آستانہ  بلاگ
بحث و مباحثہ اگر حصول علم کا باعث بنے تو کسی نعمت سے کم نہیں۔  اسی مقصد  کو پیش نظر رکھتے ہوئے آستانہ ڈاٹ کام پر آستانہ بلاگ کا خوبصورت اضافہ کیا گیا ہے۔ جہاں پر آپ نہ صرف کتابوں اور مضامین پر تبصرے بلکہ ان پر کئے جانے والے اعترازات کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن سے متعلق پیش کئے جانے والے سوالات اور ان کے جوابات بھی جان سکتے ہیں۔ آستانہ بلاگ میں جانے کے لئے
  ٹیلی فون پر پوچھئے
اگر آپ قرآن سے متعلق اپنے کسی سوال کا جواب ڈاکٹر قمر زمان صاحب سے براہ راست پوچھنا چاہیں تو اس فون نمبر پر رابطہ کیجئے:
+92 333 4901214
Every Saturday
at 00.00 to 02.00 (PST)
سلسلہ دعوت قرآنی
سلسلہ دعوت قرآنی کا مقصد نہ تو کوئی جماعت بنانا ہے اور نہ ہی کسی فرقے کی داغ بیل ڈالنا ہے تمام انسانیت ہماری جماعت ہے ہمارا کسی مذہب والے یا مسلک سے کوئی جھگڑا نہیں جو بھی سلامتی دینے میں یقین رکھتا ہے وہ مسلم ہے اور ہمارا ساتھی ہے اور جو بھی امن چاہتا ہے وہ مومن ہے اور ہمارا بھائی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے۔۔۔
’’کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَاحِدَۃ‘‘
’’تمام انسانیت ایک ہے، تھی اور رہے گی‘‘
’’فَبَعْثَ اللّٰہُ النَّبِیِّنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ‘‘
’’پس اللہ نے مبعوث کیا نبیوں کو بطور خوشخبری دینے والا اور پیش آگاہ کرنے والا‘‘
’’وَاَنْزَلَ مَعَھُمْ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیْحَکَمَ بَیْنَ النَّاسِ مِمَّا اخْتَلَفُوْافِیْہِ‘‘
’’اور عطا کی ان کو ایک کتاب حق کے ساتھ تاکہ وہ فیصلہ کرے لوگوں کے درمیان ان معاملات میں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔‘‘
اس لیے تمام انسانیت ایک ہی تھی ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گی۔ یہ تو ہمارے آپس کے اختلافات ہیں جو ہم نے خود پیدا کئے ہیں اور جن کی وجہ سے ہم علیحدہ علیحدہ ہوگئے ہیں۔
ہر نبی نے انسانیت کو محبت پیار امن اور شانتی کا پیغام دیا ہے۔ کیونکہ ہم ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوگئے ہیں اور ہمارے ہاتھ میں قرآن ہے اس لیے ہم قرآن لے کر اٹھے ہیں۔ اور تمام انسانیت کو امن اور بھائی چارہ کی دعوت دیتے ہیں۔
قرآن کسی خاص فرقے مذہب یا طبقے کو مخاطب نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کسی مسلمان کے مذہب کو تقویت دیتا ہے وہ تو پوری انسانیت کو مخاطب کرتا ہے اسی لئے سلسلہ دعوت قرآنی بھی کسی خاص فرقے یا طبقے یا مذہب کو مخاطب نہیں کر رہا۔ یہ سب سے پہلے خود اپنے گریبان مین جھانکنے کی دعوت دیتا ہے کہ دیکھئے قرآن آپ کو خود اپنی غلطیوں کا احساس دلانے کے لئے احکامات الٰہی کی طرف بلارہا ہے۔ اس لیے یہی ہماری دعوت ہے یعنی محبت، امن اور سلامتی کی دعوت اور یہی ہمارا مشن ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر62 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔۔۔
’’اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُواوَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَلنَّصٰرٰی وَالصَّابِءِیْنَ مَنَ اٰمَنْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَرَبِّھِمْ وَلَا خُوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ o‘‘
’’بلاشک وشبہ وہ لوگ جو اہل امن و ایمان ہیں اور وہ لوگ جو یہودی ہیں یا نصرانی یا کسی بھی مذہب کے ہیں جو بھی اللہ کے ساتھ اہل ایمان ہوا اور یوم الآخرۃ میں بھی اہل ایمان رہا اور جس نے اصلاحی عمل کئے انکے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور ان کو نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ ملال کرتے ہیں۔‘‘
یعنی قرآن کا یہ مسئلہ ہی نہیں ہے کہ کوئی یہودی کیوں ہے یا کوئی عیسائی کیوں ہے یا یہ کہ کوئی کس مذہب پر عمل پیرا ہے۔ قرآن تو ہر مذہب والے کو صرف ایک ہی نصیحت کر رہا ہے کہ اگر کوئی شخص خالق کے احکامات کے ساتھ اہل ایمان ہو یعنی امن قائم کرنے والا ہو اور معاشرہ میں اصلاحی عمل کرے تو ایسے شخص کا اجر اس کے رب کے پاس محفوظ ہے اور وہ کسی بھی کیے پر افسوس نہیں کرتا اور نہ ہی آئندہ کا خوف اسے تنگ کرتا ہے۔
 احباب کو بھیجئے 
اگر آپ یہ صفحہ اپنے احباب کو بذریعہ ای میل بھیجنا چاہیں تو
یہاں کلک کریں.....
  کیا آپ کو معلوم ہے ؟
کتب احادیث
تفاسیر
سیرت رسول
تاریخ
ادب جاہلیہ
سب کے سب دوسری صدی ہجری کے بعد میں وجود میں آئی ہیں
سوچئے اور غور کیجئے ۔۔۔۔۔۔کہ
کیا ان دو صدیوں تک اسلامی ریاستوں میں کوئی علمی تحریری کام نہیں کیا گیا؟
کیا اسلامی ریاستوں کی عدالتوں نے تمام فیصلے زبانی کلامی جاری کئے؟
کیا تمام جنگوں میں محاذ پر احکامات بھی زبانی کلامی بھیجے گئے؟
یا
ان دو صدیوں کا تمام تر تحریری ریکارڈ کسی سازش کے تحت ضائع کیا گیا اور اس کی جگہ وہ مواد لایا گیا جو آج نہ صرف دین بن گیا ھے بلکہ جس کی وجہ سے قرآن کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

       HOME  BOOKS  ARTICLES  ABOUT US  AIM AASTANABLOG    
 AASTANA.COM © 2005-2010
NEWS LETTER: TELL A FRIEND: BOOKMARK THIS SITE: CONTACT US: