ٹیلی فون پر پوچھئے
اگر آپ قرآن سے متعلق اپنے کسی سوال کا جواب ڈاکٹر قمر زمان صاحب سے براہ راست پوچھنا چاہیں تو اس فون نمبر پر رابطہ کیجئے:
+92 333 4901214
Every Saturday
at 00.00 to 02.00 (PST)
USEFULL LINKS
An online book source

www.aboutquran.com
www.tanzil.info
قرآن ہی کیوں؟
دنیا میں ہر وہ انسان جو کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے اپنی کتاب کو الہامی یعنی خالق کی دی ہوئی تصور کرتا ہے اور اسے عبادات کی کتاب سمجھتا ہے۔ اس لئے اگر یہ دعویٰ مسلمانوں نے دہرا دیا تو کونسی قیامت آگئی۔ مسلمان بھی وہی بات کر رہے ہیں جو دوسرے مذاہب والے کہہ رہے ہیں۔ دوسرے لوگ اپنی بات کہتے رہیں ہم اپنی بات کہتے رہیں گے کسی کو ہم سے اور ہمیں کسی سے کیا لینا دینا ۔
لیکن نہیں۔۔!
آج علماء اسلام ان کی کتاب کو الہامی نہیں بلکہ انسانی کہتے ہیں اور ان میں تحریفات نکالنے کے درپے ہیں۔ انہیں اصرار ہے کہ ہماری کتاب ہی سچی ہے اور باقی تمام جھوٹی ہیں اور اسی بنیاد پر باہم دست و گریباں ہیں اور ایک دوسرے کا خون خرابا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایک انسان دوست شخص کبھی بھی مذہب کی بنیاد پر خون خرابا قبول نہیں کر سکتا۔ جس کا ردعمل اسے مجبور کرتا ہے کے وہ حقیقت جانے اور اس قتل و غارت گری کو روکے اور دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے۔ اس لئے آج بحثیت مسلمان ہرایک کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی کتاب سے حقائق کو معلوم کرے اور اسی لئے ہم قرآن کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
ہمارے اسلاف نے احادیث ، فقہ اور قصے کہانیوں کے زیر اثر جو مفاہیم دئیے ہیں ہم ان کی چھانٹ پھٹک کرنا چاہتے ہیں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔ اس تحقیق میں خلوص نیت کے ساتھ ساتھ غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ حقیقتاتحقیق وہی ہوتی ہے جو خلوص نیت سے کی جائے جس میں کسی طرف جھکاؤ نہ ہو جو اپنی اچھائیوں اور برائیوں پر نظر رکھے۔ جو صحیح کے امکان کے ساتھ غلطی کا بھی امکان ذہن میں رکھے۔
دراصل اغیار کی تحقیق قرآن پر نہیں بلکہ اس کے تراجم اور مفاہیم کی بنیاد پر ہے۔ اس لئے ہمیں ان تراجم اور مفاہیم سے بالا تر ہو کر اپنی کتاب کو دیکھنا ہوگا کہ خالص عربی قوائد اور لغت کی بنیاد پر کیا ترجمہ اور مفہوم سامنے آتا ہے۔ اس لئے اس سوال کا جواب کہ ۔۔۔
قرآن ہی کیوں ؟
بہت سادہ ہے کہ۔۔۔۔
ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے مگر ہمیں اپنے مذہب میں خود بہت سی خامیاں نظر آرہی ہیں جسکی وجہ سے آج ہم دنیا کی نظر میں انتہائی وحشی قوم قرار دئے جا چکے ہیں انکی نطر میں ہمارے کوئی اصول و پیمانے نہیں ہیں۔
ہماری تمام تر قرآنی تفاسیر ناموں کے فرق سے ایک ہی جیسے بے مقصد واقعات اور قصے کہانیوں سے بھری پڑی ہیں جو کہ یونان اور روما کے دیومالائی مذاہب میں بھی موجود ہیں جن کا چربہ آج عیسائیت اور یہودیت شکل میں موجود ہیں۔
ہماری احادیث بھی جو کے اسی قسم کے ناقابل یقین واقعات اور کہانیوں سے بھری پڑی ہیں جن کی بنیاد پر مختلف فقہائے بنائی گئی ہیں جنہوں نے امت کو کئی فرقوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ انہی احادیث و فقہوں کی بنیاد پر ہر فرقہ خود کو صحیح اور دوسرے کو کافر تک قرار دینے میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔

اس لئے مجبوراً ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہماری کتاب بھی یہی کچھ کہہ رہی ہے؟ اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہماری کتاب الہامی کتاب ہے تو پھر کیا وجہ ہے کے ہم اس کتاب کو پس پشت ڈال کر دیگر کتابوں کو اٹھائے پھرتے ہیں اورجن کی وجہ سے اس کتاب میں دیئے گئے واضح احکامات کو ماننے سے بھی انکاری ہیں۔اور اگر بات کچھ اور ہے تو پھر حقیقت کیا ہے؟
اسی حقیقت کی تلاش میں شروع کیا گیا یہ سفر پوری آب و تاب سے جاری و ساری ہے۔ آج دنیا کے کونے کونے سے رجوع الی القرآن کی جو سدائیں سننے میں آ رہی ہیں ان سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اب وہ منزل دور نہیں جب قرآن ایک بار پھر ان تمام جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوگا اور ہر وہ شخص جو مسلمان کہلائے گا وہ امن اور سلامتی دینے والا نظر آئے گا۔
 احباب کو بھیجئے 
اگر آپ یہ صفحہ اپنے احباب کو بذریعہ ای میل بھیجنا چاہیں تو
یہاں کلک کریں.....
  کیا آپ کو معلوم ہے ؟
کتب احادیث
تفاسیر
سیرت رسول
تاریخ
ادب جاہلیہ
سب کے سب دوسری صدی ہجری کے بعد میں وجود میں آئی ہیں
سوچئے اور غور کیجئے ۔۔۔۔۔۔کہ
کیا ان دو صدیوں تک اسلامی ریاستوں میں کوئی علمی تحریری کام نہیں کیا گیا؟
کیا اسلامی ریاستوں کی عدالتوں نے تمام فیصلے زبانی کلامی جاری کئے؟
کیا تمام جنگوں میں محاذ پر احکامات بھی زبانی کلامی بھیجے گئے؟
یا
ان دو صدیوں کا تمام تر تحریری ریکارڈ کسی سازش کے تحت ضائع کیا گیا اور اس کی جگہ وہ مواد لایا گیا جو آج نہ صرف دین بن گیا ھے بلکہ جس کی وجہ سے قرآن کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

       HOME  BOOKS  ARTICLES  ABOUT US  AIM AASTANABLOG    
 AASTANA.COM © 2005-2010
NEWS LETTER: TELL A FRIEND: BOOKMARK THIS SITE: CONTACT US: