| قرآن کی ابتداء " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "سے ہوتی ہے۔ لیکن آپ نے دیکھا ہوگا کہ قرآن کے بعض نسخوں میں " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "کے بعد آیت کا نمبر شمار دیا ہوتا ہے اور بعض میں نمبر شمار نہیں ہوتا۔ جو قرآن مکہ اور کوفہ کے یعنی مام شافعی کے مسلک کے تحت شائع ہوتے ہیں ان میں " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "کے بعد آیت کا نمبر 1 لکھا ہوتا ہے۔ اور سورۃالفاتحہ کی آیت الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کے بعد آیت کا شمار 2 لکھا ہوا ملتا ہے۔ لیکن وہ قرآن جو مدینہ ,بصرہ یا شام کے مسالک یعنی ابو حنیفہ کے مسلک کے تحت چھپتے ہیں ان میں سورتوں سے پہلے" بسم اللہ الرحمٰن الرحیم " لکھا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے سورۃ الفاتحہ سے پہلے لکھی جانے والی " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم " کو بھی آیت تصور نہیں کیا جاتا۔ اس لئے اس مسلک کے تحت چھپے ہوئے قرآن میں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کے بعد آیت نمبر 1 لکھا ہوتا ہے۔
لیکن اس مؤقف کو اختیار کرنے سے ایک مسئلہ یہ کھڑا ہو گیا کہ اس طرح نمبر شمار کرنے سے سورۃ الفاتحہ کی کل آیات چھ رہ گئی ۔جس کا حل کچھ یوں نکالا گیا کہ آیت نمبر پانچ کے بعد نمبر شمار میں 5اور 6 دونوں ہی لکھ دیئے جاتے ہیں اس طرح آیات کی تعداد دوبارہ سات بنا دی جاتی ہے یا پھر سورۃ الفاتحہ کی آخری آیت کے دو حصے کر کے ان کو چھ اور سات شمار کر لیا جاتا ہے۔ خدا جانے ایسا کب ہوا ؟ اور کیوں کیا گیا ؟
دوسرا مسئلہ جو محققین کو " بسم " سے متعلق درپیش ہوا وہ یہ کہ کہا گیا کہ " بسم اللہ " مرکب ہے "ب + اسم + اللہ " کا ۔ "ب" حروف جارہ میں سے ہے جس کے معنی ہیں ساتھ ہونا ، ذریعہ بننا اور معیت میں ہونا وغیرہ ۔ کچھ نے کہا کہ "ب" سببیہ ہے اور اس کے معنی بوجہ ہونگے اور کچھ نے اسے استعانت کے لئے کہا۔ لیکن مختصر اً یہ کہ "ب" کے معنی کچھ بھی ہوں ساتھ ،طلب ،بوجہ اور بذریعہ کا مفہوم نکل ہی آئے گا۔ اصل مسئلہ تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب " بسم اللہ " کی ترکیب پر غور کرتے ہیں۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مترجمین اور مفسرین قرآن نے اس موضوع پر بات کرنے سے دانستہ یا غیردانستہ صرف نظر ہی کیا ہے۔
اگر تو "بسم" مرکب ہے "ب + اسم " کا تو اسم کا ہمزہ کیوں ساقط ہو گیا ؟ کیونکہ کسی شکل میں بھی لفظ میں سے حروف اصل ساقط نہیں ہوتے یعنی اس کو "باسم" ہونا چاہئے تھا۔ جیسا کہ سور ۃ العلق میں وارد ہوا ہے اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ اس آیت میں " باسم " وارد ہوا ہے جو یقینا "ب + اسم" کا مرکب ہے اور اس مرکب میں آپ نے دیکھ ہی لیا "اسم" کا ہمزہ ساقط نہیں ہوا اور معنی اور مفہوم کے لحاظ سے بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ پھر کیاوجہ ہے کہ سورہ الفاتحہ سے قبل لکھی گئی بسم اللہ میں " بسم " سے " اسم " کا ہمزہ ساقط نظر آتا ہے جو ہمزہ الوصل ہے اور ساقط نہیں ہو سکتا اور گویا وہ معنی یا مفہوم اخذ نہیں ہو سکتا جو " باسم " سے ہوتا ہے۔
" اسم "کے بنیادی حروف "س م و" ہیں جس میں "و" حروف علت میں سے ہے دوسرے حروف علت "ء اور ی " ہیں اور یہ تینوں آپس میں تعلیلات کے قاعدہ کے مطابق بدل تو سکتے ہیں لیکن ساقط نہیں ہو سکتے۔ آیئے اب " بسم " پر غور کرتے ہیں۔
اوپر کی بحث سے ہم اس نتیجہ پر تو پہنچ گئے کہ اگر " بسم " مرکب ہے "ب + اسم " کا تو ہمزہ کو ساقط نہیں ہونا چاہئے ۔ اس لئے اب ہمیں " بسم "کے حروف اصل کو دیکھتے ہوئے "ب س م" کو ہی اس کے حروف اصل ماننا پڑے گا۔ اور اس طرح " بسم اللہ " مرکب اضافی بن سکے گا جس میں " بسم " مضاف اور " اللہ " مضاف الیہ ہوگا۔
آیئے مزید تفصیل کے لئے دیکھتے ہیں کہ " بسم اللہ " کو قرآن میں کیسے پیش کیا گیا ہے۔ چناچہ اس کے لئے سورۃ النمل کو دیکھنا ہو گا کہ جس میں اسی طرح کی صورت حال پیش آئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہاں پر کیا معنی و مفہوم سامنے آتا ہے۔
سورۃ النمل میں آیت نمبر 30 کی عبارت کے درمیان " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم " لکھی ہوئی ہے وہاں بھی جیسا کہ عرض کیا ہم " بسم اللہ " ہی لکھا ہوا پاتے ہیں۔ سورۃ النمل کی اس آیت کو جب اس کے سیق و سباق میں رکھ کر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلیمان نے ایک مملکت کے لوگوں کی طرف وحی الہی کی دعوت بھیجی تھی جس کے ردعمل میں اس دعوت کو قوم نے اپنے سرداروں پر پیش کیا ۔ آیئے قرآن نے اس قصے کو کس انداز سے بیان کیا ہے دیکھتے ہیں یہ واقعہ کچھ اس طرح ہے جب ایک کمانڈر نے آکر سیدنا سلیمان کو ملک سبا کے متعلق بتایا۔
إِنِّي وَجَدْتُ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
میں نے لوگوں پر ایک " امراۃ " کو بااختیار ہ پایا ہے اور اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا اقتدار بھی عظیم ہے۔
سیدنا سلیمان نے مزید معلومات حاصل کرنے کے بعد اس قوم کی طرف احکامات الہی کی دعوت بھیجی جس کو اس طرح بیان کیا گیا۔
اذْهَبْ بِكِتَابِي هَذَا فَأَلْقِهِ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ
میری اس کتاب کے ساتھ جاؤ اور ان لوگوں کو پیش کرو اور پھر ان لوگوں کے پاس سے واپس آؤ اور دیکھو کہ وہ کس طرف رجوع کرتے ہیں
جب سیدنا سلیمان کی بھیجی ہوئی کتاب لوگوں پر پیش کی گئی تو اس " امراۃ " نے اپنے بڑوں سے مشورہ کیا اور کہا ۔
قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلأ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ Oإِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ O
کہا کہ ہماری طرف سے ایک مکرم کتاب پیش کی گئی ہے اور وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " ہے۔
جو کتاب یعنی وحی الہی ملک سبا کے لوگوں کی طرف بھیجی گئی تھی اس کا نام تھا " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "۔ اسی طرح وحی الہی کو ہماری طرف پیش کرنے کے لئے قرآن کو " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "کے نام کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن کا نام” بسم اللہ “ہے اور " الرحمٰن الرحیم " اس کتاب کی بوجہ وحی الہی رحمانیت پر دلالت کرتا ہے ۔گویا الرحمٰن اور الرحیم کی صفات سے " بسم اللہ " کو متصف کیا گیا ہے۔ |
| |
| 1 | الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ | |
| | تمام تر حمد اس خالق کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔ |
| |
| انسان کا تجسس اسے اس بات پر مجبور کئے رکھتا ہے کہ وہ کائنات کے متعلق معلومات حاصل کرے۔ اسی تجسس کے نتیجہ میں وہ چند باتوں کو تحقیق طلب اور غور طلب سمجھتا ہے۔ انسان ہمیشہ اپنے خالق کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ خالق کے ساتھ اس کی مخلوق کا رشتہ ہمیشہ انسان کے لئے تحقیق کا باعث رہا ہے۔
اسی تحقیق کے نتیجہ میں وہ اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ اس کائنات میں ایک مربوط نظام موجود ہے۔ ہر شئے کی پالنہاری ہو رہی ہے لیکن اس نظام میں ایک خلل بھی ہے۔ اور وہ خود انسانوں کے درمیان انسانوں کا پیدا کردہ ہے۔ تو وہ خواہش کرتا ہے کہ انسانوں کو بھی ایک ایسا نظام ملے جس سے ان میں بھی پالنہاری کا طریق رائج ہو۔ انسان کی اس خواہش کا اظہار سورۃ الفاتحہ کی شکل میں بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے۔
مباحث:۔
مزید جاننے کے لئے کہ حمد کیا ہے اور کس کے لئے کی جائے دیکھئے۔۱۷/۱۱۱، ۶۴/۱، ۱۵/۹۸، ۶/۴۵، ۳۲/۱۵، ۳۴/۱،۱۷/۵۲
حمد کے بنیادی معنی تعریف کے ہیں ۔یعنی کسی کی صفات کو بیان کرنا ۔کسی عالم کی حمد یہ ہوگی کہ اسکی علمیت کا اعتراف کیا جائے ،ایک سخی کی حمد یہ ہوگی کہ اسکی سخاوت کا اعتراف کیا جائے ۔
اللہ کی تعریف کے لئے اسکی صفت حاکمیت کے ذریعے اسکی ربوبیت یعنی اسکی پالنہاری کا اعتراف اسکی حمد ہے ۔اسی لئے اسکی حاکمیت کی دلیل یہ ہے کہ وہ سب کا پالنہار ہے اسی لئے وہ لائق حمد ہے ۔ |
| |
| |
| 2 | الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ | |
| | جس کی رحمت لا متناہی اور ہمیش رہنے والی ہے۔ |
| |
| مباحث:۔
الرحمن اور الرحیم ،دونوں الفاظ ر ح م سے مشتق ہیں ۔ رحمان کا وزن فعلان کا ہے جس کے معنی میں بے انتہا ہونا پایا جائے گا ۔جب کہ رحیم کا وزن فعیل کا ہے جس کے معنی میں ہمیشگی کا مفہوم ہوگا ۔
ر ح م کے بنیادی معنی کو سمجھنے کے لئیے مادر رحم کو سمجھنا ہوگا جہاں طفل (جنین ) قبل از ولادت ماں کے رحم میں پرورش پاتا ہے ۔
رحم مادر اس نازک جنین کو تمام بیرونی خطرات سے نہ صرف محفوظ رکھتی ہے بلکہ اس حفاظت کی اجرت بھی طلب نہیں کر تی ہے،یہ حفاظت بے لوث ہوتی ہے ۔
رحم مادر جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی نشو و نماء کرتی ہے ۔
یہ نشو و نماء ہر وقت ہوتی ہے ۔
رحمت کی ان صفات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ
رحمانیت قدرت کی بے پایاں بلا اجر محفوظ نشو و نماء کا نام ہے ۔ اس لئیے رحمان کے معنی ہونگے ایسی رحمت جو بن مانگے بے پایاں بلا مشقت ملے ۔ اور رحیم کے معنی ہونگے اعمال کے نتائج میں دائما رحمت کے پہلو کا موجود ہونا ۔ |
| |
| |
| 3 | مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ | |
| | جو اس دور کا مالک ہے جبکہ احتساب ہوتا ہے۔ |
| |
| مباحث :۔
یہا ںپر ہی دین کی وضاحت ہو جائے تو بہتر ہے ۔ لفظ دین کامادہ دی ن ہے ۔ جس کے مختلف معنی ہیں ۔جن میں
۱۔۔فرمانبرداری ۔،جھکنا ، ۔،عاجزی کا اظہار کرنا ۔،۲۔۔حساب کرنا یا لینا ۔،کسی فعل کا بدلہ دینا ۔، ۳۔۔لین دین کرنا ۔۔۔۔۔۔۔شامل ہیں ۔
قرآن کی اصطلاح میں دین کی تعریف ہے انسانیت کی بھلائی کے لئیے کام کرنا ، انسانوں کے حقوق کا استحصال نہ ہونے دینا ۔سورہ الماعون مین بڑے خوبصورت انداز سے دین کو جھٹلانےوالے کا بیان وراد ہوا ہے ، اس سے اندازہ لگائیے کہ دین کس کس اعمال کا نام ہے جو دین کی تکذیب کرنے والا نہیں کرتا ہے ۔
أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (١)فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ (٢)وَلا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (٣)فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (٤)
الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ (٥)الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ (٦)وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (٧)
ترجمہ :۔۔۔۔کیا تم نے غور کیا اس شخص کے بارے میں جو دین کو جھٹلاتا ہے ۔یہ وہ شخص ہے جوبے سہارہ کو دھکے دیتا ہے ،اور ضرورتمندوں کی حاجت روائی کا کوئی انتظام نہ خود کرتا ہے اور نہ اسکی دوسروں کوترغیب دیتا ہے ۔ پس ایسے نظام کے ذمہ دار افراد کی تباہی و بربادی ہے جو اپنی ربوبیت عامہ کی ذمہ داری میں کاہلی ،سستی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں ،۔یہ وہ لوگ ہیں جو صرف دکھوا کرتے ہیں ،۔اور ہر اس ظرورت کو جو ہر انسان کو خود بہم پہنچنی چاہئیے روکے رکھتے ہیں ۔
اس سورہ سے خود بہ خود واضح ہو گیا کہ قرآن کا دین انسانیت کی فلاح اور انکی نشو و نماء کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔اس دین میں اللہ کی پرستش کا کوئی تصور نہیں ملتا بلکہ انسانیت کی بہبود کے لئیے ایک نظام ملتا ہے ۔ |
| |
| |
| | اس لئے اس مشاہدہ اور نتائج پر پہنچنے کے بعد وہ یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے۔ کہ وہ اگر کسی کے احکامات کا پابند ہے تو وہ رب ہی ہے۔ اس لئے وہ اعتراف کرتا ہے کہ |
| |
| 4 | إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ | |
| | ہم تیری ہی فرمانبرداری کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ |
| |
| مباحث:۔
اسی مقام پر یہ بھی واضح کر لیا جائے کہ عبادت یا عبدیت سے کیا مراد ہے ۔ نعبد کا مادہ ع ب د ہے جس کے معنی ہیں احکامات کی تابعداری کرنے والا ۔ تا بعدار ایک اچھا قانون پسند شہری بھی ہوتا ہے اور ایک وہ شخص بھی ہو سکتا ہے جس کو اسکی مجبوری کی وجہ سے زبردستی محکوم بنا لیا گیا ہو ۔
قرآن کا مقصود پہلا شخص ہے جو قوانین کی تا بعداری کرتا ہے ۔قرآن کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسان کو مجبور کرکے اپنے حکم کا بندہ بنانے کو بندگی نہیں کہتا ہے ۔
اس اعتراف کے بعد ایک خواہش پیدا ہوتی ہے جس کا وہ اظہار بھی کرتا ہے۔ |
| |
| |
| 5 | اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ | |
| | ہم کو ایک استقامت و استحکام والے ضابطے کی رہنمائی کر۔ |
| |
| مباحث:۔
مسلمان روزانہ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا مانگتے ہیں اور ساری عمر مانگتے ہی رہتے ہیں ،پتہ نہیں کیوں انکو الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ساری عمر نہیں ملتی ۔اسکی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ مسلمان قرآن سے بے بہرہ ہو گیا ہے ۔اسے روایات میں الجھا کر قرآن سے دور کر دیا گیاہے ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ صراط مستقیم کیا ہے ۔ سورہ الانعام کی آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳ حاضر خدمت ہیں جس میں الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کو واضح کردیا گیا ہے ۔ ۔نمازی نماز میں صراط مستقیم کی ہدایت کی آرزو مرتے دم تک کرتا رہتا ہے ،لیکن کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ قرآن کھول کر دیکھ لے کہ قرآن نے صراط مستقیم کو کس طرح بیان کیا ہے۔
قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ مِنْ إِمْلاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ O وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ O وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
کہو کہ آؤ میں تمہیں بتاؤں جو تمہارے رب نے تم پرحرام کیا ہے ۔۔۔۔
کہ تم اپنے رب کے ساتھ کچھ بھی شرک کرو ،اور یہ کہ
۱ ۔۔۔۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرو ،
۲۔۔۔ اور اپنی اولاد کو کسی تنگ دستی کی وجہ سے ہلاکت و بربادی میں ڈالو ،ہم تم کو بھی ضروریات زندگی بہم پہچاتے ہیں اور انہیں بھی ،
۳۔۔۔اور فواحش ( غیر از قرآن تعلیمات )کے خواہ ظاہر ہوں یا ڈھکے ہو ئے ،قریب بھی نہ پھٹکنا
۴۔۔۔اورکسی ایسے شخص کے ساتھ لڑائی نہ کرنا جس سے لڑائی کرنا قوانین الہی نے روکا ہو سوائے حقوق کی بنیاد پر
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ یہ وہ احکامات ہیں جن کا تم کو حکم دیا جاتا ہے،تاکہ تم عقل استعمال کرو ۔
۵۔۔۔یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جانا سوائے حسن کارانہ انداز سے یہان تک کہ وہ بلوغت کو پہنچیں ۔
۶۔۔۔اور اپنے ناپ تول کو پورا رکھو انصاف کے ساتھ ،ہم کسی کو بھی مکلف نہیں ٹہراتے ہیں سوائے اس کی وسعت کے مطابق ،
۷۔۔اور جب بھی کوئی بات کرو تو عدل کرو خواہ اپنے قریبی کیوں نہ ہوں ۔
۸۔۔اور اللہ کے ساتھ کئے گئے عہد کو پورا کرو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ا حکامات تم کو اس لئے دئیے جا رہے ہیں تاکہ تم یاد رکھو
۹۔۔یہ میری صراط مستقیم ہے پس اس کی اتباع کرو اور کسی دوسرری راہ کی اتباع نہ کرنا کہ اس کے ساتھ تم کو اللہ کر راستے سے فرق کر دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تم کو اس لئیے حکم دیا جارہا ہے کہ تم متقی بنو ۔
ماحاصل ؛۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ لیجئیے اللہ کی صراط مستقیم میں کو ئی وہ چیز نہیں ہے جو مولوی کے مروجہ اسلام میں بتائی جاتی ہے ۔
|
| |
| |
| 6 | صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ | |
| | ایسے لوگوں کا راستہ جس پر تو نے نعمتیں کیں ہوں۔ |
| |
| |
| 7 | غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ | |
| | جن پرنہ تو تیرا غضب ہو اور نہ ہی وہ گمراہ ہوئے ۔ |
| |
| ماحاصل
سورۃ الفاتحہ انسان کی وہ خواہش ہے جو اس کے دل میں کائنات کے مشاہدے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ وہ ساری کائنات میں اور تمام مخلوقات کے لئے نظام ربوبیت کو پاتا ہے۔ لیکن وہ دیکھتا ہے کہ انسانوں میں اس نظم کا فقدان ہے اس لئے وہ ایک خواہش محسوس کرتا ہے جس کا اظہار اس نے سورۃ الفاتحہ میں کیا ہے۔
|
| |
| View Members Questions/Comments | |