھا، کس طرح عرفات سے گزرنے کے بعد گمراہی کو چھوڑ بیٹھا۔ اگر عرفات کوئی میدان ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔  
۱۔ کیا عرفات سے گزرنے والا ہر شخص گمراہ ہوتا ہے؟  
۲۔ کیا عرفات سے گزرنے کے بعد ہر انسان گمراہی چھوڑ کر صحیح راستے کو اختیار کر لیتا ہے؟  
۳۔ کیا قرآن میں دوسرے مقامات پر اسی طرح گمراہی سے نکلنے کا ذکر کیا گیا ہے؟  
پہلے سوال کا جواب تو نفی میں ہے۔ اس لیے کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ حج پر جانے والے مذہبی علما حج کرنے سے پہلے گمراہ نہیں تھے۔  
دوسرے سوال کا جواب بھی نفی میں ہے اس لیے کہ آپ نے خود مشاہدہ کیا ہوگا کہ حج کے بعد لوگوں میں رتی برابر فرق نہیں ہوتا بلکہ اس کے برعکس انہیں ہر قسم کی زیادتی کرنے کے لیے ایک طرح کا اجازت نامہ مل جاتا ہے۔  
اب سوال نمبر ۳ کا جواب حاضر ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 164 اور سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر2 میں اسی طرح کی گمراہی سے نکلنے کا ذکر ہے۔ ملاحظہ فرمایئے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 164 ۔۔۔۔۔۔  
 لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ   
یقیناًاللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیاہے کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول کو مبعوث کیا جو ان کو اس کی آیات سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔ (عمومی ترجمہ)  
اس عمومی ترجمے سے بھی معلوم ہوا کہ۔۔۔  
کتاب و حکمت ملنے سے پہلے لوگ گمراہ تھے اس لیے رسول کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اللہ کی آیات لوگوں کو بتائے اور اس کے ذریعے لوگوں کا تزکیہ کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور یہ کہ رسول کی کتاب و حکمت کی تعلیم سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔ اور یہی بات سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر2 میں ارشاد فرمائی۔۔۔۔۔۔  
 هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأمِّيِّينَ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ    
وہ وہی تو ہے جس نے کتاب سے ناواقف لوگوں کے درمیان انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی آیات سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور یہ کہ اس سے قبل وہ کھلی گمراہی میں تھے۔  
یہاں سورۃ الجمعہ میں بھی وہی بات ارشاد ہوئی ہے کہ کتاب و حکمت کی تعلیمات سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔ دیکھ لیجئے رسول کے مبعوث ہونے سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں ہوتے ہیں اور جب وہ اللہ کی آیات سناتا ہے ان کا تزکیہ کرتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے تب کہیں جاکر وہ اس گمراہی سے نکلتے ہیں۔  
اب خود سوچئے کہ کیا کسی میدان میں چند گھنٹوں کا قیام یا اس میدان سے گزرنا کسی تعلیم کے حصول تزکیہ یا کتاب و حکمت کے حصول کا باعث بن سکتا ہے۔ آج تک تو میدان عرفات کا قیام کسی مسلمان کو ذرہ برابربھی عقل نہ دے سکا، گمراہی سے نکالنا تو دور کی بات ہے۔ گمراہی کو دور کرنے کیلئے تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ آیئے اب تک کی آیات کا ماحصل چند جملوں میں بیان کر دیں۔  
۱۔ حج ایک ایسا اجتماع ہے جس میں مخصوص حالات و کیفیات سے متعلق احتجاج اور احکام الٰہی پر مبنی دلائل کے ذریعے ایک دوسرے کو قائل کیا جائے گا۔ اور دشمن اگر جنگ تھوپ دیتا ہے تو اسی سختی سے اسے جواب دیا جائے گا۔  
۲۔ اس اجتماع کے ایام ضرورت کے مطابق طے کریں گے۔یہ مخصوص مہینے کی یا مخصوص دن کی بات نہیں ہے بلکہ انسانیت جب بھی ایسے اجتماع یا جوابی کارروائی کی ضرورت محسوس کرے گی دن و تاریخ متعین کرے گی۔  
۳۔ اس احتجاج کے فیصلے کے بارے آپس میں کسی قسم کی بدکلامی ، قانون شکنی اور بحث مباحثہ میں لڑائی جھگڑے تک پہنچنے کی اجازت نہیں ہو گی۔  
۴۔ نیکی میں مزید سے مزید تر ہونے کی کوشش کرنی ہے اور نیکی کا سب سے اعلی مقام تقویٰ کی بنیاد پر ہے جس کو انتہائی خیر کہا گیا ہے۔  
۵۔ قرآن نے حج پر جانے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے  ’’اولی الالباب‘‘  کہا ہے اس لیے حج کا اجتماع احتجاج کیلئے ہو یا جنگ کے لیے،اس میں صرف اہل علم و دانش ہی شرکت کرتے ہیں۔  
۶۔ عرفات کسی میدان کا نام نہیں بلکہ احکام الٰہی کی معرفت ہے۔ اس اجتماع میں احکام الٰہی سے وہ معرفت حاصل کر کے فیضیاب ہونا ہے جس میں نظام ربوبیت کے حصول میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوتی۔  
۷۔ احکام الٰہی سے فیض یاب ہونے کے بعد نظام ربوبیت کے حصول کیلئے ضابطہ کو متعین کرنے کے بعد اس کی یاد دھانی کرانی ہے۔ یہ ایسالائحہ عمل ہوگا جو انسان کو غلط اعمال سے روکتاہے۔  
۸۔ اور یہ یاد دھانی انہی بنیادوں پر ہوگی جو احکام الٰہی کی ہدایات کے مطابق پہلے طے کی جا چکی ہیں، اور جن سے پہلے وہ گمراہ تھا۔
 
199
ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
مزید تم دوسروں کو فیض یاب کرو جیسا کہ دوسرے فیض یاب کرتے ہیں اور مملکت کی حفاظت طلب کرو۔ یقیناً مملکت خداداد رحمت کے ساتھ حفاظت فراہم کرنے والی ہے۔
مباحث:۔  
دیکھئے اس آیت میں اللہ سے اس کی حفاظت طلب کرنے کے لیے کہا گیا ہے جس کا ماحصل ہے ایک ایسی مملکت الٰہیہ کا قیام جو انسانوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہو۔ اس لیے جان لیجئے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حج ایک ایسا اجتماع ہے جہاں احتجاج سے لے کر جنگ تک کی جاتی ہے۔ جہاں اہل علم و دانش اور صاحبان اختیار احکام الٰہی کے مطابق دلائل کے ذریعے لوگوں کے مسائل کا حل تلاش کر تے ہیں اور جنگ کی صورت میں ملکی دفاع کرتے ہیں تاکہ انسانیت کی پالنہاری کا نظام قائم کیا جائے اور عوام کی محتاجی دور ہو۔ سورۃ الحج کی آیات کا بھی مفہوم یہی ہے لیکن وہاں حجت قائم کرنے کی انتہائی کیفیت کا ذکر ہے جہاں ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ اس احتجاج میں آخری حجت قائم کرنے کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ سورۃ توبہ میں جنگ کو ’’حج اکبر‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔  
رحیم اور رحمان کے معنی اور فرق کیلئے سورہ فاتحہ ملاحظہ فرمائیے۔  
 افیضوا  مادہ  ف ی ض  معنی فیضیابی ۔۔۔۔۔  افیضوا  باب  افعال سے فعل امر  اور  افاض الناس  ماضی ۔واحد مذکر غائب ۔  
باب افعال کا خاصہ دوسروں پر اثر انداز ہونا ہے اس لیے ترجمہ میں "دوسروں کو فیض یاب کرو جیسا کہ دوسرے فیض یاب کرتے ہیں" کیا گیا ہے۔
 
200
فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ۗ فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ
پھر جب اپنے لائحہ عمل کا فیصلہ کر تے ہو تو قوانین قدرت کی یاددہانی کراؤ جس طرح اپنے بڑوں کے احکام کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ شد و مد سے۔  
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو مملکت خداداد سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کودنیاوی زندگی (مفاد عاجلہ، فوری فائدہ ad-hock-ism) میں ہی عنایت کر۔ ایسے لوگوں کا ظہور نتائج کے وقت کچھ حصہ نہیں۔
 
201
وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
اور ان ہی میں سے کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے پروردگار ہمیں دنیاوی (ادنیٰ) زندگی میں بھی اور ظہور نتائج کے وقت (اخروی زندگی) میں بھی بہترین عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
مباحث؛۔  
 عذاب النار   کیا ہے؟ آئیے سورہ  آل عمران  کی آیت نمبر ۱۰۳ کا مطالع کرتے ہیں۔  
 وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ    
اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور تفرقہ میں مت پڑو اور اللہ کی نعمت (احکام) جو تم پر ہوئی، اس کی یاد دہانی کراتے رہو جب کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈال دی پس تم ایسے احکام کے ذریعے بھائی بھائی ہو گئے ۔۔۔۔۔تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے پس تم کو اس آگ سے بچا لیا ۔۔۔۔۔۔ اس لیے قدرت تم کو اپنی آیات بیان کرتی ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔  
دیکھئے اس آیت میں ایک آگ کے گڑھے کا ذکر ہے جس پر لوگ کھڑے تھے ۔ ۔۔۔۔یہ کون سا آگ کا گڑھا تھا جس پر رسالتمآب کے زمانے کے لوگ کھڑے تھے ؟  
اس آیت میں خود بتا دیا گیا ۔۔۔۔وہ آگ آپس کی دشمنی کی آگ ہوتی ہے جو احکام الٰہی کے ذریعے دلی الفت میں بدل جاتی ہے۔
 
ذرا غور کیجئے قرآن ایسے لوگوں کو کیا جواب دے رہا ہے۔
202
أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا ۚ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اسی میں سے حصہ ہے جو انہو ں نے کمایا اورقوانین قدرت حساب کرنے میں بہت تیز ہیں۔
مباحث:۔  
 وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ  کا عمومی ترجمہ "اور اللہ حساب کرنے میں بہت تیز ہے۔"... کیا جاتا ہے ۔ کیا واقعی ہم کو خدا کی سرعت نظر آتی ہے ؟ لوگ ساری ساری عمر ظلم کے خلاف دعائیں کر کر کے مر جاتے ہیں ۔۔۔۔نہ تو خدا حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی اس کو انصاف ملتا ہے۔۔۔۔۔۔ پھر یہ کیسا دعویٰ ہے جس کی سچًائی نظر نہیں آتی؟۔۔۔۔۔۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے خدا کو آسمانوں میں بٹھا رکھا ہے، اسے نیچے اترنے ہی نہیں دیتے۔ ایک دفعہ اسے اس زمین پر لائیے تو سہی، اور پھر دیکھئے کہ خدا کے انصاف میں کتنی تیزی ہے۔ مملکت خداداد کو قائم تو کیجئے اور تمام صفات الٰہی جو قرآن میں بیان ہو ئی ہیں، ان کو اس مملکت کے نظام میں ڈھال کر تو دیکھئے ۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہو جائیگا کہ اللہ کتنا  سَرِيعُ الْحِسَابِ  ہے۔ قرآن میں اللہ سے متعلق تمام صفاتِ عالیہ اس اسلامی نظام کی صفات ہیں جو قرآن کی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے۔
 
203
وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
اور تربیتی ادوار کے معاملے میں احکام الٰہی کی یاد دہانی کراؤ۔ اور یقیناً متًقی کے لیے کوئی حرج نہیں کہ وہ احکام الٰہی کے نفاذ کے معا ملے میں جلدی یا تا خیر کرے اور الٰہی احکام پر گامزن رہو اور یاد رکھو کہ تم سب اس کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں دو الفاظ قابل غور ہیں ۔۔۔۔۱۔۔  یومَین  اور  ایاما معدودات   
یوم کے معنی بہت معروف ہیں یعنی "دن"... لیکن اس کا استعمال بہت وسیع ہے۔ دن بمعنی دَور بہت زیادہ مستعمل ہے۔ قرآن میں  یومین  دو ادوار تقابلی لحاظ سے بیان ہوئے ہیں۔ ایک وہ دور جب کہ اہل امن یعنی مومنین کا غلبہ ہو گا اور دوسرا وہ دور جب کہ کفار یعنی امن کے دشمن انکاری شیاطین (شیطان صفت لوگوں) کا غاصبانہ قبضہ ہوتا ہے۔  
ایاماً معدودات کا ترجمہ چند دن کیوں کیا جائے ؟ کیا اللہ کا ذکر صرف چند دن کے لیے ہی ہوتا ہے؟ یا ساری زندگی اسی میں گزارنی چاہئے ۔۔۔۔۔!  
جی ہاں اگر تو اللہ کے ناموں کی تسبیح پڑھنی ہے تو ٹھیک ہے، لیکن اگر احکام الٰہی کے تحت زندگی گزارنی ہے جن کے ذریعے ایک فلاحی ریاست کا قیام عمل میں لانا ہے تو یہ زندگی بھی ناکافی ہے۔ ایاماً معدودات کی بحث آیت نمبر ۱۸۴ کے تحت کی جا چکی ہے۔
 
204
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ
اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جس کی گفتگو دنیاوی زندگی کے معاملے میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بھی بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ وہ شخص جو بغیر دلیل کے اللہ کو گواہ ٹھہرا رہا ہے، اسے قرآن  أَلَدُّ الْخِصَامِ  کہہ رہا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں علامہ سے لے کر عامی تک ہر کوئی اپنی بات منوانے کے لیے اللہ کو گواہ بناتا ہے۔۔!
 
205
وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ
اور جب اس کو مملکت کی ولایت ملتی ہے تو وہ زمین میں فتنہ انگیزی کی کوشش کرتا ہے تاکہ قوم اور اس کی نسل کو ہلاک کر دے اور قدرت فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتی۔
 
206
وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ ۚ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ مملکت خداداد کے قوانین پر گامزن رہو تو اس کا غلبہ اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔
مباحث:۔  
جہنم کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فارسی لفظ  "جھنام"  سے معرب ہے (علامہ عبدالرشید نعمانی)۔ جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ عبرانی لفظ  جیھنوم  (ge-hinnom) سے معرب ہے۔  
اس کے برعکس کچھ کا خیال ہے کہ یہ عربی کا ہی لفظ ہے اور مادہ  ج ھ ن م  رباعی یعنی چار حروف پر مبنی ہے۔ اسی لیے اکثر لغات میں اس لفظ کو  ج ھ ن  ’’جاتا ہے‘‘ کے مادہ کے تحت  م  کی اضافت کے ساتھ رباعی کے تحت درج کیا۔  
اصل مقصد جہنم میں ڈالنے کا یہ ہےکہ اس شخص کے ارادہ و اختیار کی آزادی کو اس حد تک محدود کر دیا جائے کہ وہ دوسروں کے اختیار و ارادہ پر اثر انداز نہ ہو سکے، اور اس کی تربیت اس انداز سے کی جائے کہ اسے نہ صرف اپنے کیے پر شرمندگی کا احساس ہو بلکہ دوسروں کی نظروں میں تذلیل ہونے کا بھی خوف ہو۔
 
207
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ
اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو مملکت خداداد کی خوشنودی کیلئے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ مملکت خداداد اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔
 
208
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
اے اہل امن..! سلامتی کے ضابطہ حیات کو مکمل طور پر اپنے اندرسمو لو اور امن و سلامتی کے دشمن کے پیچھے نہ چلو، وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔
 
209
فَإِن زَلَلْتُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
پھر اگر تم واضح احکام کے پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ مملکت خداداد غالب حکمت والی ہے۔
 
210
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر مملکت خداداد کا عذاب غموں کے سائبانوں سے چھا جا ئے اور نافذین احکام بھی آ جائیں اور فیصلہ صادر کر دیا جائے اور سب احکام کا مرجع مملکت خداداد ہی ہے۔
 
211
سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُم مِّنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ ۗ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنے واضح احکام دیئے۔ اور جو قوم واضح احکام کے آنے کے بعد انہیں بدل دے تو یقیناً مملکت خداداد انتہائی تعقب کرنے والی ہے۔
مباحث:۔  
جیسا کہ پہلے آیات نمبر ۴۰ اور ۴۷ کے تحت عرض کیا کہ بنی اسرائیل بھی اہل کتاب تھے لیکن انہوں نے بھی احکام سے تجاوز کیا اس لیے عتاب کو سزاوار ہوئے۔
 
212
زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ۘ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
انکار کرنے والوں کے لیے دنیاوی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ اہل امن سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو قانون کی پابندی کرنے والے ہیں وہ دین کے قائم ہونے والے دن ان پر غالب ہوں گے اور مملکت خداداد ان لوگوں کو جو چاہتے ہیں، بےشمار رزق عطا کرتی ہے۔
 
213
كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
انسان ہمیشہ سے ایک ہی امّت ہیں پس اسی مقصد کے لیے قدرت نے خوشخبری دینے والے اور پیش آگاہ کرنے والے انبیاء مامور کیے اور ان کے ساتھ حقوق کی کتاب نازل کی تاکہ ان کے درمیان جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا فیصلہ کر دے اور باوجود اس کے کہ ان کے پاس واضح احکام آ چکے تھے، آپس کی بغاوت کی وجہ سے اس میں اختلاف انہی لوگوں نے کیا جن کو وہ دی گئی تھی، پس خدا نے مومنوں کو حقوق کے ان معاملات میں جن میں لوگ اختلاف کرتے تھے، ہدایت عطا کی اورخدا اسی شخص کو استقامت کا راستہ دکھاتا ہے جو شخص چاہتا ہے۔
 
214
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم جنّت (فلاحی معاشرہ) میں داخل ہو جاؤ گے اور ابھی تو تم کو پہلے لوگوں جیسے حالات پیش آئے ہی نہیں۔ ان کوسختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ ہلا ہلا دیئے گئے، یہاں تک کہ رسول اور اس کے مومن ساتھی پکار اٹھے کہ اللہ کی مملکت کی مدد کب آئے گی۔ یاد رکھو اللہ کی مملکت کی مدد آيا ہی چاہتی ہے۔
 
آیت نمبر ۲۱۴ میں کہا گیا  
"کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم جنّت (فلاحی معاشرہ) میں داخل ہو جاؤ گے اور ابھی تو تم کو پہلے لوگوں جیسے حالات پیش آئے ہی نہیں۔ ان کوسختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے پکار اٹھے کہ قدرت کی مدد کب آئے گی"۔۔۔۔۔ کیا خیال ہے اس مقام سے آگے قرآن کا کیا جواب ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔؟ قرآن کا جواب ہے ۔۔۔۔۔ "یاد رکھو خدا کی مدد آيا ہی چاہتی ہے۔"  
دیکھئے اس مقام سے پہلے ایک جدوجہد کی داستان بیان ہو رہی ہے جس میں مومنین کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے رسول اور ان کے ساتھی بھی کہہ اٹھےکہ قدرت کی مدد کب آئے گی۔ ظاہر ہے کہ ان آیات کے بعد اس لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا جس کے ذریعے مومنین ایک قوت بنیں گے اور جو حالات ان کو پیش آئیں گے ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے ان کو تیار کیا جائے گا جس کو خدا کی مدد یا قوانین قدرت کے تحت  نصراللہ  کہا گیا ہے۔  
اور اس کام کے لئے سب سے پہلے انفاق کی ضرورت ہوگی ۔
215
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
لوگ تم سے پوچھیں گے کہ کس کے لیے مال خرچ کریں؟ کہہ دو کہ جو مال خرچ کرنا چاہو، وہ والدین اور ا قرباء اور یتیموں اور محتاجوں اور احکام الٰہی پر گامزن لوگوں کے لیے خرچ کرو اور جو بھی بھلائی تم کرو گے اللہ کی مملکت کو اس کا علم ہو جا ئے گا۔
 
216
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
تم پر جنگ فرض کر دی گئی اور وہ تم کو ناپسند ہے۔ مگر عجب نہیں کہ تم کو کوئی بات ناپسند ہو لیکن وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو، اللہ کی مملکت کو بہتر علم ہے اور تم کو علم نہیں۔
مباحث:۔  
اس آیت کے بعد کی آیات میں فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے جس جدوجہد کی ضرورت ہو گی اسے بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے آگے کی آیات میں زیر بحث موضوع جدوجہد اور جنگ ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگلی آیات کا مطالعہ کرنا ہوگا۔
 
217
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ ۖ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّىٰ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا ۚ وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
لوگ تم سے ان ممنوعہ حالات میں جنگ کے بارے میں دریافت کریں گے، کہہ دو کہ ان کے معاملے میں لڑائی بڑی بات ہے لیکن اللہ کی مملکت کی راہ میں روڑے اٹکانا اور ان کا انکار کرنا اور ان احکام سے انکار کرنا جو پابند یاں عائد کرتے ہیں، اور اللہ کی مملکت کی راہ اور ان احکام الٰہی کی اہلیت والوں کو نکال دینا اللہ کی مملکت کے نزدیک جنگ سے بھی زیادہ ہےکیونکہ نقص امن لڑائی سے بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ اگر استطاعت رکھیں تو تم کو تمہارے نظام حیات سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے ضابطہ حیات سے واپس ہوا، پس وہ تو ناکام ہوا اور وہ بھی انکار کرنے والوں میں شامل ہوا۔ سو ایسے ہی لوگوں کے اعمال ادنیٰ زندگی اور اعلیٰ زندگی میں بے فائدہ ہوئے اور یہی لوگ اصحاب نار ہیں اور یہ لوگ اسی میں رہنے والے ہیں۔
 
218
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
یقیناً وہ لوگ جو اہل امن ہیں اور جنہوں نے اللہ کی مملکت کے دستور کیلئے نظریے میں تبدیلی کی اور جدوجہد کرتے رہے، وہی اللہ کی مملکت کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ کی مملکت رحمت کے ساتھ حفاظت فراہم کرنے والی ہے۔
 
یاد رکھنے کی بات ۔۔۔  
قرآن کسی ایرے غیرے کا کلام نہیں کہ کوئی ربط نہ ہو۔ کسی بھی اچھی کتاب کا حسن ہوتا ہے کہ اس کے مضامین آپس میں جڑے ہوئے ہوں اور موتیوں کی طرح پروئے ہوئے ہوں۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ قرآن الٰہی کتاب بھی ہو اور بے ربط بھی ہو۔ قرآن کے مضامین اگر سمجھ نہیں آ رہے تو اس کےمعنی گھڑنے کی بجائے اپنی کم فہمی کا اعتراف کر لینا چاہئے۔  
ذیل کی آیات میں جنگ کا بیان ہو رہا ہے۔ اس کے درمیان میں شراب اور جو ئے کا ذکر بے محل ہے۔ہمیں جنگ کے تناظر میں ہی  الخمر  اور  المیسر  کے معنی متعین کرنے ہوں گے۔
219
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ
تم سے لوگ احکام کی طرف سے لاپرواہی اور انفاق اور جدوجہد سے گریز سے متعلق دریافت کریں گے۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور تم سے یہ بھی پوچھیں گے کہ کس مقصد کے لیے خرچ کریں، کہہ دو "عافیت کے لیے"۔ اس طرح اللہ کی مملکت تمہارے لیے اپنے احکام بیان فرماتی ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔
 الخمر  مادہ  خ م ر  معنی مخمور ہونا۔ یعنی ہر وہ چیز جو انسان کو مخمور کر دے  خمر  کہلائے گی کیونکہ شراب انسان کو مخمور کر دیتی ہے اس لیے  خمر  کہلاتی ہے،لیکن اس آیت میں لفظ  الخمر  معرفہ  معرف بالام  آیا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہاں  الخمر  کے عمومی معنی نہیں ہیں چنانچہ سیاق و سباق کے تحت جس بات کا ذکر ہو رہا ہے وہ  الخمر  ہے نہ کہ شراب۔  
سیاق و سباق میں ہمیں آیات ۲۱۴ سے ۲۱۸ تک انفاق اور جدوجہد کی ترغیب مل رہی ہے۔ اس لیے  الخمر  کے معنی ’’وہ نظریہ جو جدوجہد سے لاپرواہ کر دے‘‘ کرنا ہوں گے۔  
 المیسر  مادہ  ی س ر  معنی آسانی۔ جیسا کہ عرض کیا، انسان جدوجہد سے جی چراتا ہے اور تن آسانی چاہتا ہے۔ اس لیے  المیسر  کے معنی ہوئے ’’وہ نظریہ جو تن آسانی پیدا کر دے۔‘‘
 
220
فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۗ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ ۖ قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ ۖ وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
 الدنیا  اور  الآخرۃ  کے معاملے میں اور تم سے بے سہارا لوگوں کے بارے میں دریافت کریں گے، کہہ دو کہ ان کی اصلاح خیر کا کام ہے اور اگر تم ان کو اپنے میں جذب کر لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ کی مملکت خوب جانتی ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر اللہ کی مملکت چاہتی تو تم کو تکلیف میں لازماً ڈال دیتی۔ بےشک اللہ کی مملکت بر بناء حکمت غلبے والی ہے۔
 
جیسے کہ آپ نے دیکھا کہ آیت ۱۸۹ سے جنگ کا موضوع چل رہا ہے اور جنگ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے اور جنگ کے مسائل کو ہی زیر بحث لایا گیا ہے۔ مابعد آیات میں بھی اسی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے جنگ ہی کے متعلق احکام دیئے جا رہے ہیں۔ مضمون کے تسلسل کا تقاضا ہے کہ آئندہ آیات بھی اسی پس منظر میں بیان کی جائیں۔ مرد و زن کے نکاح اور طلاق کے معاملات کو بیچ میں لانے کا مطلب ہوگا کہ قرآن میں تسلسل کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ دیکھئے آیت نمبر۲۴۳ میں ارشاد ہوا ۔  
 أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّـهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ   
(بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ہزاروں تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے، تو خدا نے ان کو کہا کہ جاؤ مردوں کی طرح زندگی گزارو۔ پھر ان کو زندگی بخشی ۔۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے)  
اس آیت میں  أَلَمْ تَرَ  ’’کیا تم نے غور کیا‘‘ کہنے کا کیا مقصد ہے؟ یہ کس دعوے کی دلیل ہے جو یاد کرائی جا رہی ہے؟ اگر آگے کی آیات میں جنگ کی کیفیت ہے تو اس دلیل سے پہلے کی آیات میں بھی جنگ کے متعلق ہی بات ہو گی۔ آیت نمبر ۲۴۲ کے بعد جالوت و طالوت کا قصہ بیان ہوا جس میں سیدنا داؤد کا جالوت کو ہلاک کرنے کا ذکر آتا ہے اور جس کی ابتدا  الم تر  سے ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ماقبل آیات میں کوئی ایسی بات کی گئی ہے جس کی دلیل کے لیے جالوت و طالوت کا قصۂ جنگ بیان کیا گیا ہے۔  
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آیت نمبر ۱۸۹ سے لیکر ۲۵۲ تک تسلسل سے جنگ کو زیر بحث لایا گیا ہے اس لیے بیچ میں جنگ کے موضوع سے ہٹ کر شوہر و زن کے نکاح اور طلاق کو موضوع بنانا قرآن کے تسلسل کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر قرآن کے تسلسل کو دھیان میں رکھا جائے تو آیات ۲۲۱ سے لے کر آیت ۲۴۲ تک کی آیات کو اسی پس منظر سے دیکھنا چاہئے، اور ان آیات میں مرد و زن کے تعلقات نہیں بلکہ مملکت اور اس کے عوام کے درمیان تعلقات کو دیکھنا ہو گا۔  
ان آیات میں جمع مونث کا صیغہ ان اقوام یا افراد کی جماعت کے لیے استعمال ہوا ہے جو زیرنگیں ہوتے ہیں اور ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ احکام جاری کیے جا رہے ہیں جب کہ کوئی قوم یا افراد کی جماعت اللہ کی مملکت کے زیرنگیں آ جا ئے تو ان کے ساتھ کس طرح کے روابط یا تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔ ان آیات میں جمع مونث کا صیغہ ان افراد کی جماعت کے لیے استعمال ہوا ہے جوزیرنگیں ہوتے ہیں۔
221
وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا ۚ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ أُولَٰئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ ۖ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ ۖ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
اور احکام الٰہی کے ساتھ شرک کرنے والی جماعتوں سے جب تک کہ اہل امن نہ بن جائیں، کوئی معاہدہ نہ کرنا کیونکہ ایک مشرک امت سے خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگےایک مومن امت بہتر ہے۔ اسی طرح تم کسی مشرک سےمعاہدہ نہ کروانا جب تک کہ وہ اہل امن نہ ہو جائیں، کیونکہ مشرک سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے، مومن بندہ بہتر ہے۔ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں اورقوانین قدرت ایک فلاحی معاشرے اور حفاظت کی طرف بلاتے ہیں اور وہ اپنے احکام انسانوں کےلیے واضح بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت یاد رکھیں۔
مباحث:۔  
آگ کےلیے سورۃ آل عمران کی آیت ۱۰۳ ملاحظہ فرمائیے ۔  
 وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ    
(اور سب مل کر خدا کی رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور فرقہ فرقہ نہ ہوجانا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔)  
یاد رکھیے آپس کی دشمنی اور فرقہ فرقہ ہونا ہی آگ کا گڑھا ہے۔
 
اس آیت کو بھی تمام ربط کو بالائے طاق رکھ کر عورتوں کی کیفیت حیض پر چسپاں کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔ اگر تو آپ قرآن کے ربط کے قائل ہیں۔۔۔۔ تو ذرا سیاق و سباق میں جا کر دیکھئے ۔۔۔۔ آپ کو جدوجہد اور تصادم کی کیفیت نظر آئے گی، اسی جدوجہد اور تصادم سےمتعلق یہ آیت بھی ہے۔
222
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ
اور لوگ تم سے خون ریزی کے بارے میں دریافت کریں گے، کہہ دو کہ وہ تو ایذاء اور تکلیف ہے اس لیے کمزور لوگوں پر خون ریزی کے معاملےمیں خونریزی سے علیحدگی اختیار کرو۔ اور جب تک وہ غیر الٰہی احکام سے اپنے آپ کو علیحدہ نہ کر لیں، ان سے تعلقات قائم نہ کرنا۔ البتہ جب غیر الٰہی احکام سے پاک ہو جائیں تو جس طرح احکام الٰہی میں ارشاد فرمایا ہے، ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ کی مملکت توبہ کرنے والوں اور غیر الٰہی احکام سے پاک صاف لوگوں کومحبوب رکھتی ہے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں لفظ  الْمَحِيضِ  آیا ہے۔ اس کا مادہ  ح ی ض  ہے۔ علامہ رشیدنعمانی لکھتے ہیں۔۔۔ "یہ ظرف زمان۔ (وقت حیض) ظرف مکان (مقام حیض) اور مصدر (حیض آنا ) یا بمعنی حیض یعنی وہ فاسد خون جو مخصوص زمانے اورمخصوص حالت میں تندرست، جوان، غیر حاملہ عورت کے رحم سے نکلتا ہے۔ " (لغات القرآن ،جلد پنجم صفحہ ۳۳۲)  
محیض جیسا کہ علامہ صاحب نے فرمایا... "اسم ظرف"ہے، جس کا مطلب ہوا کہ سوال حیض کی جگہ یا وقت سے متعلق نہیں ہے ورنہ سوال بھی بےمحل ہے اور جواب بھی بےمحل۔  
اب رہا سوال کہ کیا لفظ  المحیض  کو بطور مصدری معنوں میں لیا جائے... تو بھی جواب نفی میں ہے۔عورت کےخاص ایام میں جوکیفیت ہوتی ہے اس سے متعلق سوال کیا جائے گا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جواب بتا رہا ہےکہ یہ عورت کی اس کیفیت سے متعلق نہیں ہے۔ جواب دیا گیا  قُلْ هُوَ أَذًى  (کہو کہ یہ ایذاء ہے )۔  
یہ ایک ایسا دو ٹوک بیان ہے جس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔۔۔۔لیکن کیا یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تو اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ ترجمہ حتمی ہے ورنہ اس ترجمے میں خامی ہے ۔۔۔۔۔ حالت حیض میں کچھ عورتوں کو یقینا اذیت اور تکلیف ہوتی ہے لیکن یہ اصول نہیں ہے۔ ہر ماں اپنی نوجوانی میں قدم رکھنے والی بچی کے لیے پریشان نظر آتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کی بچی کے کپڑے حیض کے خون سے بھر جائیں اور اسے پتہ بھی نہ چلے۔ محض چند ہی خواتین ایسی ہوتی ہیں جنہیں اس موقع کی تکلیف کے لیے ڈاکٹروں سے علاج کرانا پڑتا ہے؟ دوسری اہم بات ہے کہ یہ  المحیض  ہےیعنی معرف بالام ہے جس میں کسی خاص حیض کی بات ہو رہی ہے۔ اس لیے یہ آیت خواتین کی اس حالت کے متعلق جسے حیض کہا جاتا ہے، قطعا نہیں ہے۔  
 النساء  کی اصطلاح کو ہم کئی مقامات پر زیر بحث لا چکے ہیں۔ آپ کی یاد دہانی کے لیے ایک مرتبہ پھر پیش کیے دیتے ہیں۔  
النساء کا لفظ سیدنا موسیٰ اور فرعون کی داستان میں بہت استعمال ہوا ہے، جہاں بارہا مختلف مقامات پر بتایا گیا کہ فرعون ابناء قوم کو مروا دیتا تھا اور نساء کو چھوڑ دیتا تھا۔سیدنا موسی کی داستان میں یہودی روایات کے زیر اثر ہماری مذہبی پیشوائیت نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کے نو مولود بیٹوں کےقتل کا حکم صادر کیا ہوا تھا۔ یہ بات یہاں ہی واضح ہو جانی چاہئے تاکہ معلوم ہو جائے کہ بنی اسرائیل کے ابناء اور نساء کون تھے۔ ہماری مذہبی داستانوں کے مطابق فرعون نے بنی اسرائیل کے بیٹوں کےقتل کا حکم اس وقت دیا جب کہ سیدنا موسی کی پیدائش متوقع تھی لیکن قرآن کے مطابق فرعون نے یہ حکم اس وقت دیا جب سیدنا موسی نے فرعون کے دربار میں چیلنج کیا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں سورۃ ا لا عراف کی آیت ۱۲۷  
 قَالَ الْمَلأ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الأرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ   
(سرداران قوم فرعون نے کہا کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اور تم اور تمہارے الٰہ کو چھوڑ دیں تو فرعون نے کہا "میں یقیناً ان کے ابناء کو قتل کروں گا اور ان کی نساء کو حیات بخشوں گا، مزید ان پر قاہر بنونگا۔")  
آپ خود فیصلہ کیجئے کہ یہ کس وقت کا کلام ہے ؟ ایک اور مقام آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ سورۃ المومن کی آیت نمبر ۲۵  
 فلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ مَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ  (پس جب وہ ہمار ے پاس سے ان کی طرف الحق لے کر آیا تو کہنے لگے ان ابناء کو جو اس کے ساتھ اہل ایمان ہوئے ہیں، قتل کر دو اور جو ان کی نساء ہیں، انہیں حیات بخش دو۔)  
دیکھ لیجئے کہ ابناء قوم کے قتل کا حکم اس وقت ہوا جب سیدنا موسی نے خدا کی طرف سے حق کو پیش کیا اور سیدنا موسی اس وقت نو مولود نہ تھے۔ فرعون کو کسی نومولود کے قتل سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اصل قتل تو ان کا ہونا چاہئے جو مرد میدان ہوتے ہیں، جو ابناء قوم کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنی قوم کی قسمت بدلنے کا عزم رکھتے تھے اور فرعون کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے تھے۔ ان ابناء قوم کے برعکس وہ بے چارے افراد جن کو فرعون نے اتنا کمزور بنا دیا تھا کہ وہ ہر وقت فرعون کی گالیوں اور بدکلامی سے نوازے جاتے تھے۔ ان لوگوں میں کسی قسم کی عزت نفس باقی نہیں چھوڑی گئی تھی۔ انہی لوگوں کو قرآن نے "النساء" کہا ہے۔ آج بھی ایسے لوگوں کو کسی اہلیت کے لائق نہیں چھوڑا جاتا۔ ان کے ضمیر کو اس طرح مسخ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ہر حالت کو خالق کی وجہ سے سمجھتے ہیں۔ آج بھی آپ ایسے افراد کو اپنی قوم میں بھی بکثرت پائیں گے، بس ذرا زاویۂ نگاہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔  
سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۱۱ میں ارشاد ہے:  
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَومٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ   
(اے اہل امن! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے "یامسخر نہ کرے" ممکن ہے وہ قوم ان سے بہتر ہو، اور نہ ہی کوئی نساء کسی نساء سے، ممکن ہے وہ نساء ان سے بہتر ہوں۔)  
اس آیت میں کچھ لوگوں کو قوم کہا گیا ہے اور قوم کے متضاد "نساء" کا لفظ آیا ہے۔ قوم اس وقت بنتی ہے جب لوگ کسی نظریہ اور موقف پر ڈٹ جاتے ہیں اور ثابت قدم رہتے ہیں، ورنہ وہ قوم نہیں بلکہ مجمع ہوتے ہیں۔قوم کے مقابلے پراور متضاد لفظ "نساء" کا استعمال کر کے قرآن نے دونوں الفاظ کو خود ہی واضح کر دیا ہے، یعنی قوم ان افراد کی جماعت جو اولوالعزم اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہنے والے، اس کے برعکس نساء وہ افراد جن کی معاشرے میں حیثیت کمزور ہوتی ہے۔
 
ذیل کی آیت میں ایک لفظ  حرث  آیا ہے۔ تشبیہات کا خیال نہ رکھا جائے تو  نساء  بیوی اور  حرث  کھیتی ہی نظر آئے گی۔ قرآن میں  نساء  ان افراد کے لیے استعمال ہوا ہے جو کسی وجہ سے بھی کمزور ہوتے ہیں اور جن کی ذمہ داری یا تو اللہ کی مملکت اٹھاتی ہے یا منتخب ادارہ یا افراد۔ اور اسی طرح  حرث  کے معنی بجائے عورت کے قوم کے افراد کیے جائیں جہاں سے افرادی قوت حاصل ہوتی ہے تو مفہوم سیاق و سباق سے مطابقت بھی رکھے گا اورمفہوم کے لحاظ سے کوئی سمجھداری کی بات بھی ہو گی۔
223
نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
تمہارے زیرنگیں لوگ تمہاری اپنی قوم ہی کے لوگ ہیں، تم جس طرح چاہو اللہ کی مملکت کے احکام کے مطابق ان کے پاس آؤ اور اپنے لوگوں کے لیے اقدام کرو اور مملکت کے قوانین سے ہم آہنگ رہو اور جان رکھو کہ اللہ کی مملکت کے سامنے تم پیش ہو کر رہو گے اور اہل امن کو خوشخبری سناؤ۔
مباحث:۔  
اس آیت میں  حَرْثٌ  کو بیوی کے لیے ماخوذ کیا گیا ہے جبکہ ماقبل تمام آیات اپنی قوم کے افراد سے متعلق ہیں اس لیے مناسب ہو گا کہ  حَرْثٌ بمعنی قوم ماخوذ کیا جائے جو کہ مفہوم سے مطابقت رکھتا ہے اور جس طرح  حرث  یعنی کھیتی سے کچھ نہ کچھ حاصل کیا جاتا ہے اسی طرح قوم سے کھیتی کی مانند افراد اور افرادی قوت حاصل ہو گی۔ دوسرا لفظ ہے  أَنَّىٰ  جو ظرف ہے اور جس کے معنی جیسے، جہاں سے، جس وقت، اور تیسرا لفظ ہے  شِئْتُمْ جس کا لفظی ترجمہ ہوگا "تم چاہو"۔ بنیادی طور پر مومن کی مشیت وہی ہوتی ہے جو خالق کے احکام یعنی قوانین قدرت کے مطابق ہوتا ہے۔
 
224
وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور اللہ کی مملکت کو اپنے معاہدوں کے لیے حیلہ یا بہانہ نہ بنانا کہ تم اطاعت اور کشادگی کرنے اور مملکت کے احکام سے ہم آہنگ رہنے اور لوگوں میں صلح اور سازگاری کرانے سے رک جاؤ اور اللہ کی مملکت علم کی بنیاد پر سننے والی ہے۔
مباحث:۔  
یہاں پر ہی ایک بہت اہم بات ذہن نشین کر لیجئے کہ اس آیت میں  اَیمَان  یعنی معاہدوں کی بات ہو رہی ہے۔ اور تھوڑا سا غور کیجئے تو بات بالکل واضح ہوتی نظر آئے گی کہ آئندہ آیات میں بھی تمام معاہدوں کی بات ہو رہی ہے۔
 
225
لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ
اللہ کی مملکت کسی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کرتی جو بے بنیاد ہو لیکن تمہارا مواخذہ اس بات کا ضرور ہو گا جو تم نے پورے وثوق اورسوچ بچار کے ساتھ کیا ہو اور اللہ کی مملکت حفاظت فراہم کرنے والی بردبار ہے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں کہا گیا ہے کہ  لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ  (اللہ کسی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا جو بے بنیاد ہو)۔ یہاں اللہ سے کیا مراد ہے؟ اگر تو اللہ کا تصور اس الٰہ کا ہے جو آسمانوں کا الٰہ ہےتو وہ خدا تو آسمانوں سے نیچے اتر کر فیصلے نہیں صادر کرتا، یہ اس الٰہ کے احکام پر مبنی اللہ کی مملکت کا کام ہے کہ وہ اپنی عدلیہ کے ذریعےاحکام قرآنی کو نافذ کرے۔  
یہ بات بھی ذہن نشین کر لیجئے کہ جہاں جہاں لفظ  اللہ  وارد ہوا ہے وہاں وہاں اللہ کی نمائندگی اللہ کے احکام پر مبنی مملکت یا اس کی ماتحت عدلیہ ہو گی۔  
 لغو  ۔مادہ  ل غ و  معنی ۔۔ ایسی بے معنی بات جس کی کوئی بنیاد نہ ہو اور جس کی وجہ سے نہ تو کسی کو نقصان پہنچے اور نہ ہی فائدہ۔
 
آئندہ کی آیات میں چند الفاظ ایسے آئے ہیں جن کو عمومی تراجم میں مرد و زن کے جنسی تعلقات پر چسپاں کیا گیا ہے، لیکن یہ مفہوم ان آیات کے سیاق و سباق سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ ان آیات سے پہلے ایک جنگی کیفیت کا ذکر ہے جس میں قتال اور خون ریزی عیاں ہے۔ جنگ کے نتیجے میں جن معاملات اور مشکلات کا سامنا ہو گا وہ مابعد آیات کا موضوع ہیں ۔  
النساء کی بحث ہم اسی سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۱۸۷ اور ۲۲۲ میں لا چکے ہیں جہاں النساء کو قرآن کے مختلف مقامات سے ثابت کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی قوم کی نگرانی میں آ جاتے ہیں، جیسا کہ جنگ کی کیفیت میں اپنے ملک سے زبردستی بے دخل کیے جانے والے لوگ، یا وہ لوگ جو خود اپنے ملک کے حالات سےمایوس ہوکر اسلامی مملکت میں پناہ لیں، یا مملکت خداداد کے اردگرد کی آزاد لیکن کمزور ریاستیں جو مملکت خداداد سے معاہدوں کی بنیاد پر امن و سکون سے رہیں۔  
دست نگر لوگوں سے مراد جیسا کہ اوپر بیان کیا، اللہ کی مملکت کے گرد آزاد چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی ہو سکتی ہیں اور وہ افراد بھی ہو سکتے ہیں جو کسی وجہ سے اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں اور جو اللہ کی مملکت سے تحفظ کے طلبگار ہوں۔  
مابعد آیات میں ان معاہدوں سے آزادی کی بات ہو رہی ہے جو ان افراد یا آزاد ریاستوں سے کیے گئے تھے۔ آئیے اس مفہوم کے ساتھ ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
226
لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
وہ جواپنے دست نگر لوگوں سے علیحدگی کا ارادہ کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اچھے حالات کا انتظار کریں البتہ اگر وہ علیحدگی کا ارادہ ترک کر دیں تو اللہ کی مملکت بارحمت حفاظت فراہم کرنے والی ہے۔
 
آیت نمبر ۲۲۶ میں صرف ارادے کی حد تک بات تھی اور ایک فریق جو کہ ذمہ داری اٹھائے ہوئے تھا، جسے بعد کی آیت میں بعولہ  کہا گیا ہے، اس ذمہ داری سے معذرت کا اظہار کر رہا تھا، اگلی آیت میں اس ذمہ داری سے بری ہونا چاہتا ہے اور اس نے معاہدے کی تنسیخ کا پکا ارادہ کر لیا ہے، جسے طلاق سےتعبیر کیا گیا ہے، فریق اول مملکت کا کوئی ادارہ بھی ہو سکتا ہے یا مملکت کا نمائندہ یا مملکت کے قوانین کے تحت آزاد ادارہ جو فریق ثانی کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری لیے ہوئے ہو۔
227
وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور اگر علیحدگی کا پختہ ارادہ کر لیا ہے تو یقیناً اللہ کی مملکت بر بناء علم سننے والی ہے۔
مباحث:۔  
یہاں طلاق یا علیحدگی سے مراد انسانوں کے آپس کے میل جول یا میاں بیوی کے تعلقات سے آزادی حاصل کرنا نہیں ہیں بلکہ باقا عدہ معاہدے کی تنسیخ کے بعد علیحدگی کی بات ہے، اور یاد رکھیے کوئی معاہدہ بغیر قانونی کارروائی، منسوخ نہیں کیا جا سکتا اس لیے  ٌفَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ  (پس اللہ بربناء علم سننے والا ہے) سے وہ خدا قطعاً مراد نہیں جو کسی غریب کی نہ تو سنتا ہے اور نہ ہی ظالم کی پکڑ کرتا ہے۔ یاد رکھیے اس مقام پر ’’اللہ‘‘ سے مراد ’’اللہ کی مملکت کی نمائندہ عدالت‘‘ ہے جو تمام معاملات کو معلومات کی بنیاد پر سن کر فیصلہ کرے گی، اور قرآن میں تمام مقامات پر ’’اللہ‘‘ سے مراد مملکت خداداد یا اس کی نمائندہ ماتحت محکمہ مراد ہو گا۔علم کی بنیاد پر سننے کا مفہوم بھی لایعنی نہیں ہو سکتا۔ خدا خود سننے کے لیے آسمانوں سے نازل نہیں ہوا کرتا۔ اس کی مملکت یا ماتحت عدالت یا محکمہ سنے گا۔ اس لیے یاد رکھیے ۔۔۔۔۔ قرآن میں جہاں جہاں اللہ کی صفات کا ذکر ہے، اصلا وہاں وہاں اسلامی مملکت کی ذمہ داریاں بتائی گئی ہیں۔ اس اصول کو سامنے نہ رکھنے کی وجہ سے اسلامی مملکت کا خاکہ ہی ذہنوں سے اوجھل رہا ہے۔ اللہ کی صفات اصلا اللہ کی مملکت کی صفات ہیں۔ ان صفات پر مبنی اللہ کی مملکت کو متشکل کیجئے اور دیکھئے کتنا خوبصورت اسلامی نظام ملے گا۔
 
ایک اور اصول یاد رکھیے کہ جہاں  جمع مؤنث  کا صیغہ آ رہا ہے وہاں جماعت مراد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس اصول کی دلیل یہ ہے کہ ان آیات میں جہاں صفات بیان کی گئی ہیں تمام صفات کسی ایک عورت میں موجود نہیں ہوسکتیں۔۔ مثلاً،  عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا  سورۃ تحریم (آیت نمبر ۵) اس آیت کا عمومی ترجمہ کچھ یوں ملتا ہے۔ (اگر پیغمبر تم کو طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ ان کا پروردگار تمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دے دے۔ مسلمان، صاحب ایمان، فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزہ رکھنے والیاں، بن شوہر اور کنواریاں)... غور کیجئے  
کیا رسالت مآب کی بیگمات میں کوئی خرابی تھی جس وجہ سے قرآن میں ان کو بدلنے کی دھمکی دی جا رہی ہے؟ ۔۔۔ جن کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ "عجب نہیں کہ ان کا پروردگار تمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دے دے۔ مسلمان، صاحب ایمان، فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گذار، روزہ رکھنے والیاں، بن شوہر اور کنواریاں" اور کیا کنواری بیویوں میں کوئی خاص خوبی ہوتی ہے۔۔؟ یہ تمام صفات کسی بھی عورت میں بیک وقت بدرجہ اتم موجود نہیں ہو سکتیں اس لیے یقیناً یہاں جمع مؤنث کے صیغے کسی ایسی چیز کے لیے استعمال کیے گئے ہیں جن میں یہ خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہو سکتی ہیں۔
228
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور وہ جماعتیں جن سےتنسیخ معاہدہ کے بعد علیحدگی اختیار کی گئی، اپنے آپ کو اس روش سے روکیں کہ حکام کے کان بھریں اور اگر وہ اللہ کی مملکت کے احکام کے ذریعے نتائج کے ظہور کے وقت اہل امن ہیں تو ان کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان اسباب رحمت کو چھپائیں جو اللہ کی مملکت نے تخلیق کیا اور اگر وہ اصلاح کا ارادہ کریں تو ان کے صاحب اختیار کو زیادہ حق ہے کہ ان کو واپس پہلی حالت میں لوٹا ئیں۔ اور ان لوگوں کے لیے جس طرح کےان پر فرائض ہیں، اسی طرح ان کے لیے حقوق ہیں۔ البتہ حکمرانوں کے لیے درجہ فضیلت ہے۔ اللہ کی مملکت غالب حکمت والی ہے۔
مباحث:  
اس آیت کا ترجمہ عورت اور مرد کے باہمی تعلق اور علیحدگی کے حوالے سے کیا جاتا رہا ہے جو چند وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے۔  
۱۔۔سیاق و سباق میں مرد و زن کے تعلقات بیان نہیں ہوئے ہیں بلکہ ماقبل ایک بھرپور جدوجہدنظر آ رہی ہے۔  
۲۔۔ الفاظ  إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا  سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ احکام اصلاح کے حوالے سے آئے ہیں جو شوہر اور بیوی سے متعلق نہیں بلکہ عوام کے متعلق ہیں۔  
۳۔۔ایسے الفاظ جیسے  بُعُولَتُهُنَّ  ’’بلند مرتبہ اشخاص‘‘ اور  اِلرِّجَالِ  ’’ کرتا دھرتا افراد‘‘، اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ بات مملکت کے ان افراد کی بات ہے جو حکومت کےمنتظمین میں سے ہیں۔  
۴۔۔ ِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ  کے الفاظ کے روایتی مفہوم سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مرد کو ایک درجہ کی فوقیت ہو، یہ فوقیت کس لیے؟ اور اس فوقیت کی کوئی وضاحت و توجیہہ بھی نہیں۔ دراصل یہ فوقیت تو نظام میں ایک شخص کو دوسرے شخص پر اس کی کارکردگی و ذمہ داری کی وجہ سے ملتی ہے۔  
آئیے اب چند الفاظ پر غور کر لیا جائے۔ سب سے پہلے تو آپ کو متعین کرنا ہے کہ کیا یہ آیات عورت کے حیض اور طہر سے متعلق ہیں یا کہ یہ آیات نظام حکومت کے حوالے سے وارد ہوئی ہیں؟ جیسا کہ سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کا تعلق حکومت کے نظم و نسق سے ہے اس لیے ان آیات کو ازدواجی نکاح و طلاق پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔  
اس آیت میں ایک لفظ   ثَلَاثَةَ  آیا ہے جس کے معنی عدد کے لحاظ سے ’’تین‘‘ ہوتے ہیں لیکن ایک معنی جو حکومت کے حوالے سے ہوتے ہیں، وہ ہیں کہ "بادشاہ کے پاس چغل خوری کرنے والے کو المثلِّث یا المثلِث کہتے ہیں۔" (قاموس الوحید صفحہ نمبر ۲۲۰) یہ ترجمہ اس آیت کے سیاق و سباق سے مطابقت رکھتا ہے۔  
دوسرا لفظ  قرو  ہے جس کے معنی حیض کے لیے جاتے ہیں،لیکن اس کے معنی روش کے بھی ہیں۔  رأیت القوم علی قرو واحد  (میں نے قوم کوایک روش پر دیکھا) جوسیاق وسباق سے قریب تر ہے اور   ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ  کے معنی ہوئے "ایسی چغل خوری کی روش یا عادت جس سے حکام کے کان بھرے جائیں"۔
 
آیت نمبر ۲۲۹ میں  الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ  کہنے کے بعد الطلاق کے دو طریقے بتائے گئے ہیں۔ طلاق کے بنیادی معنی ہیں ’’آزاد ہونا، رہا ہونا، چھوٹنا‘‘۔ مجازاً شوہر سے علیحدگی کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے لیکن کسی بھی علیحدگی کا مفہوم لفظ" طلاق " سے لیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہےکہ  الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ  کے بعد ایک ہی طریقہ بتا کر یہ کیوں نہ کہہ دیا گیا کہ اس طرح طلاق دو مرتبہ دی جا سکے گی؟ اس کے برعکس علیحدگی کے دو طریقے بتائے گئے ہیں،  فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ  شائستگی سے روک لینا تو طلاق نہیں ہے بلکہ وہ تو جڑنا ہے، پھر یہ علیحدگی کیسی ۔۔؟ اصلاً اوپر معاہدوں کی بات ہو رہی ہے اور دو فریقوں کے درمیان معاہدے یا میثاق کو ختم کرنے کی بات ہے۔ اب آپ دیکھیے کہ بات بالکل صاف ہو رہی ہے۔ میثاق یا معا ہدے کے ٹوٹنے کے بعد جو علیحدگی اختیار کی جائے گی اس کے دو طریقے ہیں۔ پہلے طریقے میں معاہدے سے آزادی کے بعد بھی تعلقات منقطع نہیں ہوتے بلکہ معروف طریقے سے صاحب سلامت رہتی ہے بلکہ ایک نیا معاہدہ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے جبکہ دوسرے طریقے میں نہ صرف معاہدہ کی تنسیخ ہوتی ہے بلکہ حسن کارانہ انداز سے علیحدگی بھی عمل میں آ جاتی ہے۔  
 مَرَّتَانِ  کا مادہ  م ر ر  ہے۔اس مادہ سے بنے الفاظ میں حسب ذیل معنی ملتے ہیں، ’’مرتبہ، بار، طاقت، قوت،... گزرنا، پار ہونا،...کڑوا، دوام، تسلسل، استمرار،....کسی کو کسی چیز سے گزارنا،... اصلیت و استحکام،...گزرگاہ، پگڈنڈی‘‘ وغیرہ۔ اس مقام پر اصلاً یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب کسی جماعت یا فریق کے ساتھ کسی معاہدے کی تنسیخ کرنا مقصود ہو تو اس کے دو طریقے ہیں۔  
۱۔۔ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ جماعت یا فریق معاہدے کی تنسیخ کے بعد آزاد ہو جائے لیکن باقی معاملات میں شائستگی کے ساتھ جڑا رہے۔ اور نئی شرائط کے ساتھ معاہدہ پھر سے جڑ جائے جسے  فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ  کہا گیا ہے یعنی مملکت کے قوانین کے مطابق پھر سے جڑ جائے۔  
۲۔۔اور دوسرا متبادل یہ ہے کہ نہ صرف معاہدے سے آزاد ہو بلکہ حسن کارانہ انداز سے علیحدگی بھی اختیار کر لی جائے ۔
229
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
تنسیخ معاہدے کے بعد علیحدگی کے دو طریقے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ پس یا تو اللہ کی مملکت کے احکام کے مطابق پھر سے جڑ جانا ہے یا حسن کارانہ انداز سے آزاد کر دینا، اور تم لوگوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ جو کچھ تم ان کو دے چکے ہو، اس میں سے کچھ واپس لو، سوائے اس وجہ سے کہ تم لوگوں کو خوف ہو کہ وہ دونوں مملکت کے احکام کو قائم نہیں رکھ سکیں گے اور تم لوگوں کو اگر یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی مملکت کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس تلافی کی بابت کوئی روک نہیں کہ جس کے بدلے انہیں معاہدہ سے آزاد کیا گیا۔ یہ قوانین مملکت ہیں، ان سے باہر نہ نکلنا، اور جو لوگ قوانین مملکت کی حدوں سے باہر نکلیں تو یہی لوگ ظالم ہیں۔
مباحث:۔  
اس آیت کے عمومی ترجمے میں ضمائر اور صیغوں کا خیال نہ رکھتے ہوئے عجیب سی کیفیت پیدا کردی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیےعمومی ترجمہ...  
 الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ  ’’علیحدگی دو مرتبہ ہے، پس یا تو بطریق شائستہ روک لینا یا حسن کارانہ انداز سے چھوڑ دینا۔‘‘۔۔۔ اس عمومی ترجمے سے تو طلاق ہوئی ہی نہیں۔  فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ  ’’بطریق شائستہ روک لینا‘‘۔۔۔ تو طلاق نہیں ہے۔ اس کے بعد  وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا  (اور تم لوگوں کیلئے یہ جائز نہیں کہ جو کچھ تم ان کو دے چکے ہو، اس میں سے کچھ واپس لو۔) یہ ایک اور اعلان ہے جس میں لفظ  لکم  میں   کم  کی ضمیر آئی ہے جو کہ ’’ضمیر جمع مذکر حاضر‘‘ کی ہے اور اس سے مراد شوہر لیے جاتے ہیں، ۔۔۔۔لیکن اگلے جزو میں کہاگیا،  إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ   (سوائے اس بات کے کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون ہے جو دی ہوئی چیز واپس لے گا؟ وہ شوہر تو نہیں ہو سکتا... اس لیے کہ شوہر خود کیسے ایک ہی وقت میں ملزم بھی ہو گا اور قاضی بھی؟ اسے خود کیسے معلوم ہوگا کہ وہ بھی اللہ کی حدود قائم نہیں کر رہا ہے؟؟... اور اگر اس کو معلوم ہے کہ وہ حدود قائم نہیں کر رہا تو اس کو تو انتہائی سخت سزا ملنی چاہئے۔  
اسی آیت کے اگلے جزو میں تو انتہائی صاف الفاظ میں بتا دیا گیا کہ جمع مذکر حاضر کی ضمیر شوہر کے لیے ہو ہی نہیں سکتی، ملاحظہ فرمائیے... ابتدا ہوتی ہے  فَإِنْ خِفْتُمْ  (اگر تم لوگوں کو خوف ہو) کہ  أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ  (کہ وہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ لیجئے کہ جن لوگوں کو خوف ہے ان کے لیے صیغہ جمع مذکر حاضر کا آیا ہے۔  خِفْتُمْ  ’’اگر تم کو خوف ہو‘‘... اور وہ دونوں جو حدود قائم نہیں کر پا رہے ان کے لیے صیغہ  تثنیہ غائب مذکر مونث  کا آیا ہے۔ غور کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں نہ کہیں تو ان روایتی عمومی ترجموں میں گڑبڑ ضرور ہے۔
 
230
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
پھر اگرصاحبانِ اختیار زیرنگیں افراد سےتنسیخ معاہدہ کر لیں تو علیحدگی کے بعد انہیں جائز نہیں کہ کسی اور سے معاہدہ کرنے میں رکاوٹ ڈالیں، اور اگر دوسرے صاحب اختیار لوگ بھی ان سے تنسیخ معاہدہ کریں تو ان پر کوئی روک نہیں کہ صاحب اختیار ان لوگوں سے دوبارہ سے رجوع کریں، بشرطیکہ ان فریقین کو یقین ہو کہ وہ احکام الٰہی کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ اللہ کی مملکت کی حدود ہیں جن کو وہ ان لوگوں کے لیے بیان فرماتا ہے جو اہل علم ہیں۔
مباحث:۔  
ایک صاحب اختیار فریق یا جماعت کو دوبارہ معاہدہ کرنے سے اس لیے روک دیا گیا کہ فریق ثانی کو پورا اختیار مل جائے کہ وہ کسی اور سے معاہدہ کر نے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کریں۔
 
231
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اور جب تم زیرنگیں افراد سے تنسیخ معاہدہ کرو اور وہ اپنے انجام (نتیجے) تک پہنچ جائیں تو انہیں یا تو اللہ کی مملکت کے احکام کے مطابق اپنے ساتھ جوڑ لو یا اللہ کی مملکت کے احکام کے مطابق بطریق شائستہ رخصت کر دو، لیکن انہیں تکلیف دے کر اس نیت سے نہ روکنا کہ ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنوں پر ہی ظلم کرے گا۔ اور اللہ کی مملکت کے احکام کو ہنسی مذاق نہ بناؤ۔ اللہ کی مملکت نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور وہ جو تم پر احکام اور دانائی سے پیش کیا ہے اور جس کے ذریعے اللہ کی مملکت نصیحت کرتی ہے اس کو نہ صرف یاد رکھو بلکہ ان پر بخوبی عمل پیرا رہو۔ اور اللہ کی مملکت کے احکام سے ہم آہنگ رہو اور جان رکھوکہ مملکت ہر چیز سے واقف ہے۔
 
232
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
اور جب تم زیر نگیں افراد سےتنسیخ معاہدہ کرو اور وہ اپنے نتائج حاصل کر لیں تو ان پر زبردستی نہ کرنا کہ وہ کسی اور سے معاہدہ کریں یا نہ کریں جب کہ وہ آپس میں احکام کے مطابق راضی ہو جائیں، معاہدہ کرنے سے مت روکو۔ اس حکم سے اس کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے مملکت کے احکام کیساتھ امن قائم کرتا ہے اور مکافاتِ عمل کے روز بھی اہل امن ہے۔ یہ تمہارے لیے نہایت خوشحالی کی اور بہت موزوں بات ہے اور اللہ کی مملکت وہ کچھ جانتی ہے جو تم نہیں جانتے۔
 
آیت نمبر ۲۳۳ میں کچھ ایسے الفاظ آئے ہیں جن کے مادہ اورمعنی کے استعمالات پہلے ہی سمجھ لیے جائیں تو آیت کا مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو گی۔  
 رضاعت  : مادہ  ر ض ع  ۔۔ ’’فائدہ اٹھانا‘‘  ھو یرضع الدنیا و یذمھا  ’’وہ دنیا سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اسی کی برائی کرتا ہے‘‘یعنی کمینہ اور بدذات ہونا مراد ہے.... ’’ماں کا دودھ پینا‘‘  رضاع الکاس  ’’شراب نوشی میں ہم نشیں ہونا‘‘  رضاع اللبن  ’’دودھ میں شریک ہونا‘‘۔ اسی لیے ان سب معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رضاعت کا مفہوم ہے ’’کسی کی ایسی پرورش کرنا جیسے اپنے بچے کی جاتی ہے‘‘۔ لیکن کیا اس سے یہ مفہوم لیا جا سکتا ہے کہ وہ بچہ جس کو دودھ نہ پلایا گیا ہو اس کی اہمیت اس بچے سے کم ہوگی جس کو دودھ پلایا گیا ہو؟ خواہ وہ اپنا ہی بچہ کیوں نہ ہو ۔۔۔۔؟ رضاعت کا عمومی مذہبی مفہوم انتہائی ظلم اور زیادتی کے مترادف اور الٰہی انصاف کے منافی ہے۔  
ایک بچہ جس کی پرورش کسی گھر میں اگر بچپن سے ہو رہی ہے اور اس کو اس گھر کے افراد نے اپنے ہی بچوں کی طرح پالا پوسا ہے تو اس بچے کو کسی طرح بھی اس گھر کی اولاد ہونے سے محروم نہیں کیا جا سکتا خواہ اس نے دودھ پیا یا نہیں ۔۔۔۔  
 حولیں : مادہ  ح و ل  بمعنی ’’پھر جانا، بدل جانا، حائل ہونا، رکاوٹ ڈالنا، حیلہ بہانہ کرنا، محال بات، کسی کی تحویل میں دینا، کسی کے حوالے کرنا، ماحول‘‘۔  
 الوالدات ،  اولاد ،  المولود ،  ولد ... ان تمام الفاظ کا مادہ  و ل د  ہے اور مختلف استعمالات ہیں۔  
 ولَّدَ الوَلَدَ  ’’پرورش کرنا‘‘ ۔ ولد الکلام  ’’بات نکالنا، بات پیدا کرنا،‘‘  تولیدات  تحقیقات،  المولَّد  ، کسی ملک میں پرورش پا کر ان کے طور طریقے اختیار کرنے والا (مذکر) ، ’’ہر نئی چیز‘‘  المولَّدَہ  ’’ کسی ملک میں پرورش پا کر ان کے طور طریقے اختیار کرنے والی (مؤ نث)‘‘  اولاد و ولدہ  ’تین سے دس افراد تک کی جماعت‘‘  ولید  ’’(مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے ) غلام، نوجوان، نوکر، خدمتگار‘‘  الولیدیہ  ناتجربہ کاری کی حالت۔  
اوپر کے تمام الفاظ میں  و ل د  اور اس سے بننے والے الفاظ میں نئی تخلیق کا پہلو سامنے آتا ہے اور ہر تخلیق کرنے والا چاہتا ہے کہ اس کی تخلیق ضائع نہ ہو بلکہ اس کی دیکھ بھال اور پرورش ہو۔ جس طرح نہ صرف اردو میں بلکہ ہر زبان میں مادر قوم اور بابائے قوم یا قوم کے سپوت کے الفاظ مل جاتے ہیں، اسی طرح عربی زبان میں بھی ان کا استعمال عام ہے۔  
مندرجہ بالا  و ل د  کے معنی قاموس الوحید سے لیے گئے ہیں۔  
اگلی آیت میں ایک ایسی حالت کا ذکر ہے جس میں مملکت یا اس کا ادارہ کسی ذیلی ادارے سے زیرنگیں افراد کی تربیت کروانا چاہتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس موقع پر کیا احکام دیئے جا رہے ہیں۔
233
وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ ۗ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّا آتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور وہ جو زیر نگیں افراد کی بھرپور پرورش کرنا چاہیں تو وہ دونوں حالتوں ( فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ) میں بھرپور پرورش کریں۔ ۔۔۔۔ اور جس کے لیے جماعت تشکیل دی گئی اس پر احکام الٰہی کے مطابق ان لوگوں کی جو زیرنگیں افراد کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری لیں، ضروریات زندگی اور حفاظت کی ذمہ داری ہے۔ کوئی شخص مکلف نہیں ٹھیرایا جاتا البتہ اس کی وسعت کے لیے۔۔۔۔۔ اور زیرنگیں افراد کی وجہ سے نہ تو پرورش کرنے والوں پر اور نہ ہی جن کے لیے ان زیرنگیں افراد کی تربیت کی گئی، کوئی ضرر پہنچانا ہے۔۔۔۔اور اسی طرح کا حکم اس کے لیے ہے جو آئندہ ان زیر نگیں افراد کی تربیت کا ذمہ دار ہوگا،۔۔۔۔ اور اگر دونوں آپس کی رضامندی اور مشاورت سے علیحدہ ہونا چاہیں تو ان دونوں پر کوئی رکاوٹ نہیں ۔۔۔۔ اور تم پر بھی کوئی رکاوٹ نہیں اگر تم اپنے زیر تربیت افراد کی پرورش کا عمل جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہو، بشرطیکہ احکام الٰہی کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا تھا، دے دو ۔۔۔۔۔ اور قوانین الٰہی سے ہم آہنگ رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کی مملکت اس پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔
 
 
234
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
اور جو لوگ تم میں سے بھرپور بدلہ دیں اور جماعتوں کو نکھارنا اور وسعت دینا چاہیں تو چاہیے کہ وہ خوشحالی و آسودہ حالات کا انتظار کریں اور جب وہ اپنے نتائج حاصل کر لیں تو تم پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو وہ اپنے لوگوں کے معاملے میں احکام الٰہی کے مطابق کریں اور اللہ کی مملکت تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔
 
235
وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنتُمْ فِي أَنفُسِكُمْ ۚ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَن تَقُولُوا قَوْلًا مَّعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
اور تم پر اس بات میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ تم ان زیرنگیں افراد کو اپنے پیغام میں کوئی پیشکش کرو یا اپنے لوگوں تک محدود رکھو۔ اللہ کی مملکت کو علم ہے کہ تم ان لوگوں سے ان باتوں کا ذکر ضرور کرو گے لیکن خفیہ طور پر ان سے کوئی وعدہ وعید نہ کرنا سوائے اس بات کے جو احکام کے مطابق ہو اور کسی معاہدے کو پختہ کرنے کا عزم نہ کرنا یہاں تک کہ اللہ کی مملکت کا قانون اپنے نتائج حاصل کر لے، اور جان رکھو کہ اللہ کی مملکت کو ان سب کا علم ہے جو کہ تم لوگوں کے درمیان ہے، تو ہوشیار رہو اور جان رکھو کہ اللہ کی مملکت بردبار، حفاظت فراہم کرتی رہنے والی ہے۔
 
236
لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ
اور تم پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ تم ان زیرنگیں افراد سے علیحدگی اختیار کرو، خواہ تم نے ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا ہو، یا تم نے انہیں کسی کام کی ذمہ داری دی ہو، لیکن ہر صورت میں ان افراد کو متاع حیات وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق اور کم کشاد والا اپنی کشاد کے مطابق، اللہ کی مملکت کے قوانین کے تحت عطا کرے، یہ محسنین پر لازم ہے۔
 
237
وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۚ وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۚ وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور اگر تم نے زیرنگیں افراد سے بغیر کوئی استفادہ حاصل کیےتنسیخ معاہدہ کیا ہے لیکن تم نے ان کے لیے اپنے ذمے کچھ فرض کر لیا تھا تو اس کا آدھا جو تم نے فرض کیا تھا، انہیں ادا کرو، البتہ اگر وہ خود ہی درگزر کریں یا اللہ کی مملکت کی عدالت جس کے ہاتھ میں معاہدے کی ذمہ داری ہے، عافیت و درگزر سے کام لے، اور اگر تم ہی عافیت ودرگزر سے کام لو تو یہ تمہارے لیے تقویٰ کے قریب تر ہے اور باہمی رواداری کو مت بھولو، یقیناً اللہ کی مملکت تم جو کچھ کر رہے ہو، اسے دیکھ رہی ہے۔
 
238
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
نظام مملکت کی حفاظت کرو یعنی اس نظام کی جو معتدل ہے اور اللہ کی مملکت کے لیے کمر بستہ رہو۔
 
239
فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ
پس اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو اکیلے مردانہ وار یا آپس میں جڑ کے کمر بستہ رہو، پھر جب امن و اطمینان ہو جائے تو ان احکام کو یاد رکھ کر عمل پیرا رہو جن کو اللہ کی مملکت سے تم نے سیکھا ہے، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔
مباحث:۔  
 رکبانا  مادہ  ر ک ب  معنی ’’ترکیب کرنا، مرکب بنانا، گھٹنا، سوار ہونا، جڑنا، تہہ بہ تہہ ہونا‘‘  
 اذکرو  مادہ  ذ ک ر  معنی ’’یاد کرنا اور کرانا‘‘۔ جہاں جہاں احکام الٰہی کے لیے آیا ہے  فَاذْكُرُوا  وہاں ’’یاد دہانی‘‘ سے مراد صرف یاد رکھنا نہیں ہے بلکہ عمل پیرا ہونا مقصود ہے۔
 
240
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور تم میں سے جو لوگ بھرپور بدلہ اور زیرنگیں جماعتوں کو نکھارنا اور وسعت دینا چاہیں تو ان کے لیے حکم ہے کہ وہ زیرنگیں افراد کو بغیر نکالے، ضروریات زندگی فراہم کریں۔ البتہ اگر وہ خود نکلیں تو تم پر ان معاملات کی کوئی ذمہ داری نہیں، جو وہ مملکت کے قوانین کے مطابق اپنے لوگوں کے درمیان کریں اور اللہ کی مملکت بربنائے حکمت غلبے والی ہے۔
 
241
وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
اور علیحدگی اختیار کرنے والے زیرنگیں کےلیے مملکت کے قوانین کے مطابق متاع حیات ہے، یہ متقین پر لازم ہے۔
 
242
كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
بایں وجہ اللہ کی مملکت تمہارے لیے اپنے احکام واضح کرتی ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔
 
جیسے کہ پہلے عرض کیا کہ جہاں بھی  أَلَمْ تَرَ  (کیا تم نے غور کیا؟) آتا ہے تو وہ ماقبل دعوے کی دلیل ہوتا ہے۔ آگے طالوت اور جالوت اور سیدنا داؤد کا ذکر آ رہا ہے جو دلیل کے طور پر ان بیانات اور دعووں کے لیے دلیل بن رہے ہیں جو ماقبل آیات میں بیان کیے گئے ہیں۔ مابعد آیات میں طالوت اور جالوت کاذکر اور داؤد کا جالوت کو قتل کرنا اس بات کی یقیناً دلیل ہے کہ ماقبل آیات میں مرد و زن کے تعلقات نہیں بلکہ معاشرے کے وہ مسائل زیر بحث لائے گئے ہیں جو جنگ کی حالت میں پیش آتے ہیں۔
243
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے تو قدرت نے ان کو حکم دیا کہ مر جاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ قوانین قدرت لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں اللہ سے منسوب حکم وارد ہو رہا ہے کہ اللہ نے ڈرپوک لوگوں کو حکم دیا کہ مر جاؤ۔ اور پھر انہیں زندہ کیا۔ ۔۔۔۔ یہ موت نہ تو جسمانی موت ہے اور ہ ہی یہ زندگی جسمانی حیات ہے۔ یہ موت اور حیات انسان کی اخلاقی موت و حیات ہیں۔۔ سورۃ الانفال میں وارد ہے  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ  (مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ وہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی بخشتا ہے)۔ اس عمومی ترجمے سے بھی یہ معلوم ہوا کہ خدا اور رسول لوگوں کو بلا رہے ہیں تاکہ حیات بخشیں۔ یہ کون سی حیات ہے جو سانس لیتے ہوئے زندہ لوگوں کو بلا کر دی جا رہی ہے؟۔ یاد رکھیے قرآن جس زندگی و موت کی بات کرتا ہے وہ اخلاقیات اور اقدار کی زندگی اور موت کی بات ہے نہ کہ جسمانی موت و حیات۔ ایک اور اہم بات کہ اس جگہ بھی اللہ سے مراد اللہ کے جاری و ساری قوانین ہیں جن کی پکڑ میں ہر معصیت کرنے والا آتا ہے اور اللہ کے قوانین میں اس مملکت کے قوانین بھی آتے ہیں جو قرآن کے احکام کے مطابق قائم مملکت کے قوانین ہوتے ہیں۔
 
244
وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور اللہ کی مملکت کی راہ میں جنگ کرو اور جان رکھوکہ اللہ کی مملکت معلومات کی بنیاد پر سننے والی ہے۔
مباحث:۔  
سبیل اللہ کیا ہے ۔۔؟ اللہ کا راستہ ۔۔۔؟؟  
اس کا مفہوم ہے وہ راستہ جو اللہ نے بذریعہ ۡقرآن بتایا ہے، اور جب وہ راستہ اس دنیا میں مملکت کی صورت میں متشکل نظر آئے تو ہم اس کو اللہ کی مملکت کا راستہ کہتے ہیں۔ اس لیے کہ جنگ کسی صورت بھی شخصی نہیں ہو سکتی۔ جنگ کے لیے ایک مملکت کی ضرورت ہو گی اور وہ اللہ کی مملکت کہلائے گی۔  
اسی لیے جب کہا جائے  أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ  (بے شک اللہ بربنائے علم سننے والا ہے) تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اللہ کی مملکت بربنا ئے علم و معلومات سنتی ہے۔
 
245
مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
کون ہے جو اللہ کی مملکت کو قرض حسنہ دے تاکہ وہ اس کے لیے اس میں کئی گنا اضافہ کرے، اور اللہ کی مملکت ہی کم کرتی ہے اور وہی اسے کشاد عطا کرتی ہے، اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاتے ہو۔
 
246
أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا ۖ قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ
کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے سرداروں کی جماعت کو نہیں دیکھا جس نے اپنے نبی سے کہا کہ آپ ہمارے لیے ایک ملک مقرر کر دیں تاکہ ہم مملکت خداداد کی راہ میں جنگ کریں۔ نبی نے کہا کہ اگر تم کو جنگ کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلوتہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے لیے کیا امر مانع ہے کہ ہم مملکت کی راہ میں جنگ نہ کریں جب کہ ہم وطن سے نکالے اور ابناء سے علیحدہ کر دیئے گئے ہیں، لیکن جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب لوٹ گئے اور قدرت ظالموں سے خوب واقف ہے۔
 
247
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ قَالُوا أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۖ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ کی مملکت نے تم لوگوں کے لیے طالوت کو بطور سپہ سالار متعین کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو ہم پر کیونکر اللہ کی مملکت کے معاملے میں اختیار ہو سکتاہے؟ اس کے مقابلے میں اللہ کی مملکت کی حاکمیت کے حقدار تو ہم ہیں اور اس کو تو دولت میں وسعت نہیں دی گئی۔ نبی نے کہا کہ اللہ کی مملکت نے اس کو تمہارے مقابلے میں چن لیا ہے اور اس کو علم اور اس کی شخصیت کے معاملے میں زیادہ پایا ہے۔ اللہ کی مملکت جو بندہ چاہتا ہے اسے بادشاہی عطا کرتی ہے اور اللہ کی مملکت بر بناء علم وسعت والی ہے۔
مباحث:۔  
 جسم :مادہ  ج س م : معنی ’’بدن، ڈھانچہ،... تناور، مضبوط،... کسی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا‘‘ ۔۔ اس کے معانی میں ’’قصد کرنا‘‘ اور ’’منتخب کرنا‘‘ بھی ہیں۔  
اس آیت میں جسم سے مراد اس کا علم و کردار ہے نہ کہ اس کا جثًہ۔ آج ملک کے صدر اور فوج کے سپہ سالار کو علم و کردار کے لحاظ سے طاقتور ہونا چاہئے نہ کہ جثے کے لحاظ سے۔  
جیسا کہ پہلے بھی با رہا مقامات پر عرض کیا ہے کہ  مَن يَشَاءُ  میں  مَن  کا مرجع خدا نہیں ہے۔  مَن  کا مرجع یہاں پر وہ انسان ہے جو اپنے آپ کو اس منصب کا اہل ثابت کرتا ہے۔ بغیر اہلیت کے کسی کو کوئی منصب نہیں دیا جاتا۔ اتنی اندھیر نگری انسانوں کے تراشیدہ قوانین میں تو دیکھی جا سکتی ہے لیکن قوانین قدرت میں الٰہی انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ منصب اسی کو ملے جو اس منصب کا اہل ہو۔
 
248
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کی سپہ سالاری کی دلیل یہ ہے کہ وہ تمہارے پاس ان لوگوں کو لائے گا جن کے سینوں میں احکام الٰہی محفوظ ہونگے، جن کے معاملے میں تمہارے رب کی طرف سے تسلّی ہو گی اور آل موسیٰ اور آل ہارون کی چھوڑی ہوئی تعلیمات بھی ہونگی جن کی ذمہ داری ملائکہ اٹھا تے ہیں۔ اگر تم ا ہل ایمان ہو تو یہ تمہارے لیے یقیناً ایک دلیل ہے۔
مباحث:۔  
 التابوت ۔۔۔ قاموس الوحید میں مادہ  ت ب ب  کے اخیر میں اس لفظ کا اندراج ہے اور معنی کے تحت لکھا ہے ۔۔ ’’لکڑی کا صندوق، ڈول جس کے ذریعے کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے، مردہ لاش رکھنے والا صندوق،... مجازاً سینہ‘‘  ما اَودَعتُ تَابُوتِی شیٔاً  میں نے سینے میں کچھ محفوظ نہیں رکھا۔ اس آیت میں تابوت سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے احکام الٰہی کو اپنے سینوں میں محفوظ رکھا تھا۔  
دوسرا لفظ  سَكِينَةٌ  ہے،جس کے معنی ’’تسلًی‘‘ کے ہیں لیکن یہ قرآن کی اصطلاح ہے جس کا ذکر علًامہ رشید نعمانی نے لغات القرآن جلد سوم صفحہ ۲۱۹ پر کیا ہے، لکھتے ہیں "تسکین، تسلًی، خاطر، اطمینان، سکون،۔۔ بروزن  فعیلۃ  مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے۔" مزید علًامہ لغوی سید محمد مرتضٰی زبیدی کے حوالے سے لکھتے ہیں " سکینۃ  وہ اطمینان، چین، قرار اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب وہ ہولناکیوں کی شدًت سے مضطرب ہو جاتا ہے "۔۔۔ اخیر میں مزید لکھتے ہیں "اس کے علاوہ اس بارے میں تفسیر کی کتابوں میں جو بہت سی بے سر وپا روایتیں منقول ہیں، نہ عقلاًصحیح ہیں نہ نقلاً، اور پھر سخت متعارض کہ ان کا باہم جمع کرنا غیر ممکن۔"
 
249
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ ۚ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۚ فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ۚ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو اللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ
غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے کہا کہ قانون قدرت ایک "لوٹ مار" سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ تو جس نے اس کی خواہش کی سو وہ مجھ سے نہیں۔ اور جو اس میں ملوث نہ ہوا سو وہ مجھ سے ۔۔ البتہ اگر کسی نے اپنی قوت کے ذریعے اسے موڑا تو خیر ۔۔ لیکن چند اشخاص کے علاوہ سب اس لوٹ مار میں ملوث ہو گئے ۔۔ پھر جب طالوت اور ان مومن لوگوں نے جو اس کے ساتھ تھے، اس لوٹ مار کا جائزہ لیا تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو یقین رکھتے تھے کہ ان کو اللہ کی مملکت کے سامنے پیش ہونا ہے، کہنے لگے کہ کتنی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی سی جماعت نے مملکت کے قوانین کے مطابق بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور الٰہی مملکت ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔
مباحث:۔  
 نھر  ۔۔مادہ ۔۔ ن ھ ر ۔۔معنی ۔۔’’زور سے بہنا،۔۔جھڑکنا، ڈانٹ ڈپٹ کرنا،۔۔کثرت سے ہونا، بہتات۔۔ دن خاص طور پر صبح،۔۔۔ وسعت، کشادگی‘‘  َرجُلٌ َنھٌر  ’’دن دھاڑے لوٹ مار کرنے والا‘‘ ( علًامہ رشید نعمانی ) صفحہ نمبر ۱۰۶ جلد ششم۔۔  
 شرب  ۔۔ مادہ۔۔ ش ر ب ۔۔معنی ۔۔’’پینا، گھونٹ بھرنا۔۔ رجحان، طبع، خواہش، شوق۔‘‘ (قاموس الوحید ۔صفحہ نمبر ۸۵۲)  ھم قوم اختلف مشاربھم  ان کے الگ الگ رجحانات ہیں۔  
 غرفتۃ ۔۔مادہ  غ ر ف ۔۔معنی ۔۔’’کاٹنا، موڑنا، توڑنا‘‘ ۔۔ غرف النا صیہ  ’’پیشانی کے بال توڑنا‘‘
 
250
وَلَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالُوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو کہا "اے ہمارے پالنہار!۔ ہماری پشت پناہی بافراغت فرما، اور ہمارے اقدام کو تثبیت فرمانا اور کفار کے خلاف ہماری مدد فرمانا"۔
 
251
فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ
تو انہوں نے مملکت کے احکام کے مطابق ان کو (جالوت کے لوگوں کو) ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور مملکت الٰہیہ نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ اس نے چاہا سکھایا۔ اور اگر مملکت الٰہیہ لوگوں کی ایک دوسرے سے مدافعت نہ کرے تو یقیناً ملک تباہ ہو جائے لیکن مملکت الٰہیہ بستی والوں پر بڑی مہربان ہے۔
 
252
تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
یہ حقوق کے الٰہی دلائل ہیں جو ہم تم کو سمجھا رہے ہیں۔ اور بلاشبہ تم رسولوں میں سے ہو۔  
مباحث:۔  
قرآن حقوق کی بازیابی کی کتاب ہے اس لیے جہاں بھی  حق  کا لفظ آئے گا وہ انسانی حقوق کی بازیابی یا دوسرے کے حقوق کا استحصال سے روکنے کی بات ہو گی۔  بالحق  کا عموماً ترجمہ "سچًائی کے ساتھ" کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔جو یقیناً غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔!  
اگر تو یہ کلام الٰہی ہے تو اس میں ایسے جملے ہونے ہی نہیں چاہئیں جو کہ ایک عام انسان کے کلام میں ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ کہ عام انسان کے کلام میں دلائل کی بجائے قسموں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ یا بار بار یہ کہہ کر کہ "میری بات سچًی ہے"... اپنی بات میں وزن ڈالا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر  "الحق"  انسانی حقوق کی بات ہے۔ قرآن آیا ہی انسانی حقوق کی بازیابی کے لیے ہے۔
 
253
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ
یہ وہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت میں پایا۔ انہی میں سے بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے احکام دیئے۔ اور ان میں سے بعض کے درجات بلند پائے۔ جیسے عیسیٰ بن مریم کو ہم نے واضح دلائل عطا کیے اور احکام الٰہی کے ساتھ ان کو طاقت و قوت دی۔ اور اگر قدرت کے قانون مشیت میں ہوتا تو ان کے بعد آنے والے لوگ دلائل کےآنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض نے تو امن قبول کیا اور بعض نے انکار کیا۔ اور اگر قانون مشیت میں ہوتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن قدرت جو فیصلے کرتی ہے ان کو وہ رو بہ عمل کرتی ہے۔
 
اس مقام سے آگے جنگ کے حوالے سے مملکت خداداد کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے انفاق کا حکم وارد ہو رہا ہے۔ جیسا کہ آیت نمبر ۲۴۴ میں قتال کے تحت ارشاد ہوا...  
 مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ  (کون ہے جو مملکت خداداد کو قرض حسنہ دے تاکہ وہ اس کے لیے اس میں کئی گنا اضافہ کرے۔ اور مملکت خداداد ہی کم کرتی ہے اور وہی اسے کشاد عطا کرتی ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاتے ہو۔)  
254
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ
اے اہل امن، ہم نے تم کو جو وسائل عطا کیے ہیں اس میں سے انفاق کرو، اس سے پہلےکہ وہ دن آ جائے کہ جس دن نہ کوئی معاہدہ ہوگا اور نہ ہی کوئی دوستی اور نہ ہی سفارش ہو گی، اور انکار کرنے والے لوگ ہی ظالم ہیں۔
مباحث :۔  
اس مقام سے آگے انفاق کا حکم ایک خاص پس منظر کے تحت بیان ہو رہا ہے جو سیاق و سباق سےآسانی کے ساتھ معلوم کیا جا سکتا ہے۔
 
255
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
نہیں ہے کوئی عبدیت کے لائق، سوائے اس الٰہ کے جو حیات آفرینی کا سرچشمہ اور نہ صرف خود قائم بلکہ انسانیت کو قیام دینے والا۔ نہ تو اسے غفلت پکڑتی ہے اور نہ ہی وہ مغلوب ہوتا ہے۔ جو کچھ ارفع و اعلیٰ اقدارمیں ہے اور جو کچھ پست یا ادنیٰ اقدار میں ہے، سب اسی کے لیے ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور شفاعت کر سکے، سوائے اس کے احکام کے مطابق۔ اسے سب معلوم ہے جو ان لوگوں کی قوت و طاقت کے درمیان میں ہے اور وہ بھی جو ان کی پشت پر ہے۔ وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے قانون مشیت کے ساتھ۔ اس کا اقتدار تمام بلند یوں اور پستی پر غالب ہے۔ اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں۔ وہ بڑا عالی مرتبت اور عظمت والا ہے۔
 
256
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
الہی ضابطہ حیات میں زبردستی نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے ممیز ہو گئی ہے اس لیے وہ جو غیر الٰہی احکام کا انکار کرے اور احکام الٰہی کے ذریعے امن قائم کرے تو اس نے ایسا مضبوط ذریعہ اتحاد پکڑ لیا جو کبھی ٹوٹنے والانہیں اور مملکت خداداد علم کی بنیاد پر سننے والی ہے۔
مباحث:۔  
 العروہ  مادہ  ع ر و  معنی ۔۔۔۔’’کپڑے میں بنا ہوا کاج،۔۔ لوٹے کا دستہ، قبضہ، رسی کا پھندہ، کڑا، حلقہ،۔۔۔ قابل اعتماد چیز،۔۔ ذریعہ اتحاد،۔ وہ درخت جس کے سردی میں پتے نہ گرتے ہوں،۔۔۔عمدہ مال،۔۔۔ ہار کے کڑے،۔۔۔شہر کے نواحی حصًے، گردو نواح،۔۔۔ لوگوں کی جماعت،۔۔۔شیر‘‘ ( قاموس الوحید صفحہ نمبر ۱۰۷۵)  
 ِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ  مضبوط حلقہ، مجازاً مضبوط ذریعۂ اتحاد، (قاموس الوحید صفحہ نمبر ۱۰۷۵)
 
257
اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
جو لوگ اہل امن ہوئے ان کی حاکم و مختار الٰہی مملکت ہے کہ وہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتی ہے اور جو انکاری ہیں ان کے دوست ظالم و سرکش لوگ ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں۔ یہی لوگ اصحاب نار ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
مباحث :۔  
 يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ  وہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتی ہے۔ اسی مقام پر واضح ہو جانا چاہئے کہ نور کیا ہے اور ظلمات کسے کہتے ہیں۔  نور  ’’آزادی‘‘ اور  ظلمات  ’’محکومی‘‘ کو کہتے ہیں۔ سیدنا رسالتمآب اورموسیٰ کا کارنامہ ہی یہ تھا کہ انہوں نے اپنی اپنی اقوام کو اس وقت کے ظالموں سے نجات دلائی تھی۔ کسی بھی رسول نے اپنی قوم سے کسی بھی الٰہ کی پرستش نہیں کروائی بلکہ جو پہلے سے کسی زندہ یا مردہ الٰہ کی پرستش ہو رہی تھی، اس سے نجات دلوائی۔ قرآن نے تین الٰہ یا بتوں کی پرستش کی بات کی ہے، جن کو آج ہم استحصالی طبقات کہتے ہیں۔  
۱: ۔۔فرعون ۔۔ طاقت کے ذریعے انسانوں کو جکڑتا ہے، یعنی حکمران طبقہ۔  
۲: ۔۔قارون ۔۔دولت کے بل بوتے پر لوگوں پر حق حکمرانی جتاتا ہے، یعنی سرمایہ دار  
۳: ۔۔ ہامان۔۔ ذہنوں کو بدل کر انسانی عقائد و خیالات کے ذریعے انسانوں کی خون پسینے کی کمائی اڑا لے جاتا ہے، یعنی مذہبی پیشوا۔  
ان تین الٰہ یا بتوں سے نجات کو  يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّور  کہا گیا ہے۔
 
258
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں حجّت کی۔ درآنکہ پروردگار نے اسے حکومت بخشی تھی۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا پروردگار تو وہ ہے جو حیات آفرینی بخشتا ہے اور وہی ناکام قرار دیتا ہے۔ وہ بولا کہ حیات آفرینی اور ناکامی تو میں بھی عطا کرتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ الٰہی قانون تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تم اسے مغرب سے نکالو... تو کافر حیران رہ گیا اور الٰہی قانون ظلم کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
مباحث:۔  
اس آیت میں ایک بات پر غور کیجئے کہ سیدنا ابراہیم کے یہ کہنے پر کہ  رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ  اس شخص کے جواب کی نفی نہیں کی گئی۔۔۔۔۔۔۔ ذرا غور کیجئے کہ اس نے کیا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس نے کہا یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سوچئے کہ اگر یہ بات پیدا کرنے کی ہوتی تو یہ ناممکن ہے کہ کوئی انسان کسی چیز کو بھی پیدا کر سکے۔ اس بات کا تو اس شخص کو بھی بخوبی علم تھا۔۔ اور خدا بھی خاموش رہا ۔۔؟ آخر کیوں ۔۔۔۔۔؟  
عمومی تراجم کی تفا سیر میں بھی یہی لکھا ملے گا کہ اس شخص نے ایک ایسے قیدی کو بلایا جسے پھانسی کا حکم ہو چکا تھا.... اور اسے آزاد کر دیا ، اور کہا دیکھو میں نے اسے زندگی دے دی۔۔۔ اور اس جواب پر نہ تو ابراہیم نے کوئی اعتراض کیا کہ یہ کیا بے وقوفی کی بات کر رہے ہو، ذرا کسی بچے کو پیدا کر کے بتاؤ!... اور نہ ہی الٰہ نے کوئی اعتراض کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!  
اصلاً یہ ہے کہ یہاں جسمانی موت و حیات کی بات ہی نہیں ہو رہی... کیونکہ  يُحْيِي  کا معنی ’’پیدا کرنا‘‘... نہیں بلکہ ’’زندہ انسانوں کو حیات آفرینی‘‘ کے ہیں اور حیات آفرینی کے مقابلے پر  يُمِيتُ  کے معنی جسمانی موت نہیں بلکہ محکومی و ناکامی ہوں گے۔
 
آیت نمبر ۲۵۹ میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے جس کا مقصد سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ چند بنیادی اصول پہلے سمجھ لیے جائیں۔  
۱:۔۔ احکام الٰہی نہ تو کبھی تبدیل ہوں گے اور نہ ہی نتائج میں کوئی تغیر واقع ہو گا۔ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَحْوِيلًا ﴿سورہ فاطر ٤٣﴾ ’’تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور نہ ہی اس کے قانون میں کوئی تحویل ( نتیجے میں تبدیلی) پاؤ گے۔‘‘  
اس لیے اگر اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جسمانی موت کے بعد کوئی بھی ذی حیات زندہ نہیں ہوتا تو قرآن میں اس قانون کے خلاف کوئی بات نہیں ملے گی۔ اس لیے ایک بات ذہن میں بالکل واضح کر لیجئے کہ قرآن میں قدرت کے کسی بھی قانو ن سے ٹکراؤ نہیں ملے گا۔ اگر قدرت کا قانون ہے کہ جو جسمانی موت مر گیا سو وہ اس دنیا میں جسمانی طور پر زندہ نہیں کیا جا سکتا اور جو جس شکل میں پیدا کیا گیا وہ اس دنیا میں اسی شکل میں رہے گا، اگر وہ انسان کی شکل لے کر پیدا ہوا ہے تو وہ کسی بندر کی شکل یا خنزیر کی شکل میں نہیں بدلا جا سکتا، تو یہ قانون اٹل ہے اور الٰہی قانون قدرت میں اس طرح کی تبدیلی ناممکن ہے۔  
۲۔۔، قرآن نے ان اشخاص کی زندگی کی مثال جانوروں جیسی بتائی ہے جو احکام الٰہی سے روگردانی کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو تمثیلاً جانور کہا گیا ہے۔  وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ  ﴿سورہ الاعراف ١٧٩﴾ اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پھیلے ہوئے پائے بہت جن اور آدمی کہ وہ دل رکھتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں، وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ، وہی غفلت میں پڑے ہیں۔  
۳: ۔۔ ایسی اقوام جو احکام الٰہی کی ذمہ داری نہیں نبھاتیں، ان کو گدھے سے تشبیہ دی ہے۔  مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ۚ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّـهِ ۚ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ  ﴿سورہ الجمعہ٥﴾ ’’ان کی مثال جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی پھر انہوں نے اس کی ذمہ داری نہ اٹھائی، ان کی مثال گدھے کی سی ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔ کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔  
۴:۔۔ اسی طرح بعض مقامات پر ایسے شیطان صفت لوگوں کو خنزیر اور بندر کہا ہے۔  قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ۚ أُولَـٰئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضَلُّ عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ  ﴿سورہ المائدہ ٦٠﴾ ’’تم فرماؤ، کیا میں بتا دوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں۔ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں پائے بندر اور سور اور شیطان کے پجاری۔ ان کا ٹھکانا زیادہ برا ہے اور یہ سیدھی راہ سے سب سے زیادہ بہکے ہوئے‘‘.... ان سب مقامات پر نہ تو ان انسانوں کی شکل حیوانوں کی سی تھی اور نہ ہی وہ انسانوں کی شکل سے جانوروں میں تبدیل ہوئے تھے۔  
۵: ۔۔ اس آیت میں جس شخص کی بات ہو رہی ہے وہ بطور نمائندہ پیش کیا گیا ہے۔ اور پوری قوم کی نظریاتی نمائندگی کر رہا ہے، اور جب کہا گیا  فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ   تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو سو سال تک موت کی حالت میں رکھا، بلکہ یہ کہ اس کی قوم ایک عرصہ دراز تک محکوم رہی، اور پھر اس قوم کے افراد میں اپنی حالت کو بدلنے کا خیال ہوا۔  
۶:۔۔ اس کے علاوہ چند اصطلاحات کا بھی جائزہ لے لیا جائے تو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔  
موت بمعنی انسان کی جسمانی موت قرآن کا موضوع نہیں ہے بلکہ قرآن کا مقصد نزول ان انسانوں کی زندگی بدلنا ہے جو حیوانی سطح پر زندگی گزارتے ہیں۔ جو ظلم و ستم روا رکھتے ہیں اور اپنے ہی بھائیوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ ایسا معاشرہ قرآن کی نظر میں مردہ معاشرہ ہے۔  
 أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ  ﴿سورہ الا نعام ١٢٢﴾ ’’اور کیا وہ جو کہ مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا، اور اس کے لیے ایک نور کر دیا جس سے لوگوں میں چلتا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیروں میں ہے اور ان سے نکلنے والا نہیں، اس طرح کافروں کے لیے ان کے اعمال مزین کر دیئے گئے ہیں۔‘‘  
  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ  ﴿سورہ الانفال٢٤﴾ اے اہل امن! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہو جاتا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے۔  
ذیل کی اس آیت میں ایسے معاشرے کی ہی داستان بیان ہوئی ہے اور ایک ایسے انسان کی کیفیت کا اظہار ہے جو قوم کی حالت دیکھ کر سوچتا ہے کہ اس قوم کی حالت اتنی پست ہو چکی ہے کہ اس کا زندہ ہونا ناممکن ہے، پھر یہ کس طرح زندہ ہو گی؟... اور وہ مایوسی کی اس انتہا کو پہنچ جاتا ہے کہ اس کا قانون حیات پر سے بھی بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔  
آج ہمارے لیے یہ آیات ہدایت کا کام کریں گی۔
259
أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
یا اس شخص کی مثال جس کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جو اوندھی پڑی تھی۔ اس نے کہا کہ قانون قدرت اس بستی کو اس کی ناکامی و محکومی کے بعد کس طرح حیات آفرینی عطا کرے گی؟.. پس قدرت نے اسے ایک لمبا عرصہ محکومی میں پایا اور پھر اسے معمور پایا تو پوچھا کہ کتنا عرصہ گزارا؟.. اس نے کہا ایک عرصہ یا اس کا کچھ حصہ۔ جواب دیا بلکہ تم نے ایک لمبا عرصہ گزارا۔۔۔تم اپنے نظام معیشت اور روش کو دیکھو جو اپنا نقش تک نہ چھوڑ سکی۔ اور ذرا غور کرو اپنے مذہبی پیشوا پر ۔۔۔! ہم یقیناًتم کو انسانیت کے لیے ایک نشان راہ کی دلیل بنائیں گے۔ اور غور کرو ڈھانچے کی طرف کہ کیسے ہم اسے بلند کرتے ہیں، پھر آپس کے اتحاد و تعاون کی حالت میں منقلب کرتے ہیں، پس جب اس پر واضح ہو گیا تو بولا کہ قدرت ہرطرح کے پیمانے بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مباحث:۔  
 وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا  (اوندھی پڑی تھی) کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بستی کھنڈر بنی ہوئی تھی بلکہ وہ بستی ان قوانین پر چل رہی تھی جن کو ا ندھیر نگری چوپٹ راج کہا جاتا ہے۔  
 فَأَمَاتَهُ  باب افعال سے، مادہ  م و ت  معنی ’’موت، محکومی، ناکامی‘‘ ۔۔۔۔ باب افعال کا ایک خاصہ وجدان ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس مادہ سے بنے الفاظ میں مادہ کا بنیادی معنی ضرور موجود ہوتا ہے، اسی لیے اس جگہ  فَأَمَاتَهُ  کے معنی ’’اس کو مردہ یا محکوم پایا‘‘ ہو گا۔ ظاہر ہے کوئی مردہ جسمانی لحاظ سے زندہ نہیں ہوا کرتا اس لیے اس مقام پر وہ زندگی جو مردوں سے بھی بدتر ہوتی ہے، یعنی ’’محکومی کی زندگی‘‘ مراد ہے۔  
 بَعَثَهُ  مادہ  ب ع ث  معنی ’’مقرر کرنا، مامور کرنا، کسی کا مواخذہ کرنا (جیسے کفار کی بعثت مواخذہ کے لیے ہو گی)‘‘... انبیاء کی بعثت ایک اعلیٰ مقام پر فائز کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اس آیت میں اس شخص کی بعثت سے مراد اس قوم کی بعثت ہے جو عرصہ دراز کی غلامی کے بعد مملکت الٰہیہ کے قیام کے نتیجے میں ہوئی ہے۔  
 طعام ۔۔ مادہ  ط ع م  ۔۔معنی ۔’’ہر کھائی جانے والی چیز۔۔ روزی، رزق، خوراک۔۔، تاوان، ٹیکس، خراج ۔۔ مال غنیمت۔۔، ذریعۂ معاش‘‘...  تطعیم  حفاظتی ٹیکہ، شاخ کا دوسرے درخت کی شاخ کا قلم کا قبول کرنا‘‘  
 شراب  مادہ  ش ر ب  معنی ۔۔ ’’پینا، گھونٹ بھرنا ۔۔ رجحان، طبع ، خواہش ،شوق‘‘ ( قاموس الوحید ۔صفحہ نمبر ۸۵۲ )  ھم قوم اختلف مشاربھم  ’’ان کے الگ الگ رجحانات ہیں۔‘‘
 
جس طرح پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ جہاں بھی کسی آیت کے شروع میں  وَإِذْ  کا لفظ آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔  
ماقبل آیات میں قوموں کی موت و حیات یعنی قوموں کی محکومی اور آزادی کی بات ہو رہی ہے، اس لیے اسی سلسلے میں سیدنا ابراہیم کے واقعہ کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس آیت میں اگر حیات کو جسم کا زندہ ہونا اور موت کو جسم کی موت لیں جیسا کہ عام مفسرین نے لیا ہے تو کیا سیدنا ابراہیم کو بھی اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں تھا کہ وہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے؟ .... آئیے پہلے عمومی ترجمہ دیکھتے ہیں۔  
 وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ  (اور جب ابراہیم نے (اللہ سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟ جس کی وجہ سے پوچھا گیا  قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن  ( کیا تجھے بالکل یقین نہیں ہے؟) اس پر سیدنا ابراہیم کا جواب بھی عجیب سی کیفیت کا غماز ہے، جواب دیا  قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي  (کیوں نہیں ۔۔ لیکن میرے قلبی اطمینان کےلیے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاد رکھیے یہ عمومی ترجمہ ہے۔  
اب خود دیکھ لیجئے، اس ترجمے سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا ابراہیم کو ’’اللہ کے مردے کو زندہ کرنے‘‘ پرقلبی اطمینان نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ممکن ہے؟... اور اگر سیدنا ابراہیم کو ہی قلبی اطمینان نہ تھا تو عام انسانوں کی کیفیت کیا ہو گی۔!  
یہاں آپ پر واضح ہو جانا چاہئے کہ قرآن جس موت و حیات کی بات کر رہا ہے وہ قوموں کی محکومی اور آزادی کی بات ہے، اور اس مسئلے پر ہر کوئی تذبذب کا شکار رہتا ہے اور رہے گا کہ ایسی قوم جو پستیوں کی انتہائی گہرائیوں میں پڑی ہو، وہ جبر و استبداد کے پنجوں سے کب اور کس طرح آزادی حاصل کر سکتی ہے؟... اور یہی فکر سیدنا ابراہیم کوتھی جس کے لیے ان کو طریقہ بتایا گیا۔
260
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے پروردگار مجھے سمجھا کہ تو محکوم قوم کو کس طرح آزادی دلائے گا؟ اس نے کہا، کیا تم امن دینے والے نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، لیکن اس لیے... کہ میرا دل مطمئن ہو۔ کہا کہ انتہائی شفیق و رحم دل اوربردبار و باوقار افراد کی ذمہ داری اٹھاؤ اور ان کی تربیت کرو اور ان میں سے ایک ایک جزو کو ہر مرد میدان پر مقرر کرو، پھر ان کو دعوت دو تو وہ تیرے پاس سعی و جہد کرتے ہوئے آ ئیں گے۔ اور جان رکھو کہ قدرت باحکمت غلبے والی ہے۔
مباحث:۔  
 اربع ۔۔ مادہ ۔ رب ع  ۔۔ معنی۔۔ ’’موسم بہار... چراگاہ میں آزادی سے چرنا،... عدد کے لحاظ سے چار... خوش حال و آسودہ ہونا.... شفقت کرنا، مہربانی کرنا‘‘  
 الطیر ۔۔مادہ ۔ ط ی ر  معنی ۔۔’’اڑنا، مجازاً ہر اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو اونچی اڑان رکھتا ہو۔ علًامہ اقبال نے مومن کو شاہین کہا ہے۔ دوسرے مقام پر طائر لاہوتی کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ اس رزق سے موت بہتر ہے جس رزق سے ’پرواز‘ میں کوتاہی آئے۔ قاموس الوحید میں صفحہ نمبر ۱۰۲۶ پر  ساکن الطیر  کے معنی بردبار و باوقار، شہرت یافتہ اور مشہور و معروف کے لکھے ہیں۔  
 خذ ۔۔مادہ  ا خ ذ  ۔۔۔معنی .۔’’حاصل کرنا، پکڑنا، لینا، ماخوذ کرنا، پابند کرنا‘‘  علیٰ نفسہ  ’’اپنے ذمہ لینا‘‘  اخذ  کے مختلف معنی ہیں اور موقع محل دیکھ کر متعین کرنا ہوں گے۔
 
261
مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
جو لوگ اپنا مال اللہ کی مملکت کے لیے خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے بہت ساری بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سینکڑوں دانے ہوں، اور اللہ کی مملکت اس شخص کے مال کو جو اپنے کو حقدار ثابت کرتا ہے، زیادہ کرتا ہے۔ اللہ کی مملکت بڑی کشائش والی اور علم والی ہے۔
 
262
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
جو لوگ اپنا مال اللہ کی مملکت کے لیے صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا احسان جتاتے ہیں اور نہ ہی تکلیف دیتے ہیں، ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس ہے اور ان کو نہ تو کچھ خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
 
263
قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ
احکام الٰہی کے مطابق حفاظت کی ایک بات اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا دی جائے، اور الٰہی مملکت بے نیاز بردبار ہے۔
 
264
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
اے اہل امن! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ایذا د ے کر اس شخص کی طرح برباد نہ کر دینا جو لوگوں کو دکھاوے کے لیے مال خرچ کرتا ہے اور نہ تو احکام الٰہی کے ذریعے اور نہ ہی مکافاتِ عمل کے روز امن میں ہوتا ہے، تو ایسے شخص کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر گرد پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ ایسے لوگ اپنے اعمال پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے ہیں۔ اور مملکت الٰہیہ ایسے انکاری لوگوں کو ہدایت پر نہیں پاتی۔
 
265
وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور جو لوگ اللہ کی مملکت کی رضا کے مطابق اور اپنے لوگوں کی ثابت قدمی کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو بلند مقام پر واقع ہوکہ اس پر بارش پڑے تو اس کا پھل دگنا آئے۔ اور اگر بارش نہ بھی پڑے تو شبنم ہی سہی، اور مملکت الٰہی تمہارے کاموں پرنظررکھے ہوئے ہے۔
 
266
أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لیے ہر قسم کے پھل موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آ پکڑے اور اس کی ذریت کمزور ہو، اس باغ پر آگ کا بگولا چلے اور وہ جل جائے؟؟ بوجہ اسی کے پروردگار تم پر اپنی آیتیں واضح کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔
 
267
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ
اے اہل امن! جو کچھ بھی تم حاصل کرتے ہو اور جو چیزیں ہم نے تمہارے لیے زمین سےنکال لی ہیں، ان کو صحیح طریقے سے صرف کرو۔ اور اس میں سے جو تم صرف کرتے ہو، خبیث طریقوں کا ارادہ نہ کرنا، جن کو بجز اس کے کہ تم آنکھیں ہی بند کر لو، کبھی بھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ مملکت الٰہیہ بر بنائے حمد کسی کی محتاج نہیں ہے۔
 
268
الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
سرکش اور احکام الٰہی کا انکاری تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے اور احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرنے کو کہتا ہے جبکہ آئین قدرت تم سے حفاظت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور قوانین قدرت با علم وسعت والے ہیں۔
 
269
يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ
وہ دانائی اس کو بخشتا ہے جو اس کی مشیّت کے مطابق پورا اترتا ہے اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی، اور یاد رکھ کر عمل پیرا تو اہل علم و دانش ہی ہوتے ہیں۔
 
270
وَمَا أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ ۗ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ
اور تم کسی صرفے کی مد میں سے جو بھی صرف کرتے ہو یا ذمہ داریوں میں سے کوئی ذمہ داری پوری کرتے ہو تو مملکت کو اس کا علم ہو جائے گا اور خردبرد کرنے والوں کا مددگاروں میں کوئی مددگار نہیں ہے۔
 
271
إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
اگر تم اپنےعہد کو سچ کر دکھاتے ہو تو وہ خوب ہے اور اگر اس کو خفیہ طور پر پورا کرتے ہو اور حاجت مندوں کے لیے عہد کو پورا کر تے ہو تو وہ بھی تمہارے لیے خوب تر ہے اور وہ تمہاری کمزوریوں کو دور کر دے گا اور مملکت الٰہی تمہارے سب کاموں سے باخبر ہو جائے گی۔
 
272
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
تم ان لوگوں کی رہنمائی کے قطعاً ذمہ دار نہیں ہو بلکہ مملکت اس کی جو خود کو اس کی مشیّت کے مطابق اہل ثابت کرتا ہے، رہنمائی کرتی ہے۔ اور تم جو بھی بھلائی سے خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہارے ہی لوگوں کو ہوگا۔ اور تم تو صرف مملکت کی توجہ حاصل کرنے کےلیے خرچ کرتے ہو۔ حالانکہ جو تم خرچ کرو گے اس کا تمہیں بھرپور بدلہ دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا۔
 
273
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
ان حاجتمندوں کے لیے جواحکام الٰہی کی راہ میں محصور کر لیے گئے اور زمین میں مملکت الٰہیہ کی طرف جانے کی استطا عت نہیں رکھتے جبکہ عافیت کی وجہ سے ناواقف ان کوغنی خیال کرتا ہے اور تم ان کی صفات سے ان کو جان لیتے ہو کہ وہ لوگوں سے لپٹ کر مطالبات نہیں کرتے اور تم جو بھی بھلائی سے خرچ کرو گے تو کچھ شک نہیں کہ مملکت الٰہیہ اس کو جان لے گی۔
 
274
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
جو لوگ اپنا مال خوشی خوشی اعلانیہ ان پر خرچ کرتے ہیں جو خواہ بدحال ہوں یا بےحال، ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس ہے اور ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم کریں گے۔
مباحث:۔  
اس آیت میں ایک لفظ  سراً  آیا ہے جس کا مادہ  س ر ر  ہے۔ اس لفظ کے معنی ’’خوشی، خوشیاں اور پوشیدگی‘‘ کے ہوتے ہیں۔ اگر حکومتی سطح پر انفاق پوشیدہ کیا جائے تو رشوت کے دروازے کھولتا ہے اس لیے جہاں بھی حکومت کے حوالے سے انفاق ہوگا تو وہ علّانیہ ہی ہو گا۔
 
 الربا  کے حوالے سے مندرجہ ذیل آیات (۲۷۵ سے ۲۸۱) کے درمیان میں ارشاد ہے  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ() فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ ()   
مومنو! احکام الٰہی کی معصیت کے انجام سے بچو اور اگر تم حقیقت میں اہل ایمان ہو تو جو الرباء سے حاصل شدہ باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو سن لو اللہ اور رسول سے جنگ کے لیے اور اگر تم الربا سے باز آ جاؤ تو تمہارے لیے راس المال ہے۔ نہ تو تم کسی پرظلم کرو اور نہ تم پرظلم کیا جائے۔  
دیکھئے، ان آیات میں ایک بہت بنیادی بات کہی گئی ہے کہ اگر تم نے الرباء سے حاصل شدہ باقیات کو نہ چھوڑا تو اللہ اور رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ کیا خیال ہے کہ ایک ایسے شخص کے خلاف جو قرض دیکر چند دراہم یا روپے قرض کے علاوہ لیتا ہے اسلامی مملکت کی جنگی مشینری حرکت میں اس لیے آ جائے گی کہ اس نے چند درہم یا روپے دے کر اس پر چند فی صدزائد رقم کا مطالبہ کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ جی نہیں ۔۔۔! غور کیجئے کہ کوئی ملک کن وجوہات کی بنیاد پر اعلان جنگ کرتا ہے۔۔؟  
اعلان جنگ کوئی معمولی بات نہیں۔ اعلان جنگ صرف اسی وقت ہوتا ہے جب مملکت کی بقاء خطرے میں ہو، اس کی بنیادیں ہل رہی ہوں۔ یاد رکھیے کہ یہاں بیرونی خطرات کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ خطاب مومنین سے ہے اور حکومت کے اداروں سے خطاب ہے نہ کہ انفرادی خطاب۔۔۔۔۔۔ اس لیے سوچئے کہ یہ کون سا خطرہ ہے جو مومنوں کی طرف سے یعنی حکومت کے اداروں کی طرف سے لاحق ہو گیا تھا۔  
کسی بھی مملکت کو اندرونی خطرہ کسی نہ کسی ایسی بغاوت یا سازش کی وجہ سے ہوتا ہے جو مملکت کی مضبوط بنیادوں کو ہلانے کی باعث بن جائے۔ یہاں کسی اندرونی سازش کا بھی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کی اندرونی فوجی بغاوت نظر آ رہی ہے۔ سیاق و سباق میں انفاق کا ذکر ہو رہا ہے۔ اگر ہم دنیا کے ممالک کا جائزہ لیں تو معلوم ہو جائیگا کہ اکثر ممالک کا زوال خود اپنے ہی نادان لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کی اصل اور بنیادی وجہ خود اپنے ہی لوگوں کا مملکت کی معیشت پر قبضہ ہوتا ہے۔ آج بھی جتنی ناکام ریاستیں ہیں (اور ان میں زیاد تر مسلمان ممالک ہیں) ان کے وسائل پر قبضہ خود اس مملکت کے اپنے لوگوں کا ہی نظر آتا ہے۔  
 الربا  ۔۔۔۔۔ ’’مملکت کے وسائل پر قبضہ‘‘  الربا  ہے، مثلاً آج کی دنیا میں حکمر انوں کا مملکت کے وسائل پر قبضہ۔ خواہ زمینوں کو اپنی جاگیر بنانا ہو یا مملکت کی معیشت کو اپنے لیے مخصوص کرنا ہو۔۔۔۔ یا عوام کا مملکت کے لیے مالی مدد یعنی انفاق صدقہ یا زکواۃ کا نہ دینا ہو۔  
 انفاق  مملکت کی طرف سے انفاق ضرورت پڑنے پر نہ صرف علانیہ ہوتا ہے بلکہ مملکت کی رضامندی سے ہوتا ہے۔  
 صدقہ  کے معنی ہیں "سچ" یعنی انسان اپنے عمل سے وہ وعدہ سچ کر دکھائے جس کی ذمہ داری اس نے لی ہے۔ یہ وعدہ مالی بھی ہو سکتا ہے اور صلاحیت کا بھی ہو سکتا ہے۔  
 الزکوۃ  یہ عوام کی نشوونما کے لیے مملکت کی وہ مدد ہے جسے مملکت وقت حسب ضرورت لازم قرار دیتی ہے۔  
اس لیے  الربا  مملکت کی معیشت کی تباہی کا نام ہے۔  
البتہ اگر عوام میں سے کوئی شخص کسی دوسرےشخص کا معاشی استحصال اس حد تک کر رہا ہے کہ اس کی معیشت برباد ہو جائے تو یہ انفرادی لحاظ سے  الربا  ہی کہلائے گا۔  
 فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ (٢٧٩)   
مومنو! احکام الٰہی کی معصیت کے انجام سے بچو اور اگر تم حقیقت میں اہل ایمان ہو تو جو  الربا  سے حاصل شدہ باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو سن لو اللہ اور رسول سے جنگ کے لیے۔ اور اگر تم  الربا  سے باز آ جاؤ تو تمہارے لیے راس المال ہے۔ نہ تو تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پرظلم کیا جائے۔  
دیکھ لیجئے اس آیت میں  الربا  کا نچوڑ بتا دیا گیا کہ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پرظلم کیا جائے۔ اس لیے یاد رکھیے۔۔۔۔ ہر وہ لین دین جس میں کسی پر بھی ظلم ہو رہا ہو  الربا  کے زمرے میں آئے گا خواہ حکومت کے افراد حکومت کے وسائل پر قبضہ کر کے ملک پر ظلم کر رہے ہوں یا افراد ایک دوسرے پر کر رہے ہوں۔
275
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
وہ لوگ جو معاشی استحصال کرتے ہیں وہ اپنے موقف پر اس طرح کھڑے ہوتے ہیں جیسےکہ وہ شخص ہو جسے سرکش و نافرمان شخص نے سکھا پڑھا کر مخبوط الحواس کر دیا ہو۔ یہ بوجہ اس لیےکہ وہ کہتے ہیں کہ معاہدات کے ذریعے معیشت بھی تو ویسی ہی ہے جیسے الربا (معاشی استحصال) جبکہ معاہدات کے ذریعے معیشت کو قوانین قدرت نے جائز قرار دیاہے اور الربا (معاشی استحصال ) کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس پروردگار کی نصیحت پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کے لیے!۔ اور اس کا فیصلہ مملکت کے سپرد اور جس نے پھر اعادہ کیا، تو ایسے لوگ اصحاب نار ہیں کہ وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
مباحث:۔  
 الربا ۔۔۔ اس لفظ کا مادہ  ر ب ء  ہے اور اس کے بنیادی معنی ’’سود‘‘ یعنی فائدہ ہے۔ ہر قسم کے ربا یعنی سود مند چیز کو ناجائز قرار دے کر، ہر فائدہ مند چیز کو ناجائز بنا دیا گیا ہے حالانکہ سود کے حوالے سے نازل شدہ آیت نمبر ۲۷۶ میں ارشاد ہے۔  يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ  (اللہ الربا کو زائل کرتا ہے اور الصدقات کو بڑھاتا ہے)  
 وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ  (اور صدقات کو بڑھاتا ہے) سے معلوم ہوا کہ "ربا" کے معنی بڑھوتری کے ہیں۔ لفظ  يُرْبِي  کا مادہ بھی  ر ب ء  ہے اور اس مقام پر کسی برائی کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ خدا نے خود ربا کے فعل کو صدقات کی بڑھوتری کے لیے استعمال کیا ہے اس لیے ہر فائدہ مند چیز ربا کہلاتی ہے۔ البتہ ہر وہ بڑھوتری جو ناجائز طریقے سے کی جائے یقیناً ناقابل قبول بلکہ سزا کی حقدار ہے اور  الربا  یعنی وہ خاص بڑھوتری جس کو  "ا ل"  کے ذریعے اسم معرفہ بنایا گیا، ناجائز ہے۔  
 يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ  (اللہ الربا کو زائل کرتا ہے اور الصدقات کو بڑھاتا ہے) سے یہ بھی معلوم ہوا کہ  الربا  کی ضد  الصدقات  ہیں۔ اور دونوں معرف بالام ہونے کی وجہ سے معرفہ ہیں اور خاص  ربا  اور خاص  صدقہ  کی نشاندہی کر رہے ہیں۔  
 الصَّدَقَاتِ  ۔۔مادہ ۔۔ " ص د ق "۔۔معنی ’’سچ کرنا، سچ کر دکھانا‘‘  
معیشت کے حوالے سے دو اصطلاحات اور بھی قابل غور ہیں۔  
۱۔۔انفاق اور ۲۔۔زکواۃ  
 انفاق  کا مادہ  ن ف ق  ہے۔ مختلف معنی میں مستعمل ہے۔  نفق الشیئی ۔’’کسی چیز کا ختم ہو جانا‘‘  نفق الیربوع  ’’جنگلی چوہے کا اپنے بل سے نکلنا‘‘  انفق فلان  ’’غریب و مفلس ہو جانا‘‘
 
276
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ
مملکت الٰہیہ معاشی استحصال کو نابود کرتی ہے، صدقات کو سود مند بناتی ہے اور کسی انکار کرنے والے غلط روش پر عمل پیرا کو پسند نہیں کرتی ہے۔
 
277
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
یقیناً وہ لوگ جو اہل امن ہیں اورجنہوں نے صلاحیت بخش اعمال کیے اور قرآنی نظام کو قائم رکھا اور معاشرے کی خوشحالی میں بھرپور حصہ لیا، ان کے کاموں کا صلہ مملکت کے پاس محفوظ ہے اور ان کو نہ تو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔
 
278
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اے اہل امن! مملکت الٰہیہ کے احکام کی معصیت کے برے انجام سے بچو اور اگر تم حقیقت میں اہل امن ہو تو جو الربا (معاشی استحصال) سے باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔
 
279
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
اگر ایسا نہیں کرو گے تو مملکت الٰہیہ کی طرف سےجنگ کا سن لو اور اگر تم الربا (معاشی استحصال) سے باز آ جاؤ تو تمہارے لیے راس المال ہے، نہ تو تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
مباحث :۔  
راس المال۔۔۔ مملکت کی طرف سے جو بھی اس کا حق بنتا ہے وہ اس کا راس المال ہے۔
 
280
وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
اور اگر الربا (معاشی استحصال) کرنے والا مشکل میں ہو تو اسے کشائش تک کی مہلت دینی ہے اور اگرصدقہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے بشرطیکہ تم سمجھو۔
 
281
وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور اس دن کے برے نتائج سے بچو کہ جس دن تم معاشی استحصال کے معاملے میں مملکت الٰہیہ کے سامنے لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔
 
282
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا ۚ وَلَا تَسْأَمُوا أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰ أَجَلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَىٰ أَلَّا تَرْتَابُوا ۖ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اے اہل امن! جب تم کسی معیادِ معیّن کے لیے معاہدات کرو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں توازن سے لکھے، نیز لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے اور جیسا مملکت الٰہیہ نے سکھایا ہے ویسا ہی لکھے، اور جو شخص حق دار ہے وہ مضمون لکھوائے اور مملکت الٰہیہ جو اس کا رب ہے، اس کے احکام کی معصیت کے برے انجام سے بچے اور حق میں سے کچھ بھی کم نہ کرے۔ اور اگر حقدار ناسمجھ یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ توازن سے لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو با اختیار لوگوں کو گواہ بنا لیا کرو۔ اور اگر دو بااختیار لوگ نہ ہوں تو ایک ہی بااختیار یا دو بامروت کامل انسان جن کو تم گواہوں میں سے پسند کرو کہ اگر ان میں سے ایک غائب ہو جائے تو ان کا دوسرا یاد دلا دے، اور جب گواہ بلائے جائیں تو انکار نہ کریں، اور حق میعاد مقرر خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ، لکھنے میں سستی نہ کرنا۔ یہ بات احکام الٰہی کے مطابق نہایت قرین انصاف اور گواہی کے لیے بہت قوی طریقہ ہے اورقریب تر ہےکہ تم کسی طرح کے شک میں نہ پڑو۔ البتہ اگر تجارت دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو گواہی نہ بھی لکھو تو بھی تم پر کوئی رکاوٹ نہیں اور جب معاہدات کرو تو گواہ کر لیا کرو اور نہ تو کاتب کو اور نہ ہی گواہ کوکسی طرح کا نقصان پہنچایا جائے، اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمہاری قانون شکنی ہے، اور احکام الٰہی کی معصیت کے برے نتائج سے بچو اور مملکت خداوند تم کو تعلیم دیتی ہے اورمملکت ہر چیز سے واقف ہے۔
 
283
وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَّقْبُوضَةٌ ۖ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ ۗ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ
اور اگر تم تحریری مراحل نہیں طے کر پائے اور ابھی تک قانون بھی نہیں پاتے تو رہن باقبضہ رکھ کر اور اگر کوئی کسی کو امین بنائے تو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کر دے اور مملکت الٰہی جو پروردگار ہے، کی معصیت کے برے نتائج سے بچو اور مشاہدے کو مت چھپانا اور جو اس کو چھپائے گا تو اس کا ضمیر گنہگار ہے اور مملکت تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔
 
284
لِّلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
جو کچھ بلندیوں اور پستیوں میں ہےسب مملکت ہی کا ہے۔ اور جو کچھ تمہارے لوگوں کے معاملے میں ہے اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، مملکت تمہارا محاسبہ کرے گی۔ پھر وہ حفاظت فراہم اس کو کرے گی جو اس کی مشیّت پر پورا اترے گا، اور وہ عذاب سے اسے دوچار کرے گی جو اس کی مشیّت پر پورا اترے گا، اور مملکت ہر چیز کے پیمانے بنانے پر قدرت رکھتی ہے۔
 
285
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
رسول اور اہل امن نے اس کے ذریعے جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوا، امن قائم کیا۔ سب کے سب نے مملکت الٰہی کے ساتھ، اور اس کے نافذین احکام کے ساتھ اور اس کے آئین کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ امن قائم کیا۔ ہم نے اس کے پیغمبروں کے درمیان کسی میں کچھ فرق نہیں کیا اور کہا کہ ہم نے حکم سنا اور اطاعت کی۔ اے پروردگار تو انتہائی حفاظت فراہم کرنے والا ہے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
 
286
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
مملکت الٰہی کسی کو مکلف نہیں ٹھہراتی سوائے اس کی وسعت کے مطابق۔ اس کے لیے وہی فائدہ مند ہو گا جو اس نے کمایا اور اس کے لیے وہی نقصان دہ ہو گا جو اس نے کمایا۔ اے پروردگار! اگر ہم سے بھول یا چوک ہو گئی ہو تو مؤاخذہ نہ کرنا۔ اے پروردگار! ہم پر ایسے بوجھ نہ ڈالنا جیسے بوجھ ہم سے پہلوں پر ڈالے تھے۔ اے پروردگار! ہم کو اتنی ہی ذمہ داری دینا جتنی کے ہم متحمل ہوں۔ اور ہم سے درگزر کرنا اور ہمیں حفاظت فراہم کرنا۔ اور ہم پر رحم فرمانا۔ تو ہی ہمارا مولا ہے پس احکام کا انکار کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد کرنا۔
View Members Questions/Comments
 
Arabic script of Quran prepared by www.tanzil.net
© AASTANA.COM  All Right Reserved