ٹیلی فون پر پوچھئے
اگر آپ قرآن سے متعلق اپنے کسی سوال کا جواب ڈاکٹر قمر زمان صاحب سے براہ راست پوچھنا چاہیں تو اس فون نمبر پر رابطہ کیجئے:
+92 333 4901214
Every Saturday
at 00.00 to 02.00 (PST)
کتابیں
سلسلہ دعوت قرآنی کے پلیٹ فارم سے شائع شدہ کتب و مضامین ابلاغ قرآن کے مقصد کو پیش نظر رکھ کر پیش کی جا تی ہیں ۔ مؤقف سے اختلاف آپ کا حق ہے مگر یہ اختلا ف خالص قرآنی ہونا چاہئے۔ مثبت تنقید ہمارے لئے باعث حصول علم ہوگی۔
سلسلہ دعوت قرآنی نہ تو کسی فرقے سے متعلق ہے اور نہ ہی کسی شخصیت یا اس کے افکار کی تعلیم کا نام ہے۔ اگر آپ نے بھی قرآن پر کوئی تحقیق کی ہو اور اس کو دوسروں تک پہنچانا چاہیں تو ہمارے صفحات آپ کے لئے حاضر ہیں۔
سلسلہ دعوت قرآنی کی طباعت شدہ کتب و مضامین ان قارئیں کے لئے جو انٹر نیٹ کی سہولت سے استفادہ نہیں کر سکتے بلا معاوضہ دستیاب ہیں اور پاکستان بھر میں مفت ارسال کی جا سکتی ہیں۔
حقیقت حج تحریر و تحقیق   ڈاکٹر قمر زمان

اشاعت اوّل:1996 ,11

ترمیم:2010 ,6
اسلام کے علماء کے مطابق حج پہلے سے عربوں میں موجود تھا، کعبہ بھی موجود تھا اور شیاطین کے موجودہ تین ستون بھی موجود تھے البتہ قد میں وہ اتنے اونچے نہ تھے، میدان عرفات بھی ایسا ہی تھا البتہ پہلے یہ سب لوگوں کے ناموں سے منسوب تھے اب اسے بدل کر اللہ کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ مقامات وہی رہے طریقے وہی رہے مجسمات وہی رہے فرق کیا پڑا۔۔۔۔؟
آیئے آج اس مقدس اجتماع کو جسے حج کہا جاتا ہے اور جس پر انسان اپنی ساری عمر کی خون پسینے کی کمائی لٹا دیتا ہے، دیکھتے ہیں کہ اس کے متعلق قرآن میں کیا احکامات ہیں۔
قرآن کے مختلف تراجم میں 23 مقامات پر ’’ح ج ج‘‘ سے بننے والے الفاظ کو بنیادی معنوں میں ہی ترجمہ کیا گیا ہے اور کہیں بھی عبادت کے حوالے سے مفہوم نہیں لیا گیا۔ البتہ 11 مقامات ایسے ہیں جہاں ’’ح ج ج ‘‘سے بنے لفظ حج کو چند مقامات کی زیارت اور مخصوص انداز سے بعض مقامات پر بھاگ دوڑ کو عبادت سے موسوم کیا گیا ہے اور وہی ہمارے اس کتابچے کا موضوع ہے۔
اس خاص بھاگ دوڑ اور چند مقامات کی زیارت کو چند کہانیوں کے گرد گھمایا گیا ہے جس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے ان کہانیوں سے پرہیز کرتے ہوئے صرف قرآن کی آیات تک ہی محدود رہیں گے تاکہ ثابت کیا جائے کہ مروجہ حج قرآن کا نہیں بلکہ قصے کہانیوں کا حج ہے۔
Read & Download This Book
Move Next
اس کتاب کے مطالعہ کے لئے آپ کے کمپیوٹر میں ایڈوب ریڈر کی موجودگی ضروری ہے۔ اگر آپ کے کمپیوٹر میں ایڈوب ریڈر انسٹال نہیں ہے تو آپ اس سافٹ ویر کو فری انسٹال کر سکتے
سوال و جواب   
اگر آپ اس کتاب ” حقیقت حج“ سے متعلق کوئی سوال پوچھنا چاہیں یا اپنی رائے دینا چاہیں تو آستانہ بلاگ کے صفحات آپ کے لئے حاضر ہیں۔ کوشش کیجئے کہ سوال مختصر اور موضوع سے متعلق ہو۔ آپکی طرف سے پوچھے گئے سوالات یا مثبت اعترازات ہمارے اور دیگر پڑہنے والوں کے لئے سوچ کی نئی راہیں کھولتے ہیں جن سے سیکھنے کے مزید مواقع ملتے ہیں۔سوال پوچھنے کے لئے یہاں کلک کریں....
حقیقت حج
سے متعلق اب تک پوچھے گئے سوالات اور ان سے متعلق آستانہ بلاگ کے ممبرز کی رائے.....
Does anyone know what Safa and Marwa are? Are they meanings behind theses words? My Urdu is not good so I cannot read the book on Haqiqat E Haj By: faisal on 8/28/2010
Salam! Mera sawal hai ka allah tala ne sirf mard ko paigamber bana kay kyun bheja aurat ko ye darja kyun nahe dia iski kya wajohat hain ??? By: foziazubair on 6/29/2010
salaam, 5:96 says "all fish is made halal for you". first question is why is fish made halal when "all food is halal for you". & how does it provide for the hajj (debate). is this fish also mistranslated. kindly translate the verse in enlish. By: shireen on 4/22/2010
Salam Why does the Quran identifies the first place for the Pilgrimage as “Bakk’a” and not Macc'a?Cant find Macc'a ever being called Bacc'a....bacc'a is in Jerusalem.... By: bob on 4/8/2010
Respected Dr. Qamarzaman,the UN assembly debate addressing any humantarian problem or any globle issue(if for the bettterment of mankind) could call "HAJJ" as per Quraanic terminology,if performed according to the Quraanin instructions? By: moazzam on 4/8/2010
hajj k unwan me dr. sahib ne sura e baqara ki ayat number 196 ko nazar andaz kia he, is ki wajuhat pe rpshni dali jaey, or agar kitab k ainda edition me is ayat ko madde nazar rakha jaey to parhne walon k liye mazid asani ho jaey gi. wassalam! By: zahir on 1/10/2010
 فہرست کتب 
 احباب کو بھیجئے 
اگر آپ یہ صفحہ اپنے احباب کو بذریعہ ای میل بھیجنا چاہیں تو
یہاں کلک کریں.....
  کیا آپ کو معلوم ہے ؟
کتب احادیث
تفاسیر
سیرت رسول
تاریخ
ادب جاہلیہ
سب کے سب دوسری صدی ہجری کے بعد میں وجود میں آئی ہیں
سوچئے اور غور کیجئے ۔۔۔۔۔۔کہ
کیا ان دو صدیوں تک اسلامی ریاستوں میں کوئی علمی تحریری کام نہیں کیا گیا؟
کیا اسلامی ریاستوں کی عدالتوں نے تمام فیصلے زبانی کلامی جاری کئے؟
کیا تمام جنگوں میں محاذ پر احکامات بھی زبانی کلامی بھیجے گئے؟
یا
ان دو صدیوں کا تمام تر تحریری ریکارڈ کسی سازش کے تحت ضائع کیا گیا اور اس کی جگہ وہ مواد لایا گیا جو آج نہ صرف دین بن گیا ھے بلکہ جس کی وجہ سے قرآن کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

       HOME  BOOKS  ARTICLES  ABOUT US  AIM AASTANABLOG    
 AASTANA.COM © 2005-2010
NEWS LETTER: TELL A FRIEND: BOOKMARK THIS SITE: CONTACT US: